Friday - 2018 Nov 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186280
Published : 19/3/2017 10:36

ایک اہم تبصرہ:

محمد بن سلمان کی ٹرمپ دربار میں پیشی ۔۔۔ ؟!

اس ڈیل میں شام میں ترکی کی ہم آہنگی کے ساتھ جاری جارحیت اور مختلف دھشتگرد گروپوں کی مدد کو جاری رکھنا بھی شامل ہے، اس ملاقات کا لب و لباب ایک امریکی کامیاب تاجر ڈونلڈ ٹرمپ اور امن کے بھکاری اوباما کے یتیم آل سعود کے نمائندے محمد بن سلمان کے مابین ایک بھاری مقدار کی تجارتی سودا بازی تھی، ان مختلف اقدامات پر اتفاق ہوا کہ جن سے اس بات کی ضمانت ملے جس کے ذریعے امریکہ اس خطے اور عربوں کے ذخائر اور ثروت کو لوٹتا رہے۔

ولایت پورٹل:شام میں ذلت آمیز شکست اور یمن کی دلدل میں غرق ہو جانے کے بعد، سعودیہ کے پاس کوئی اور چارہ ہی نہیں مگر یہ کہ وہ اپنی جائدادیں نیلام کرے۔۔۔۔!اور جب وائٹ ہاؤس کا تخت نشین درجہ اول کا تاجر، سوداگر اور ڈیلنگ کا ماہر شخص ہو وہ یقینا اس مایوسی اور دیوالیہ کے دھانے پر پہنچنے والی مملکت کے سب سے بڑے حصے کا سودا کرے گا،بن سلمان کو طلب کرنے کا اقدام خسارے میں جانے والی امریکی کمپنی کی پراپرٹیز کو اپنی تحویل میں لینے کے مترادف ہے،اور سلسلے میں واقعات، حیثیات، اعداد و شمار اور حقائق قارئین کرام کے پیش خدمت ہیں۔
محمد بن سلمان کی واشنگٹن ملاقات سے پہلے اس حقیقت کا ادراک بھی ضروری ہے،کہ اس آل سعود حکومت پر اصل کنٹرول امریکن سیکورٹی ٹیم کا ہے جو مختلف امور کے اسپیشلسٹ افراد پر مشتمل ہے اور وہ دارالحکومت ریاض میں امریکی سفارتخانے میں مقیم ہے، وہ سعودیہ کے مختلف اداروں کے افراد سے ملکر ڈائریکٹ کام کرتی ہے،اور یہ ٹیم مختلف ممالک کے مابین رائج باضابطہ اور تھرو پراپر چینل اسلوب اختیار نہیں کرتی اور نہ اسکی پابند ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ سعودی حکومت کا کردار فقط عائد کردہ وظائف و فرائض کو ادا کرنا ہے اور اسی بنا پر ریاض سفارتخانے میں مقیم امریکی سیکورٹی ٹیم مندرجہ ذیل اداروں سے ملکر کام کرتی ہے۔
وزیر دفاع، محمد بن سلمان
وزیر داخلہ، محمد بن نایف
ڈائریکٹر انٹیلی جنس، الحمیدان
وزیر خارجہ، عادل جبیر
اس بات کو واضح کرنے کے لئے کہ امریکی سیکورٹی ٹیم ہی تمام تر معاملات چلاتی ہے اور سعودی حکمران فقط اپنے اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں وہ حال ہی میں امریکی انٹیلی جنس کے سربراہ کا دورہ ہے،ابھی نئے امریکی صدر کی طرف سے جس شخص نے ریاض کا پہلا دورہ کیا وہ سی آئی اے (CIA) کے سربراہ بامبیدو تھے،جنھوں نے سعودی وزیر داخلہ محمد بن نایف سے ملاقات کی اور انھیں CIA کے لئے بہترین خدمات سرانجام دینے پر جورج ٹی نیٹ تمغہ امتیاز پہنایا اور اس نے نہ ملک سلمان سے ملاقات کی اور نہ ہی انکے بیٹے محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔
