Thursday - 2018 Nov 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187014
Published : 1/5/2017 18:9

منافق باہری دشمن سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے:رہبر انقلاب

دوسرا دشمن و آفت: اندرونی کمزوری ہے، یعنی خود نظام کے اندر، اس میں بیگانوں کا ہاتھ نہیں ہے،یہ اپنی کمی ہے، ممکن ہے یہ اپنی کمی و کمزوری تھکن کی وجہ سے ہو، صحیح راہ کو سمجھنے میں غلطی کے سبب ہو، نفسیات سے مغلوب ہونے کے باعث ہو، مادی سج دھج پر نظر رکھنے کی وجہ سے ہو، یہ لوگ ناگہاں اندرونی آفت سے دوچار ہوتے ہیں،یقینا یہ دشمن پہلے دشمن سے زیادہ خطرناک ہے۔

ولایت پورٹل:اسلام کو ایک عزیز و پیارے وقوعہ و مظہر کے عنوان سے جن خطرات کا سامنا ہے ان کو اسلام کے آنے سے پہلے ہی خدا کی طرف سے بیان کردیا گیا ہے، ان کی پیشین گوئی کردی گئی ہے اور ان خطرات کے مقابلہ کا وسیلہ بھی بتا دیا گیا ہے اور اس وسیلہ کو خود اسلام میں اور اس مجموعہ میں رکھ دیا گیا ہے جیسے ایک سالم بدن میں خدا نے اس کے دفاع کی طاقت رکھ دی ہے جیسے ایک صحیح سالم مشین کہ جس کے ساتھ انجینئر نے یا اس کے بنانے والے نے اس کی مرمت و درستی کے آلات رکھ دئیے ہیں، اسلام بھی دیگر واقعات اور مظاہر کی مانند ایک وقوعہ و مظہر ہے اس کے سامنے بھی کچھ خطرات ہیں، ان کا مقابلہ کرنے کے لئے وسیلہ و ہتھیار لازمی چاہیئے، خداوندعالم نے وہ وسیلہ وآلہ خود اسلام کے اندر رکھ دیا ہے،لیکن وہ خطرہ کیا ہے؟ اسلام کے سامنے دوبڑے خطرے ہیں، ایک خارجی دشمن کی طرف سے، دوسرا داخلی دشمن کی طرف سے۔
خارجی، یعنی جو سرحد پار سے ایک نظام، اس کی آئیڈیالوجی، اس کے عقائد اس کے قوانین بلکہ اس کی ہر چیز پر مختلف قسم کے اسلحوں سے حملہ کرتا ہے،خارج سے کیا مراد ہے؟ ملک کے باہر سے نہیں؟ نظام کے باہر سے نہیں، خواہ ملک کے اندر ہی ہوں۔ کچھ دشمن ایسے ہیں جو خود کو نظام حکومت سے بیگانہ سمجھتے ہیں، اس کے مخالف ہیں، یہ دشمن باہر کے ہیں، خارجی ہیں، یہ بیگانے ہیں یہ ایک نظام کو نابود کرنے کے لئے، اسے ختم کرنے کے لئے، تلوار سے، آتشیں اسلحہ سے، جدید ترین مادی ہتھیاروں سے، پروپیگنڈوں، پیسہ اور ہر اس چیز کواستعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ان کے پاس موجود ہے۔
دوسرا دشمن و آفت: اندرونی کمزوری ہے، یعنی خود نظام کے اندر، اس میں بیگانوں کا ہاتھ نہیں ہے،یہ اپنی کمی ہے، ممکن ہے یہ اپنی کمی و کمزوری تھکن کی وجہ سے ہو، صحیح راہ کو سمجھنے میں غلطی کے سبب ہو، نفسیات سے مغلوب ہونے کے باعث ہو، مادی سج دھج پر نظر رکھنے کی وجہ سے ہو، یہ لوگ ناگہاں اندرونی آفت سے دوچار ہوتے ہیں،یقینا یہ دشمن پہلے دشمن سے زیادہ خطرناک ہے۔
ان دو قسم کے دشمنوں( بیرونی آفت، اندرونی آفت) سے ہر نظام کو خطرہ ہے اور ہر موقع اور ہر قسم کی تنظیم و تحریک کو خطرہ ہے۔ اسلام نے ان دونوں آفتوں کے مقابلہ کے لئے طریقۂ کار معین کردیا ہے اور وہ ہے جہاد۔ جہاد بیرونی دشمنوں ہی سے مخصوص نہیں ہے:«جَاھِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِیْنَ»
منافق خود کو نظام کو تسلیم کرنے والا بتاتا ہے اس کے باوجود اس سے جہاد کرنا چاہیئے۔

 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 22