Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187032
Published : 2/5/2017 16:9

حضرت ابوالفضل العباس(ع) کےبلند مرتبے کا راز

حضرت عباس علیہ السلام نے کربلا کےمیدان میں نام وشہرت کمانے اورجنت کےلالچ یا جہنم کے خوف کے بجائے فقط اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا اور اس طرح غازی نے ایثار اور قربانی کی ایک عظیم مثال رہتی دنیا کے لئے قائم کردی۔

ولایت پورٹل:حضرت ابالفضل العباس علیہ السلام کی شناخت اور معرفت کی ایک بہترین روش امام صادق علیہ السلام کی یہ زیارت ہے،جس کے بارے مشہور یہ ہے کہ جب امام جعفر صادق علیہ السلام کربلائے معلیٰ تشریف لائے تو آپ نے آب فرات سے غسل کیا اور حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام کے لیے یہ زیارت پڑھی ہے۔
اس کے متعلق راوی کہتا ہےکہ امام صادق علیہ السلام ایک دن امام حسین علیہ السلام کے حرم میں تشریف لے گئے اوراس کے بعد حضرت عباس علیہ السلام کے حرم میں جاکراس معروف زیارت کی تلاوت کی،بہت کم منقول زیارات ہیں کہ جو معصوم کی زبان سے نقل ہوئی ہوں ،یہی چیزحضرت عباس علیہ السلام کی پہچان ہے۔
اس زیارت میں کچھ ایسے جملے ہیں کہ جو قابل توجہ ہیں، سب سے پہلے حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کی خدمت میں سلام کیا جاتا ہے،یہ ایک مخصوص سلام ہے،ایک دفعہ ہم کسی کو سلام کرتےہیں تو وہ سلام ہماری اپنی جانب سے ہوتا ہے اورمثلاً  کہتے ہیں:( السلام علیک یا ۔ ۔ ۔) ایک مرتبہ اللہ کی جانب سے سلام ہے اور ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ اوراس کے مقرب فرشتوں کی جانب سے سلام ہے،حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کے زیارت نامہ کی ابتداء میں جو سلام آیا ہے وہ ایک مفصل سلام ہے: (سَلاَمُ اللَّهِ وَ سَلاَمُ مَلاَئِكَتِهِ الْمُقَرَّبِينَ وَ أَنْبِيَائِهِ الْمُرْسَلِينَ وَ عِبَادِهِ الصَّالِحِينَ وَ جَمِيعِ الشُّهَدَاءِ وَ الصِّدِّيقِينَ‏ وَ الزَّاكِيَاتُ الطَّيِّبَاتُ فِيمَا تَغْتَدِي وَ تَرُوحُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ ۔ ۔ ۔)۔ کیفیت اور مقدار کےلحاظ سے یہ ایک عمیق اورگہرا سلام ہے،یعنی حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام پرسلام ہردورکے لیے ہے،اسی طرح اس زیارت میں حضرت عباس علیہ السلام کی دوسری خصوصیت آپ کا سید الشہداء علیہ السلام کے سامنے تسلیم ہونا ہے،«أَشْهَدُ لَكَ بِالتَّسْلِيمِ وَ التَّصْدِيقِ وَ الْوَفَاءِ وَ النَّصِيحَةِ لِخَلَفِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ الْمُرْسَلِ‏)۔
اس کے بعد ہم پڑھتے ہیں: «السَّلاَمُ عَلَيْكَ أَيُّهَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ‏» یہاں پرحضرت عباس علیہ السلام کی دو صفات کو بیان کیا گیا ہے: ایک عبد اوردوسری صفت صالح ہونا ہے،جب ہم نماز کے تشھد میں پڑھتے ہیں: «اَشهَدُ اَنْ لاَ اِلهَ اِلاَّ اللهُ وَحْدَهُ لاَ شَریکَ لَهُ، وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ، اَللّهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ» یہاں پریہ سوال پیش آتا ہےکہ یہ عبد صالح کون ہےکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے لیےبھی یہ صفت استعمال کی ہے، اس صفت کا مطلب یہ ہے کہ عبودیت، رسالت پر مقدم ہے،لہذا جو شخص اللہ کے خلیفہ کا عبد اور غلام بننا چاہتا ہے اسے عبودیت کی منزل فائز ہونا چاہیے۔
حضرت عباس علیہ السلام نے کربلا کےمیدان میں نام وشہرت کمانے اورجنت کےلالچ یا جہنم کے خوف کے بجائے فقط اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا تھا اور اس طرح غازی نے ایثار اور قربانی کی ایک عظیم مثال رہتی دنیا کے لئے قائم کردی۔
شبستان



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19