Saturday - 2018 Nov 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187066
Published : 3/5/2017 17:3

کیا چالیس ملکی اتحاد امام زمانہ عج کا راستہ روکنے کے لئے بنایا گیا ہے؟

قرآن و حدیث کے مطابق امام مہدی کا ظہور لازمی ہے لہذا امام مہدی کے مقابل میں جو بھی لشکر ہوگا وہ سفیانی کا لشکر ہوگا جو اسلام کا دشمن ہوگا، آل سعود کی جانب سے جاری ہونے والے بیان سے واضح ہوگیا ہے کہ وہ لشکر سفیانی کی تیاری کررہےہیں۔


ولایت پورٹل:
گذشتہ روز سعودی عرب کے نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے ایک نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں امام زمانہ(عج) شریف کے حوالے سے ایک متانزع بیان دیا تھا جس میں کہا تھا چونکہ ایران شیعہ نجات دہندہ امام مہدی کی آمد کی تیاری کررہا ہے تاکہ وہ مسلم دنیا پر راج کرسکے اور ہم ہر ممکن ذریعہ سے ایران کا راستہ روکیں گے ۔
سوشل میڈیا سروے ٹیم کے مطابق اس خبر کو ابتک لاکھوں مسلمانوں نے پڑھا اور سعودی عرب کے شرابی شہزادے کی مذمت کی ہے، عوام کی جانب سے اس خبر پر اُٹھائے جانے والے سوالات میں شدید تحفظات اور آل سعود کی مکروہ عزائم آشکار ہونے پر غم و غصہ کا باقاعدہ اظہار بھی سامنے آیا ہے۔
لوگوں کا کہنا تھا کہ آل سعود چالیس ملکی اتحاد بنا کر یمن فتح کر نہیں پارہے اور وہ امام مہدی (عج) سے جنگ کرنے کی بات کررہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ آل سعود کی اسلام و اہلیبت علیہ سلام سے دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی لیکن اب مزید آشکار ہوگئی ہے، وہ حرمین شرفین کے مقدس لباس میں چھپ کر عام مسلمانوں کو بے وقوف بنارہے ہیں۔
یہ سوال بھی اُٹھا یا جارہا ہے کہ سعودی قیادت میں بننے والے چالیس ملکی فوج کہیں امام مہدی کا راستہ روکنے کے لئے تو نہیں بنائی جارہی ، کیونکہ واضح ہوگیا ہے کہ چالیس ملکی فوج کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے، جبکہ روایت میں ہے کہ امام مہدی جب ظہور کریں گے تو ظالموں کا خاتمہ کرتے ہوئے بیت المقدس(موجودہ اسرائیل) ظالموں سے آزاد کروائیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اسرائیل کی جانب سے چالیس ملکی اتحاد offensive Strategy  بھی ہوسکتی ہے تاکہ ظہور امام مہدی سے دھوکے سے انکےخلاف لشکر بنادیا جائے۔
یہانتک کہ پاکستانی عوام نے آل سعود کے مکروہ عزائم آشکار ہونے کے بعد پاکستانی افواج کی سعودی اتحاد میں شمولیت پر مزید خدشات کا اظہار کیا ہےاور مطالبہ کیا ہے سفیانی لشکر جو امام مہدی کا راستہ روکے گا اس سے قطعی تعلق کیا جائے۔
امام مہدی(ع) کون ہیں؟
امام زمانہ(عج) اور آخر الزمان کے نجات دہندہ کا مسئلہ قرآن کریم میں صراحت کے ساتھ بیان نہیں ہوا ہے لیکن شیعہ مفسرین احادیث سے استناد کرتے ہوئے اس حقیقت کے قائل ہیں کہ قرآن کی بہت سی آیات امام زمانہ(عج) کی شان میں نازل ہوئی ہیں،بعض علماء کا کہنا ہے کہ 250 [یا 260] آیات قرآنی کا تعلق امام مہدی(عج) سے ہے۔[207] مفسرین قرآنی آیات کی دو قسموں سے امام مہدی(عج) کے وجود مبارک اور مسئلۂ ظہور کے لئے استفادہ کرتے ہیں: 1۔ وہ آیات کریمہ جو امام کے وجود پر تاکید کرتی ہیں
قرآن کریم کی آیات کے مطابق، خداوند متعال نے ہر امت کے لئے ایک فرد منتخب کیا ہے جو اس کی ہدایت کا ذمہ اٹھائے ہوئے ہے: "وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ
ترجمہ: اور ہر قوم کا ایک [برگزیدہ) راہنما ہوتا ہے [ سورہ رعد–7] "۔ اس آیت کی تفسیر میں امام صادق(ع) نے فرمایا: ہر زمانے میں ہمارے خاندان میں سے ایک امام موجود ہوتا ہے جو لوگوں کو ان حقائق کی طرف ہدایت دیتا ہے جو رسول خدا(ص) اللہ کی طرف سے لائے ہیں۔
امام مہدی اور حدیث رسول (ص)
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ص): المَهدیُ رَجُلٌ مِن وُلدِی وَجهُهُ کَالکَوکَبِ الدُّرِّیِّ
ترجمہ:مہدی ایک مرد ہے میری اولاد سے، جن کا چہرہ تابندہ ستارے کی مانند ہے۔
امام مہدی کے ظہور سے قبل سفیانی کا خروج
سفیانی کا خروج، جنگوں اور تنازعات کا ایک سلسلہ ہے جس کو بعض احادیث میں ظہور امام مہدی(عج) کے علائم میں شمار کیا گیا ہے،یہ جنگیں سفیانی کی سرکردگی میں سرزمین شام سے شروع ہونگی اور جزیرہ نمائے عرب تک پھیل جائیں گی،روایات میں ہے کہ سفیانی ابوسفیان کی نسل سے ہے اور امام مہدی علیہ السلام کا دشمن ہے۔ شیعہ احادیث کے مطابق سفیانی کے خروج کو امام مہدی(عج) کے ظہور کے قطعی علائم میں شمار کیا گیا ہےجن کا وقوع پذیر ہونا ناگزیر ہے، بعض احادیث کے مطابق، سفیانی کی سپاہ بیداء کے مقام پر نیست و نابود ہوجائے گی۔
بات واضح ہوگئی ہے کہ قرآن و حدیث کے مطابق امام مہدی کا ظہور لازمی ہے لہذا امام مہدی کے مقابل میں جو بھی لشکر ہوگا وہ سفیانی کا لشکر ہوگا جو اسلام کا دشمن ہوگا، آل سعود کی جانب سے جاری ہونے والے بیان سے واضح ہوگیا ہے کہ وہ لشکر سفیانی کی تیاری کررہےہیں۔
shiitenews
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Nov 17