محمد بن سلمان کو بذات خود امریکہ طلب کرنے کا مقصد یہ ہے کہ امریکی حکومت اس بات سے آگاہ ہے کہ جب سے اسکا باپ ملک سلمان سعودیہ کا سربراہ بنا ہے اس نے اپنے بیٹے کو مختلف امور میں کافی حد تک بااختیار بنا دیا ہے اور وہ اہم فیصلے کر سکتا ہے،اسی لئے اسے طلب کیا گیا (نہ کہ اسے واشنگٹن دورے) کی دعوت دی گئی۔
یاد رہے کہ اس ملاقات کا صدر ٹرامپ کو مشورہ سینیٹر جان مکین نے دیا تھا،جب اس نے 21 /02 / 2017 کو محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور مختلف امور پر بات چیت کی جن میں سے اہم بات امریکی اسلحہ کو سعودیہ کو فروخت کرنا تھا، اس کے بعد محمد بن سلمان نے بذات خود امریکی عسکری مصنوعات کی کمپنی (Raytheon) کے مینیجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات بھی کی تھی۔
جان مکین کے واپس پہنچنے کے بعد اوباما کے دور سے سعودی عرب کو اسلحہ فروخت کرنے کے معاملہ پر جو پابندی عائد کی تھی انہیں 09/03/2017 کو اٹھا لیا گیا،جس کی قیمت ایک ارب ایک سو پندرہ ملین ڈالرز تھی،سعودی ڈیمانڈ کے پیش نظر ریتھرن کمپنی نے اسے اپنے بنائے ہوئے اسلحہ کی ایک مقدار، اسرائیلی سورسز کے مطابق، اسرائیل کے اسٹورز سے نکال کر سعودیہ بھیجی۔
یہ بیان کرنا بھی ضروری ہے کہ Raytheon کمپنی پاٹریارٹ میزائل، توماہونگ میزائل BGM 109 اور Sidewinder Aim 9 میزائل بھی بناتی ہے،اور یہ وہ میزائل ہیں جنہیں امریکی جنگی طیاروں نے یمنیوں کے سروں پر برسایا،اس لے علاوہ Phased Array Radar ریڈار سسٹم بھی بناتی ہے جو کہ ایرانی وی منی ساخت پلاسٹک میزائل کا سراغ لگاتا ہے، ریتھرن کمپنی کی مصنوعات میں زمین سے فضاء میں ہدف کو نشانہ بنانے والے اور کاندھے پر رکھ کر چلانے والے اسٹنگر میزائل بھی شامل ہیں جو عنقریب امریکہ کی جانب سے شامی باغیوں کو دئیے جائیں گے۔
امریکی صدر سے 14/03/2017 کی ملاقات سے پہلے محمد بن سلمان کی ملاقات جان مکین کے ساتھ Citygroup کے مینیجنگ ڈائریکٹر سے بھی کراوئی گئی۔ سیٹی گروپ مضبوط فنانشل گروپ پے،جس کے مالیاتی ذخائر کی مالیت ایک ٹریلین اور سات سو بانوے بلین ڈالرز ہے،جس کے حسابدار دو سو ملین افراد ہیں جنکا تعلق سو سے زیادہ ممالک سے ہیں، اور اس کے دو سو اکتالیس ہزار ملازمین ہیں، اور 2008 سے یہ گروپ شدید اقتصادی بحران میں مبتلا ہے اور امریکی حکومت اس وقت سے اسکی مدد کر رہی ہے۔
یہ مالیاتی گروپ دنیا کے تین بڑے گروپس میں سے ایک ہے، (اسکے کئی بینک ہیں جن میں ایک سیٹی بینک ہے، اور مختلف فیلڈز کی دسیوں کمپنیاں بھی ہیں۔ اس کا ہیڈ آفس منھاتن نیویارک میں ہے اور ٹرامپ کی کمپنیوں کا مرکز بھی وہاں ہے۔
