Thursday - 2018 Sep 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187064
Published : 3/5/2017 16:28

اہلبیت(ع) کشتئ نجات

ہل بیت(ع) کے کشتی نوح کے مانند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس نے دنیا و آخرت میں اِن کو اپنا ملجا و ماویٰ قرار دیا اور اپنے فروع و اصول ائمہ معصومین(ع) سے حاصل کئے وہ دوزخ کے عذاب سے نجات پاگیا اور جس نے اُن سے روگردانی کی وہ اس کے مانند ہے جس نے طوفان کے دن اللہ کے امر سے بچنے کے لئے پہاڑ کی چوٹی پر پناہ لی اور غرق ہوگیا، اس کی منزل آب،حمیم ہے جو بہت ہی گرم پانی ہے، جس سے ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔

ولایت پورٹل:ابو سعید خدری سے مر وی ہے کہ میں نے پیغمبر اکرم(ص) کو سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: بےشک تمہارے درمیان میرے اہل بیت(ع) کی مثال کشتیٔ نوح کے مانند ہے ،جو اس میں سوار ہو گیا اس نے نجات پائی اور جس نے اس سے رو گردانی کی وہ ہلاک ہوگیا، بے شک تمہارے درمیان میرے اہل بیت(ع) کی مثال بنی اسرائیل میں باب حطّہ کے مانند ہے جو اس میں داخل ہوا وہ بخش دیا گیا۔
اس حدیث شریف میں اس بات کی حکایت کی گئی ہے کہ عترتِ طاہرہ سے متمسک رہنا واجب ہے،اسی میں امت کے لئے زندگی کے نشیب و فراز میں نجات اور غرق ہونے سے محفوظ رہنا ہے ،پس اہل بیت(ع) نجات کی کشتیاں اور بندوں کا ملجا و ماویٰ ہیں۔
امام سید شرف الدین موسوی(رحمہ اللہ) کا کہنا ہے:اہل بیت(ع) کے کشتی نوح کے مانند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جس نے دنیا و آخرت میں اِن کو اپنا ملجا  و ماویٰ قرار دیا اور اپنے فروع و اصول ائمہ معصومین(ع) سے حاصل کئے وہ دوزخ کے عذاب سے نجات پاگیا اور جس نے اُن سے روگردانی کی وہ اس کے مانند ہے جس نے طوفان کے دن اللہ کے امر سے بچنے کے لئے پہاڑ کی چوٹی پر پناہ لی اور غرق ہوگیا، اس کی منزل آب،حمیم ہے جو بہت ہی گرم پانی ہے، جس سے ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔
آئمہ(ع)  کو باب حطّہ سے اس لئے تشبیہ دی گئی ہے کہ باب حطّہ خدا کے جلال کے سامنے تواضع کا مظہرتھا جو بخشش کا سبب ہے،یہ وجہ شبہ ہے اور ابن حجر نے یہ اور اس جیسی دوسری احادیث کو بیان کرنے کے بعد کہا ہے:
آئمہ طاہرین (ع)کے کشتئ نوح سے مشابہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جس نے ان سے محبت کی اور ان کے شرف کی نعمت کا شکریہ ادا کرنے کے لئے ان کی تعظیم کی اور ان کے علماء سے ہدایت حاصل کی اُس نے تاریکیوں سے نجات پائی اور جس نے مخالفت کی وہ کفران نعمت کے سمندر میں غرق ہو گیا اور سرکشی کے امنڈتے ہوئے سیلاب میں ہلاک ہو گیا،یہاں تک کہ فرمایا:(باب حطّہ) یعنی آئمہ طاہرین (ع)  کی باب حطّہ سے مشابہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جو بھی اس باب ’’دروازہ ‘‘یعنی اریحا یا بیت المقدس میں تواضع اور استغفار کے ساتھ داخل ہوگا خدا اس کو بخش دے گا ، اسی طرح اہل بیت(ع)سے مودت و محبت کواس امت کی مغفرت کا سبب قراردیا )۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Sep 20