Sunday - 2018 Nov 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186261
Published : 18/3/2017 17:46

حضرت زہرا(س) کی نظر میں ازدواجی زندگی کا دستورالعمل

شادی کے پسندیدہ آداب میں سے یہ بھی ہے کہ اولاد شادی کے سلسلہ میں ماں،باپ کی رائے کا احترام کریں اور لڑکے، لڑکیوں کو معلوم ہونا چاہیۓ کہ ان کے ماں باپ اور سرپرستوں کی دلی تمنا یہ ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ کامیابیوں سے ہمکنار ہوتے رہیں لہٰذا شادی کے بارے میں اولاد کو ماں باپ کی را ئےسے چشم پوشی نہیں کرنی چاہیۓ۔


ولایت پورٹل:
اسلامی شادی کے پسندیدہ ترین آداب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ باپ بیٹی سے مشورہ کرے تاکہ وہ آگاہ ہو کر اپنے مثالی شریک حیات کا انتخاب کرے۔
حضرت رسول اکرم(ص)اس نفسیاتی اصول کی رعایت کرتے تھے اور اپنی امت سے فرماتے تھے کہ اس اصول کی رعایت کرے تاکہ وہ جاہلیت والے ظلم و ستم سے دور رہے اور ماں باپ بیٹی سے مشورہ کے بغیر اس کی شادی نہ کریں چنانچہ رسول خدا(ص) نے بھی شادی کے بارے میں اپنی بیٹی سے مشورہ کیا اور فرمایا:
میری لخت جگر فاطمہ! تمہارے ابن عم علی(ع) تم سے شادی کرنا چاہتے ہیں تمہارا کیا خیال ہے؟
جناب فاطمہ(س) نے باپ کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے فرمایا:آپ کی کیا رائے ہے؟
حضرت رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا:«اَذِنَ اللہُ فِیْهِ مِنَ السَّمَاء»۔(۱) آسمان سے خدا نے اس کی اجازت دی ہے۔
فاطمہ سلام اللہ علیہا نے نہایت سنجیدگی اور متانت کے ساتھ جواب دیا:«رَضِیْتُ بِمَارَضِیَ اللہُ لِیْ وَ رَسُوْلُه»
جس سے خدا اور اس کا رسول راضی ہیں اس سے میں بھی راضی ہوں۔
دوسری روایت اس طرح ہے کہ آپ نے فرمایا:«رَضِیْتُ بِاللہِ رَبّاً وَبِکَ یَا اَبَتَاہُ نَبِیّاً وَبِاِبْنِ عَمِّیْ بَعْلاً وَ وَلِیّاً »۔(۲)
اے بابا!میں خدا کے رب ہونے اور آپ کے نبی ہونے اور اپنے ابن عم کے اپنے شوہر اور ولی ہونے پر راضی ہوں۔
باپ کی رائے کا احترام
شادی کے پسندیدہ آداب میں سے یہ بھی ہے کہ اولاد شادی کے سلسلہ میں ماں،باپ کی رائے کا احترام کریں اور لڑکے، لڑکیوں کو معلوم ہونا چاہیۓ کہ ان کے ماں باپ اور سرپرستوں کی دلی تمنا یہ ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ کامیابیوں سے ہمکنار ہوتے رہیں لہٰذا شادی کے بارے میں اولاد کو ماں باپ کی را ئےسے چشم پوشی نہیں کرنی چاہیۓ۔
جب رسول اللہ(ص) نے اپنی بیٹی فاطمہ زہرا(س) سے یہ مشورہ کیاکہ کیا تمہاری شادی علی(ع) سے کردوں تو فاطمہ زہرا(س)نے باپ کا احترام کیا اور آنحضرت(ص) کی رائے کومحترم سمجھتے ہوئے فرمایا:«یاَرَسُوْلَ اللہِ اَنْتَ اَوْلیٰ بِمَاتَرَیٰ»۔(۳)
ائے اللہ کے رسول(ص)! آپ اولیٰ ہیں جو آپ مناسب سمجھیں اسے انجام دیں۔
..........................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔تفسیر امام حسن عسکری(ع)،ص ۳۵۴ ۔
۲۔بحار الانوار،ج ۴۳،ص۱۴۹ ۔
۳۔ریاحین الشریعۃ ،ج۱،ص ۱۰۱،بحار الانوار،ج۴۳،ص ۱۳۳ ۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Nov 18