Sunday - 2018 Nov 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186262
Published : 18/3/2017 17:52

امام کی عصمت

امام کو معصوم ہونا چاہئے تاکہ پیغمبر اکرم(ص) کی جانب سے احکام الٰہی کے بیان کی جو ذمہ داری اس کے حوالہ کی گئی ہے اس میں کوئی غلطی نہ کرے بصورت دیگر احکام الٰہی لوگوں تک نہیں پہنچ سکیں گے اور دین و شریعت کا مقصد حاصل نہ ہو سکے گا اور امام کے وجود سے کوئی فائدہ نہ ہوگابلکہ مقصد کے برعکس نتیجہ حاصل ہوگا،اور یہ حکمت الٰہی کے خلاف ہے۔


ولایت پورٹل:
امامت کی حقیقت،اور اہداف و مقاصد کے پیش نظر ،امام کے صفات کے متعلق شیعہ نقطہ نظریہ واضح ہو جاتاہے اس لئے کہ امامت کی منزلت جتنی عظیم ہے اس کے اہداف اور مقاصد بھی اتنے ہی بلند و اہم ہونگے،اور جتنے مراتب و مقاصد بلند ہونگے اتنے ہی اہم صفات اس میں پائے جائیں گے۔
عصمت امام
امام کو معصوم ہونا چاہئے تاکہ پیغمبر اکرم(ص) کی جانب سے احکام الٰہی کے بیان کی جو ذمہ داری اس کے حوالہ کی گئی ہے اس میں کوئی غلطی نہ کرے بصورت دیگر احکام الٰہی لوگوں تک نہیں پہنچ سکیں گے اور دین و شریعت کا مقصد حاصل نہ ہو سکے گا اور امام کے وجود سے کوئی فائدہ نہ ہوگابلکہ مقصد کے برعکس نتیجہ حاصل ہوگا،اور یہ حکمت الٰہی کے خلاف ہے۔       
امامیہ متکلمین کے نزدیک اس دلیل کی بنیاد یہ ہے کہ شریعت کے احکام کو تحریف و تبدیلی سے محفوظ رکھنا امام کی ذمہ داری ہے یعنی کلام خدا اور احکام الٰہی کے سلسلہ میں جو اقوال ونظریات بیان ہوتے ہیں انہیں امام کے کلام سے ملا کر دیکھا جائے گا اور کلام امام سے موازنہ کے بعد ان کے حق و باطل کا فیصلہ ہوگا اس طرح شریعت میں تحریف نہ ہو سکے گی لیکن اگر امام ہی معصوم عن الخطا نہ ہو تو یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا،چنانچہ علامہ حلی اس دلیل کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:صرف قرآن کریم اور سنت نبوی سے شریعت محفوظ نہیں رہ سکتی اس لئے کہ احکام کی تفصیلات ان دونوں میں بیان نہیں ہوئی ہیں،اجماع مسلمین بھی شریعت کا محافظ نہیں ہو سکتا اس لئے کہ اگر ان کے درمیان کوئی معصوم نہ ہو تو تمام مسلمانوں کا خطا پر اجتماع محال نہیں ہے لہٰذا اس کے علاوہ اورکوئی راستہ نہیں ہے کہ امام ہی محافظ شریعت ہو،اگرامام معصوم نہ ہو تو اس کا کلام صحیح و غلط ،حکم خدا و غیر حکم خدا کا معیار نہیں ہوگا اورتکالیف یعنی احکام الٰہیہ کی پیروی میں مقصد کے بر عکس نتیجہ لازم آئے گا۔(۱)
لہذا ی آیہ کریمہ:«لاَیَنَالُ عَهْدِی الظَّالِمِینَ»۔(۲)بھی امامت کے لئے عصمت کی ضرورت کو ثابت کرتی ہے ۔اس لئے کہ معصیت وگناہ یعنی احکام الٰہیہ سے تجاوز ظلم کا واضح مصداق ہے ۔قرآن کریم اعلان کرتا ہے:«وَمَنْ یَتَعَدَّ حُدُودَ الله فَأُوْلَئِکَ هُمْ الظَّالِمُونَ»۔(۳)
جیسا کہ شرک کو بھی عظیم ظلم کہا گیاہے:«إِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیمٌ»۔(۴)لہٰذا جو شخص ظالم ہو وہ منصب امامت کا حقدار نہیں ہو سکتا ۔
