Tuesday - 2018 Sep 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187026
Published : 2/5/2017 15:19

کیا کم عمری کی شادیاں اکثر طلاق کا پیش خیمہ ہوتی ہیں:ایک رپورٹ

خواتین اسکالرس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ لڑکیوں کی شادی کی کم سے کم عمر 16 سے بڑھا کر 18 کر دی جائے،انڈونیشیا ایک مسلمان اکثریتی ملک ہے اور یہاں کم عمری کی شادیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے،اقوام متحدہ کے مطابق انڈونیشیا میں ہر چار میں سے ایک لڑکی کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے کر دی جاتی ہے،ان خواتین اسکالرس کا اجلاس جاوا جزیرے پر سیربون میں ہوا اور اسے اپنی نوعیت کا پہلا ایسا اجلاس قرار دیا جا رہا ہے۔

ولایت پورٹل:انڈونیشیا میں خواتین اسکالرس نے شادی کی کم سے کم عمر بڑھانے کے حوالے سے ایک اعلان جاری کیا ہے،جس پر عمل کرنا قانونی طور پر لازم نہیں ہے تاہم اس کے اثرات ہو سکتے ہیں،جبکہ یہ فیصلہ انڈونیشیا کی خواتین اسکالرس کے تین روزہ اجلاس کے بعد دیا گیا ہے۔
خواتین اسکالرس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے  کہ لڑکیوں کی شادی کی کم سے کم عمر 16 سے بڑھا کر 18 کر دی جائے۔
انڈونیشیا ایک مسلمان اکثریتی ملک ہے اور یہاں کم عمری کی شادیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق انڈونیشیا میں ہر چار میں سے ایک لڑکی کی شادی 18 سال کی عمر سے پہلے کر دی جاتی ہے۔
ان خواتین اسکالرس کا اجلاس جاوا جزیرے پر سیربون میں ہوا اور اسے اپنی نوعیت کا پہلا ایسا اجلاس قرار دیا جا رہا ہے۔
انڈونیشیا میں اکثر فتوے جاری کیے جاتے ہیں جنہیں عموماً انڈونیشیا علماء کونسل جاری کرتی ہے،یہ کونسل ملک کی سب سے اہم اسلامی اتھارٹی ہے اور اس میں تقریباً تمام اراکین مرد ہیں۔
خواتین اسکالرس کے اس اجلاس کی ایک منتظم نینک راہایو نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے کہا کہ ملک کی مایہ ناز شخصیات،خواتین کی مشکلات سے واقف ہیں، ہم یہ اقدام لے سکتے ہیں، نہ کہ ہم حکومت کا انتظار کریں کہ وہ بچوں کو بچائیں۔
ساتھ ہی اجلاس میں شریک بھاری تعداد میں اسکالرس  نے متعدد تحقیقوں کا حوالہ دیا ہے جن کے مطابق کم عمری میں شادی کرنے والی خواتین کو تعلیم مکمل کرنے نہیں دی جاتی اور تقریباً نصف شادیوں میں طلاق ہو جاتی ہے۔
شفقنا

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Sep 25