Wed - 2018 Sep 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 186998
Published : 1/5/2017 9:14

لیبیا کے دہشتگردوں کا علاج یورپ و ترکی میں ہوتا ہے:روزنامہ گارجین

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 15 دسمبر 2015 سے اب تک لیبیا میں زخمی ہونے والے داعش کے دہشتگردوں کی ایک بڑی تعداد کا ترکی کے ہسپتالوں میں علاج ہوا ہے، یہ افراد لییا کے شہر مصراتہ (شمال مغربی لیبیا) سے ترکی منتقل ہوتے ہیں اور وہاں کے ڈاکٹروں سے کہتے ہیں کہ وہ بن غازی کے انقلابیوں میں سے ہیں اور جھڑپوں میں وہ زخمی ہوئے ہیں،رپورٹ میں آیا ہے کہ ترکی، رومانیہ، سربیا، بوسنیا، فرانس، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ ان ممالک میں شامل ہیں کہ جہاں پر داعش کے دہشتگردوں کا علاج ہوتا ہے۔

ولایت پورٹل:لیبیا میں زخمی ہونے والے داعشی دہشتگرد چوری شدہ پاسپورٹ کے ذریعے ترکی اور یورپ کا سفر کرتے ہیں جہاں پر ان کا علاج کیا جاتا ہے،روزنامہ گارجین کی رپورٹ کے مطابق، اب تک چوری شدہ پاسپورٹس کے ذریعے دہشتگردوں کی ایک بڑی تعداد نے یورپ کا سفر کیا ہے، 2016 کے اوائل میں داعش نے شہر سرت (شمالی لیبیا) کے پاسپورٹ آفس پر حملہ کرکے قریب دو ہزار پاسپورٹس چوری کرلیے تھے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 15 دسمبر 2015 سے اب تک لیبیا میں زخمی ہونے والے داعش کے دہشتگردوں کی ایک بڑی تعداد کا ترکی کے ہسپتالوں میں علاج ہوا ہے، یہ افراد لییا کے شہر مصراتہ (شمال مغربی لیبیا) سے ترکی منتقل ہوتے ہیں اور وہاں کے ڈاکٹروں سے کہتے ہیں کہ وہ بن غازی کے انقلابیوں میں سے ہیں اور جھڑپوں میں وہ زخمی ہوئے ہیں،رپورٹ میں آیا ہے کہ ترکی، رومانیہ، سربیا، بوسنیا، فرانس، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ ان ممالک میں شامل ہیں کہ جہاں پر داعش کے دہشتگردوں کا علاج ہوتا ہے۔
مئی 2016 میں لیبیا کے مختلف علاقوں میں داعش کے خلاف آپریشنز کا سلسلہ شروع کیا گیا اور دسمبر 2016 میں شہر سرت کو آزاد کراکے تقریباً داعش کا خاتمہ کردیا گیا مگر اقوام متحدہ کے سکریٹی جنرل کے مطابق گرچہ لیبیا کے کسی علاقے پر اب داعش کا کنٹرول نہیں رہا مگر اس کے باقیات اب بھی ملک میں سرگرم ہیں اور وقتاً فوقتاً دہشتگردانہ کارروائیاں انجام دیتے رہتے ہیں۔
ابلاغ



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Sep 19