Thursday - 2018 Nov 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186265
Published : 18/3/2017 18:35

ابن تیمیہ کا کفر و قتل کا کارخانہ

ابن تیمیہ اس شخص کے بارے میں کہتا ہے کہ جو نماز ظہر کو مغرب تک اور نماز مغرب کو آدھی رات تک تاخیر سے پڑھے گویا وہ کافر ہے، اور اگر کوئی اس کام کو کفر نہ مانے، تو اس کی بھی گردن اڑادی جائے۔

ولایت پورٹل:ابن تیمیہ اس شخص کے بارے میں کہتا ہے کہ جو نماز ظہر کو مغرب تک اور نماز مغرب کو آدھی رات تک تاخیر سے پڑھے گویا وہ کافر ہے، اور اگر کوئی اس کام کو کفر نہ مانے، تو اس کی بھی گردن اڑادی جائے۔(۱)
نیزاسی طرح کہتا ہے: اگر کوئی شخص چاہے وہ مرد ہو یا عورت نماز نہ پڑھے تو اس کو نماز پڑھنے کے لئے کہا جائے اور اگر قبول نہ کرے تو اکثر علماء اس بات کو واجب جانتے ہیں کہ اس سے توبہ کرائی جائے اور اگر توبہ نہ کرے تو اس کو قتل کردیا جائے چاہے وہ شخص نماز کے وجوب کا اقرار کرتا ہو۔(۲)
اسی طرح وہ بالغ جو نماز پنجگانہ میں سے کسی ایک نماز کو ادا کرنے سے پرہیز کرے یا نماز کے کسی ایک مسلّم واجب کو ترک کرے تو ایسے شخص سے توبہ کرائی جائے اوراگر توبہ نہ کرے تو اس کو قتل کردیا جائے۔(۳)
ابن تیمیہ مخلوقات میں سے کسی چیز کی قسم کھانے یا غیرخدا کے لئے نذر کرنے کو بھی شرک جانتا تھا،جس کی تفصیل انشاء اللہ بعد میں ذکر ہوگی۔(۴)
..................................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔الاسلام عقیدۃ و شریعۃ،ص ۹۴ ۔
۲۔کتاب الایمان،ص ۲۹۳ ۔
۳۔السیاسۃ الشرعیہ،ص ۱۲۹ ۔
۴۔مجموعۃ الرسائل(الوصیۃ الکبری)ج ۱،ص ۳۲۱ ۔
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 15