Wed - 2018 Nov 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186216
Published : 14/3/2017 19:15

زندگى كا حساس ترین دور

حضرت علی علیہ السلام نے اپنے فرزند ارجمند امام حسن علیہ السلام سے ارشاد فرمایا:بچے كا دل خالى زمین كى مانند ہوتا ہے جو چیز بھى اس میں ڈالى جائے اسے قبول كرلیتا ہے، اسى لیے اس سے پہلے كہ تمہارا دل سخت اور مشغول ہوجائے میں نے تمہیں مؤدب بنانے كے لیے قدم اٹھایا۔


ولایت پورٹل:
زندگى كا حساس اور اہم ترین دور بچپن كا زمانہ ہے،ہر فرد كى آئندہ شخصیت كى بنیاد اسى زمانے میں پڑتى ہے اور ایك خاص شكل و صورت اختیار كرتى ہے كوئی چھوٹا سا انحراف یا سہل انگارى ممكن ہے بچے كى آئندہ كى شخصیت كو ناقابل تلافى نقصان پہنچادے،بالخصوص زندگى كے ابتدائی تین سالوں میں كہ جو بہت ہى حساس اور اہم دورہوتا ہے۔ شاید سب لوگ یا اكثر لوگ بچے كى شیر خوارگى كے زمانے سے بالكل غافل ہوتے ہیں اور اس كى اہمیت كے بالكل قائل نہیں ہوتے كہتے ہیں:
بچے خصوصاً نو مولود كى سمجھ میں كوئی بات نہیں آتى،نہ كوئی بات كرسكتا ہے اور نہ ہى سمجھ سكتا ہے اتنا بے بس ہوتا ہے كہ اپنے پیشاب پاخانے پر اس كا بس نہیں چلتا،اس میں تعلیم و تربیت كى كیا قابلیت ہوگى۔
یہ سمجھ كر بچپن كا زمانہ بالكل بے توجہى كے سپرد كردیا جاتا ہے جس مسئلہ كے بارے میں بہت بڑا اشتباہ كیا جاتا ہے وہ یہى بچے كى ابتدائی زندگى ہے كہ جو اس كا انتہائی اہم اور احساس زمانہ ہوتا ہے،اسى بظاہر سادہ سے زمانے میں بچہ شكل اختیار كرتا ہے اور اس كى اخلاقى ،معاشرتى اور دینى شخصیت كى بنیاد پڑتى ہے۔
اس ابتدائی تین سال كے عرصے میں بچہ سینكڑوں الفاظ یادكرتا ہے ان كے معانى سے آشنا ہوتا ہے،اچھائی برائی،دوستى دشمنی،محبت نفرت،خوبصورتى و بد صورتى چھوٹے ، بڑے، مختلف رنگوں ، مختلف ذائقوں اور اس طرح كى بہت سى چیزوں كو خوب سمجھنے لگتا ہے،دیكھنے، سننے اور بلونے كا انداز سیكھتا ہے، سوچنے كے انداز سے آشنا ہوتا ہے گھٹنوں كے بل چلنے،بیٹھنے، چلنے پھرنے، رونے ہنسنے جیسے دسیوں كام یادكرتا ہے،چیزوں اور لوگوں كو پہچاننے لگتا ہے اور ان میں فرق كرنے لگتا ہے،دسیوں نئی نئی چیزیں سیكھتا ہے اور ان كا عادى ہوتا چلا جاتا ہے،ان تین سال كى مدت میں ہزاروں اچھے برے واقعات بچے كى حساس اور لطیف روح پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اس كى آئندہ كى روش كا تعین كرتے ہیں۔
اس سب كے باوجود بہت ہى كم كوئی ایسا شخص ہوتا ہے كہ جسے اپنى زندگى كے ابتدائی تین سالوں میں سے كچھ یا دہو اس دوران كے تمام واقعات پر فراموشى اور نسیان كا پردہ چھا جاتا ہے لیكن بچے كى طبیعت پر اثر باقى رہ جاتا ہے اور اس كى آئندہ كى زندگى ایك حد تك واضح ہوجاتى ہے،بہت سارى نفسیاتى بیماریاں ، خوف ، اضطراب، غصّہ اور ناامیدیاں اسى زمانے كے واقعات سے جنم لیتى ہیں۔
ایك ماہر نفسیات سكھتے ہیں :