امریکی صدر سے محمد بن سلمان کی ملاقات کی ماحول سازی کے لئے سعودی وزیر پٹرولیم ڈاکٹر خالد فالح جوکہ بن سلمان کے قریبی شمار ہوتے ہیں ان سے بیان دلوایا گیا کہ سعودیہ چاہتا ہے کہ الاخفوری پٹرول کو امریکہ میں تیار کرے اور یہ بن سلمان کے 2030 ویژن اور پلان کا حصہ ہے اور اس سلسلے میں ایک سرمایہ گزاری فنڈ امریکہ میں قائم کرنے کا ارادہ بھی ہے۔
پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت عشائیے پر بن سلمان کی ملاقات امریکی صدر ٹرامپ سے رکھی گئی، جس میں مندرجہ ذیل امور زیر بحث آئے۔
1-سعودیہ کی ارامکو کمپنی کو پرائیویٹ سیکٹر میں دینا، جسکی عالمی منڈی میں قیمت ایک ٹریلین ڈالرز بنتی ہے اور جس کے شیئرز کی خریداری میں ٹرامپ گروپ کی دلچسپی ہے۔
2-پیٹرو کیمیکل بڑی سعودی کمپنی «سابک»کی بھی پرائیویٹائزیشن کا امکان ہے اور اسکے اسرائیلی حیفا ریفائنری کمپنی کے ساتھ ممکنہ تعاون کہ جسے اسرائیلی پیٹروکیمیکل صنعتی کمپنی چلاتی ہے زیر غور ہے،اس ضمن میں حاویات الامونیا جسکی رجسٹریشن کی مینیجمنٹ ٹرمپ کے بھائی کے پاس ہے۔
3-ایران کا مقابلہ، اس سلسلے میں امریکا چاہتا ہے کہ آل سعود اور دیگر خلیجی ممالک امریکی اقدامات کو مالی طور پر سپورٹ فنڈ فراہم کریں خواہ یہ اقدامات اقتصادی اور مالیاتی محاصرے کی شکل میں ہوں یا عسکری ہوں سعودیہ اس ہدف کی خاطر تمام تر امریکی کمپنیوں کے نقصانات اور اخراجات کی ادائیگی کی ضمانت دے، امریکا اسے خلیج میں ایرانی نفوذ کو روکنے اور خلیجی ممالک کی حمایت کے لئے ضروری سمجھتا ہے۔
4-محمد بن سلمان کو ہدایات جاری کی گئيں کہ وہ عراق اور شام میں امریکی افواج کو مالیاتی فنڈز فراھم کرے اور اس میں الرقہ، لیبیا اور یمن کا معرکہ شامل ہے اور یہ معاملہ طے پایا کہ حمایت بالمقابل اموال۔
اس ڈیل میں شام میں ترکی کی ہم آہنگی کے ساتھ جاری جارحیت اور مختلف دھشتگرد گروپوں کی مدد کو جاری رکھنا بھی شامل ہے، اس ملاقات کا لب و لباب ایک امریکی کامیاب تاجر ڈونلڈ ٹرمپ اور امن کے بھکاری اوباما کے یتیم آل سعود کے نمائندے محمد بن سلمان کے مابین ایک بھاری مقدار کی تجارتی سودا بازی تھی، ان مختلف اقدامات پر اتفاق ہوا کہ جن سے اس بات کی ضمانت ملے جس کے ذریعے امریکہ اس خطے اور عربوں کے ذخائر اور ثروت کو لوٹتا رہے،مشرق وسطیٰ میں بدامنی جاری رہے اور غیر معینہ مدت تک امریکہ ایران کو دھمکیاں دینے کے عوض عربوں سے مال وصول کرتا رہے،اس کے علاوہ پٹرول والے ممالک اور اسرائیل کے مابین سفارتی و تجارتی تعلقات وسیع طور پر قائم ہوں۔
کامیاب بزنس مین ڈونلڈ ٹرمپ کے زیر سایہ مشترکہ پراجیکٹس جیسا کہ سعودی کمپنی «سابک»اور اسرئیلی حیفا ریفائنری کمپنی کے مابین تعاون اور تعلقات پروان چڑھیں۔
ابلاغ





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Nov 16