Thursday - 2018 Nov 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186272
Published : 18/3/2017 19:33

حضرت فاطمہ(س) جنتی وجود

حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اور باقی انسانوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ زہراء سلام اللہ علیھا کے وجود مبارک میں جنت کی طبیعت پوشیدہ ہے یعنی زہرا کا وجود جنت کے میوہ یا پھل سے بنا ہے جبکہ باقی سارے انسانوں کا وجود دنیوی غذا اور مادی آثارکا نتیجہ ہے لہٰذا حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کے وجود اور باقی انسانوں کے وجود میں بہت بڑا فرق ہے،زہرا (س) کے وجود میں جنت کے آثار ہیں جب کہ باقی انسانوں کے وجود،ایسی خصوصیت سے محروم ہیں۔

ولایت پورٹل:حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اور باقی انسانوں کے درمیان فرق یہ ہے کہ زہراء سلام اللہ علیھا کے وجود مبارک میں جنت کی طبیعت پوشیدہ ہے یعنی زہرا کا وجود جنت کے میوہ یا پھل سے بنا ہے جبکہ باقی سارے انسانوں کا وجود دنیوی غذا اور مادی آثارکا نتیجہ ہے لہٰذا حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کے وجود اور باقی انسانوں کے وجود میں بہت بڑا فرق ہے،زہرا (س) کے وجود میں جنت کے آثار ہیں جب کہ باقی انسانوں کے وجود،ایسی خصوصیت سے محروم ہیں کہ اس مطلب کو مرحوم مجلسی نے اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ ایک دن حضرت پیغمبر اکرم (ص)اپنی مسند پر تشریف فرما تھے کہ اتنے میں جبرئیل نازل ہوئے اور کہا کہ خدا نے آپ کو سلام بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ چالیس دن آپ جناب خدیجہ سے الگ رہیں اور عبادت اور تہحد میں مشغول رہیں پیغمبر اکرم (ص) نے خدا کے حکم کے مطابق چالیس دن تک جناب خدیجہ کے گھر جانا چھوڑ دیا اور یہ مدت رات کو نماز اور عبادات میں گزاری جبکہ دن کو  روزہ رکھتے تھے آپ نے عمار کے توسط سے جناب خدیجہ کو پیغام بھیجا کہ اے معزز خاتون تم یہ خیال نہ کرنا کہ میرا تم سے کنارہ کشی کرنا کسی دشمنی اور کدورت کی وجہ سے ہے بلکہ یہ علیحدگی اور کنارہ گیری حکم خدا کی وجہ سے ہے کہ جس کی مصلحت سے خدا ہی آگاہ ہے اے خدیجہ تم عظیم خواتین میں سے ہو اللہ تعالی تمہارے وجود پر روزانہ کئی مرتبہ فرشتوں کے سامنےناز کرتا ہے لہٰذا رات کو گھر کے دروازے بند کرکے آرام فرمائے اور میرا انتظار نہ کیجئے۔( بحار الانوار ج 15 صفحہ 78)
میں خدا کی طرف سے دوبارہ دستور آنے کا منتظر ہوں، میں اس مدت کو فاطمہ بنت اسد کے گھر میں گزاروں گا جناب خدیجہ بھی حضرت پیغمبر اکرم (ص)کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے اس مدت کو اپنے محبوب کی جدائی میں روتے ہوئے گذاری لیکن جب چالیس دن کی مدت ختم ہو گئی تو اللہ تعالی کی طرف سے فرشتے نازل ہوئے اور جنت سے غذا لائے ۔
جب چالیس دن کی مدت ختم ہو گئی تو اللہ تعالی کی طرف سے فرشتے نازل ہوئے اور جنت سے غذا لائے کہا کہ آج رات اس جنتی غذا کو تناول فرمائیں جناب رسول خدا نے اس روحانی اور بہشتی غذا سے افطار کیا اورجب آپ کھانے کے بعد دوبارہ نماز اور عبادت کیلئے کھڑے ہوئے تو جبرئیل نازل ہو ئے اور کہا اے خدا کے حبیب آج رات مستحبی نمازوں کو چھوڑ دو اور جناب خدیجہ کے پاس تشریف لے جائیں کیونکہ خداوند کا (اس عبادت اورجنتی غذا کے نتیجے میں ) یہ ا رادہ ہے کہ آپ کے صلب مطہر سے ایک پاکیزہ بچی کا نور کائنات میں طلوع ہو، تاکہ کائنات کی سعادتمندی کا باعث بنے پیغمبر اکرم(ص) نے جونہی جبرئیل کا یہ دستور سنا فوراً خدیجہ کے گھر کی طرف روانہ ہوئے جناب خدیجہ کا بیان ہے کہ میں حسب معمول اس رات کو بھی دروازہ بند کرکے اپنے بستر پر آرام کر رہی تھی کہ اتنے میں دروازہ کھٹکھٹانے کی آواز آئی میں نے کہا کو ن ہے ؟اتنے میں پیغمبر(ص) کی دلنشین آواز میرے کانوں میں آئی آپ فرما رہے تھے کہ دروازہ کھولو کہ میں محمد ہوں میں نے فوراً دروازہ کھولا آپ خندہ پیشانی کے ساتھ گھر میں داخل ہوئے اور حکم خدا کے مطابق فاطمہ کا نور پیغمبر اکرم (ص)کے صلب مطہرسے خدیجہ کے رحم میں منتقل ہوا-( بحار ج 16ص 78 چاپ بیروت)
اگرچہ کچھ دوسر ی روایات میں اس طرح بیان ہو ا ہے کہ جب پیغمبر اکرم (ص)معراج پر تشریف لے گئے تو خدا نے اپنے حبیب کی خدمت میں جبرئیل کے ہاتھوں جنت کا ایک سیب بھیجا اور فرمایا اے جبرئیل رسول سے کہہ دو کہ آج رات اس سیب کو تناول فرمائیں پھر خدیجہ کے ساتھ سو جائیں آپ نے خدا کے حکم کے مطابق سیب کو تناول فرمایا اور زہرا کا وجود آپ کے صلب سے مادر کے شکم میں منتقل ہوا کہ اس روایت کو علماء شیعہ میں سے شیخ صدوق نے علل الشرائع میں جناب علی ابن ابراہیم قمی  نے اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے اور سنی علماء میں سے بھی افراد ذیل نے نقل کیا ہے مثلاً رشید الدین طبری،بغدادی، نیشاپوری،ذہبی (مستدرک حاکم ،ذخائر العقبی، طبری ،تاریخ بغداد، مناقب ،میزان 1لاعتدال)
لہٰذا یہ بات فریقین کے ہاں مسلم ہے کہ زہرا سلام اللہ علیھا کا وجود جنت کے سیب یا غذا سے بنا ہے۔





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 15