اگر بچے كى شخصیت زندگى كى ابتدائی سالوں میں مضبوط نہ ہو سكى تو اس میں آئندہ كى ذمہ داریوں كا مقابلہ كرنے كى طاقت نہیں ہوگى اور وہ مختلف نفسیاتى خرابیوں كا شكار ہوجائے گا،اسى وجہ سے عموماً یہ بات دیكھنے میں آتى ہے كہ بہت سى بنیادى نفسیاتى پریشانیوں كا سرچشمہ زندگى كے ابتدائی تین چار سال ہى ہوتے ہیں ... جب بھى كوئی ماہر نفسیاتى كسى اعصابى بیمارى كے نفساتى اسباب كا تجزیہ و تحلیل كرتا ہے تو یہ بات سمجھتا ہے كہ اس شخص كى ابتدائی زندگى میں ایسے عوامل موجود تھے جواب مشكلات سے اس كے فرار كرنے میں غیر معمولى طور پر مؤثر ہیں _(1)
ڈاكٹر جلالى لكھتے ہیں:
بچے كے معاشرتى چال چلن كى بنیاد زندگى كہ پہلے سال ہى میں پڑجاتى ہے۔
... كى طرف میلان یا عدم میلان اسى زمانے میں ظاہر ہوجاتا ہے _ (2)
اس بناپر ذمہ دار اور سمجھدار ماں باپ اس حساس اور اہم دور كو عدم توجہى كا شكار نہیں ہونے دیتے اور بچے كى تربیت كو بعد كے زمانے پر ملتوى نہیں كردیتے بلكہ تعلیم و تربیت آغاز ولادت ہى سے كردیتے ہیں۔
بعض دانشور كہتے ہیں:
بچے كى تربیت ولادت ہى سے شروع ہوجاتى ہے بڑے یا بچے ان سے جو برتاؤ كرتے ہیں اور جیسى توجہ انہیں دیتے ہیں وہى ان كى پہلى تربیت قرار پاتى ہے،اسى طرح وہ مناظر جنہیں بچہ دیكھتا ہے اور وہ آواز یں جنہیں وہ سنتا ہے ، یونہى تمام وہ تاثیرات جو حواس كے ذریعے سے اس كے اعصاب اور ذہن پر مرتب ہوتى ہیں اس كى طرز تربیت پر اثر انداز ہوتى ہیں، بہت سى معلومات اور تجربات جو بچے كى عادات كى تشكیل اور اس كے مستقبل كے اخلاق كى تعمیر میں اثر انداز ہوتے ہیں وہ ابتدائی زندگى ہى سے متعلق ہوتے ہیں،ابتدائے ولادت سے بڑے جو سلوك بچوں كے ساتھ رواركھتے ہیں یہ ان كى معلومات اور تجربات میں حتمى طور پر مؤثر ہوتا ہے اور تربیت و تعلیم كے عوامل میں سے شمار ہوتا ہے۔(3)
رسل رقم طراز ہے :
تربیت اخلاق كے لیے صحیح اور مناسب موقع لحظہ تولّد ہے كیونكہ یہ ایسا وقت ہوتا ہے كہ جب مایوسى كے بغیر تربیت كا عمل شروع كیا جاسكتاہے،اگر تربیت اس دور كے بعد شروع كى گئی تو پھر مخالف عادات كے ساتھ بھى جنگ کرنی پڑے گی(4)
حضرت على علیہ السلام نے اپنے بیٹے امام حسن علیہ السلام سے فرمایا:«انما قلب الحدیث كالارض الخالیة ما القى فیها من شیء قبلته، فبادرتك بالقلب ان یقسو قلبك و یشتغل لبّك»
ترجمہ:بچے كا دل خالى زمین كى مانند ہوتا ہے جو چیز بھى اس میں ڈالى جائے اسے قبول كرلیتا ہے، اسى لیے اس سے پہلے كہ تمہارا دل سخت اور مشغول ہوجائے میں نے تمہیں مؤدب بنانے كے لیے قدم اٹھایا۔ (5)
........................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
1۔روان شناس كودك و بالغ ،ص 106
2۔روان شناسى كودك ، ص 302
3۔ علم النفس التربوى، ج 1، ص 19
4۔ در تربیت، ص 79
5 ۔وسائل الشیعہ، ج 15 ،ص 157
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 14