استدلال کی وضاحت:«لاَیَنَالُ عَهْدِی الظَّالِمِینَ» خدا کی جانب سے حضرت ابراہیم کی فرمائش کا جواب ہے کہ آپ نے اپنی ذریت میں امامت جاری رہنے کی درخواست کی تھی۔اس لئے کہ جب خدا نے جانب ابراہیم کو منصب امامت عطا کیا اور فرمایا:«إِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَامًا»تو جناب ابراہیم  نے یہ عظیم مرتبہ اور منصب اپنی ذریت کے لئے بھی طلب کیا اور کہا «قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِی»تب خداوندعالم نے ان کے جواب میں فرمایا:«لاَیَنَالُ عَهْدِی الظَّالِمِینَ» جناب ابراہیم  کی ذریت کو چار گروہ میں تقسیم کر سکتے ہیں۔
۱۔وہ افراد جو زندگی میں ابتداء سے انتہا تک کسی گناہ کے مرتکب نہیں ہوئے اور ظالم کا عنوان ان پر صادق نہیں آتا۔
۲۔ وہ افراد جو زندگی کے ابتدائی دور میں گناہوں کے مرتکب ہوئے لیکن بعد میں استغفار کر لیا اور زندگی کے بقیہ حصہ میں ہر طرح کے ظلم ومعصیت سے دور رہے۔
۳۔دوسرے گروہ کے بر عکس افراد۔
۴۔پہلے گروہ کے برعکس افراد۔
طے ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی ذریت کے آخری دو گروہوں کے لئے ہرگز امامت کی درخواست نہیں کر سکتے اس لئے کہ ایسے افراد اس عظیم المرتبت درجہ کے لئے قطعًا اہل نہیں ہیں اورحضرت ابراہیم علیہ السلام سے یہ بعید ہے کہ آپ ایسے افراد کے لئے امامت کامطالبہ کریں جو پوری زندگی یا زندگی کے آخری دور میں گناہ اور گمراہی میں مبتلا رہے ہوں حالانکہ خود جناب ابراہیم(ع)انسانوں کی ہدایت وسعادت کے ہی خواہاں تھے لہٰذآپ کی درخواست صرف پہلے دوگروہوں کے لئے ہو سکتی ہے اس میں بھی خدا نے دوسرے گروہ کے لئے اعلان کر دیا کہ اسے امامت نہیں مل سکتی اس طرح صرف پہلا گروہ ہی باقی رہا اور یہ کمال عصمت کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا اس لئے کہ کسی انسان کا زندگی کے آغاز سے انجام تک ہر قسم کی خطا ولغزش، گناہان صغیرہ وکبیرہ سے عمداً وسہواً محفوظ رہنا عادتاً محال ہے۔(۵)
بہ الفاظ دیگر «الظالمین»میں دو جہت سے اطلاق وشمولیت پائی جاتی ہے ایک افراد کے لحاظ سے، دوسرے زمانہ کے لحاظ سے اس طرح آیت کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی زمانہ میں جو شخص بھی ظلم(معصیت ونافرمانی)کامرتکب ہوگا منصب امامت سے محروم رہے گاچاہے تمام عمر ایسا رہا ہو یا زندگی کی ابتداء میں یا انتہا میں۔۔۔۔۔لہٰذا یہ احتمال بھی بے بنیاد ہے کہ اگر کوئی انسان گناہ کرنے کے بعد توبہ کرلے اور اس کے بعد گناہ کا مرتکب نہ ہو وہ ظالم نہ ہوگا اور منصب امامت کا اہل ہوگا (۶)
........................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔کشف المراد،بحث امامت، مسئلہ دوم۔
۲۔بقرہ /۱۲۴۔   
۳۔بقرہ/ ۲۲۹۔
۴۔لقمان /۱۳۔
۵۔المیزان، ج۱،ص۲۸۴ملاحظہ فرمائیں۔
۶۔مجمع البیان، ج۱،ص۲۰۲ملاحظہ فرمائیں ۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Nov 18