Wed - 2018 Sep 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187076
Published : 3/5/2017 19:0

اثبات امامت پر قرآنی نصوص(۲)

شیعہ وسنی دونوں طریق سے کثیر احادیث نقل ہوئی ہیں جو اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ یہ آیت حضرت علی(ع) کی ولایت و امامت کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور پیغمبر اکرم(ص) نے یہ الٰہی پیغام غدیر خم میں لوگوں تک پہونچایا شیعوں کے نزدیک یہ بات مسلم اور قطعی ہے،ایسے ہی بہت سے علماء اہل سنت نے آیت کے نزول کو ولایت علی(ع)کے متعلق تسلیم کیا ہے اگر چہ وہ ولایت کے معنی کے سلسلہ میں شیعوں کے ہم عقیدہ نہیں ہیں۔


ولایت پورٹل:
ہم نے گذشتہ کالم میں قرآن مجید کی آیات کے تناظر میں امامت اہل بیت(ع) کو ثابت کرنے کے لئے آیہ ولایت سے استدلال کیا تھا اور آج اسی بحث کی اگلی کڑی آیہ تبلیغ ہے کہ جس میں صراحت کے ساتھ ایک غیر معمولی امر کی جانب پیغمبر اکرم(ص) نے رہنمائی فرمائی اور وہ تھا امت کی رہبری  و ہدایت کا باب،لہذا سابق بحث کو پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجیئے!
اثبات امامت پر قرآنی نصوص(۱)
۔ آیۂ تبلیغ
«یَاأَیُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَﷲُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ إِنَّ ﷲَ لاَیَهْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِینَ»۔(۱)
شیعہ وسنی دونوں طریق سے کثیر احادیث نقل ہوئی ہیں جو اس حقیقت کو بیان کرتی ہیں کہ یہ آیت حضرت علی(ع) کی ولایت و امامت کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور پیغمبر اکرم(ص) نے یہ الٰہی پیغام غدیر خم میں لوگوں تک پہونچایا شیعوں کے نزدیک یہ بات مسلم اور قطعی ہے،ایسے ہی بہت سے علماء اہل سنت نے آیت کے نزول کو ولایت علی(ع)کے متعلق تسلیم کیا ہے اگر چہ وہ ولایت کے معنی کے سلسلہ میں شیعوں کے ہم عقیدہ نہیں ہیں،علامہ امینی نے الغدیر میں تقریباً تیس بزرگ علماء اہل سنت کے اسماء تحریر کئے ہیں جنھوں نے اس آیت کے نزول کو ولایت علی(ع)اور غدیر خم سے متعلق مانا ہے۔(۲)
شان نزول کی احادیث سے قطع نظر آیت کے صدر و ذیل اور الفاظ پر توجہ بھی آیت کے مطلب ومعنی کو واضح کر دیتی ہے،اس لئے کہ آیت کے ابتدائی حصہ کا مطلب یہ ہے کہ خدا کی جانب سے پیغمبر(ص)کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ خدا کی جانب سے جو پیغام ان پر نازل ہو چکا ہے وہ پیغام لوگوں تک پہونچا دیں اور یہ پیغام اتنا اہم ہے کہ اگریہ پیغام نہ پہونچایا گیا تو گویا کار رسالت ہی انجام نہیں دیا گیا،دوسری جانب {وَﷲُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاس}یہ بتا رہا کہ اس حکم الٰہی کے ابلاغ میں پیغمبر اکرم(ص) کو پریشانی اور خوف محسوس ہو رہا تھا خدا نے انہیں اطمینان دلایا اور حفاظت کا وعدہ کیا۔
واضح سی بات ہے کہ حکم الٰہی کے ابلاغ اور اجراء میں پیغمبر اکرم(ص) کبھی اپنی جان کے لئے نہیں ڈرتے تھے انہیں اپنی موت و حیات کی کوئی پرواہ نہیں تھی لہٰذا ان کی تمام پریشانی دین و شریعت سے متعلق تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس حکم الٰہی کے ابلاغ سے لوگ دین کے بارے میں ہی شک میں مبتلا ہو جائیں۔
اس بات کا حضرت علی(ع)کی ولایت و امامت سے براہ راست تعلق ہے،اس لئے کہ حضرت علی(ع) پیغمبر اکرم(ص) کے چچا زاد بھائی اور داماد تھے،عہد جاہلیت میں رائج عربوں کے قبائلی رسوم و عقائد کی بنا پر کفار اور موقع کے متلاشی افراد کے لئے غنیمت موقع تھا کہ پیغمبر اکرم(ص)کے اس اقدام کو بھی انہیں جاہلی عقائد و رسوم کے مطابق قرار دے دیں اور نتیجہ میں اسلام کی حقانیت ہی خطرہ میں پڑجائے کہ جاہلیت کے رسوم  وعقاید کا خاتمہ اسلام کا نعرہ تھا اور اب پیغمبر(ص) خود انھیں رسوم کے مطابق کام کر رہے اسی لئے خدانے پیغمبر(ص) کو تسلی دی کہ ہم آپ کوایسی تہمت سے محفوظ رکھیں گے اور دین اسلام کو اس جہت سے کوئی خطرہ نہ ہوگا۔(۳)
یہ اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ«حدیث یوم الدار»،«حدیث منزلت»اور شیعی عقائد کے مطابق دیگر احادیث میں حضرت علی(ع) کی ولایت وامامت پہلے ہی بیان ہوچکی تھی اور (غدیر میں)پیغمبر (ص)مسلمانوں کے سامنے جو پیش کررہے تھے وہ ایسے احکام ومعارف تھے جو خدا کی جانب سے نازل ہوئے تھے،حضرت علی(ع)کی امامت سے متعلق حکم تو پہلے ہی نازل ہو چکا تھا اور پیغمبر(ص) ابلاغ بھی کر چکے تھے اس طرح آیۂ تبلیغ کا حضرت علی(ع)کی امامت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ اعتراض اور آیۂ تبلیغ میں کوئی منافات نہیں ہے اس لئے کہ آیۂ تبلیغ سے مراد خصوصی ابلاغ ہے یعنی خاص حالات اور ہزاروں کے مجمع میں،جب ہر سمت کے مسلمان خانۂ خدا کی زیارت سے واپس آرہے ہیں ،پیغمبر کا آخری سفر حج ،آنحضرت(ص) کی حیات طیبہ کا آخری سال اور پیغمبر(ص)کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اس طرح سے علی(ع)کی امامت کا ابلاغ واعلان کریں،اس خاص اندازکے ابلاغ واعلان اور عام حالات میں محدود افراد کے سامنے ہونے والے سابقہ ابلاغ و اعلان کے درمیان کوئی منافات نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔مائدہ /۶۷
۲۔الغدیر ج/۱  ص/۲۱۴تا ۲۲۳ ۔آیت کے شان نزول اور وقت کے بارے میں غیر مشہور اقوال بھی پا ئے جا تے ہیں۔ ان اقوال سے واقفیت او تنقید کے لئے تفسیر المیزان ج/۶ملاحظہ فرمائیں۔
۳۔المیزان،ج/۶،ص/۴۵و۵۲ملاحظہ فرمائیں۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Sep 19