Saturday - 2018 Nov 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187093
Published : 4/5/2017 16:20

بیوی کے فرائض:

سسرال میں مقبولیت کا ازدواجی زندگی پہ اثر

کیا یہ زیب دیتا ہے کہ انسان بیگانوں کی طرف تو دوستی کا ہاتھ بڑھا کر اپنے لئے دوست اور رفیق پیدا کرے لیکن اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں سے تعلق ہی قطع کردے؟ حالانکہ تجربہ سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مشکل گھڑی میں اکثر دوست، انسان کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں لیکن وہی چھوڑے ہوئے عزیز اور رشتہ دار اس کی مدد کو پہونچتے ہیں چونکہ رشتہ داری ایک فطری تعلق ہے جسے آسانی کے ساتھ توڑا نہیں جاسکتا۔

ولایت پورٹل:شوہر کے گھر والوں اور بیوی کے درمیان اختلاف،زندگی کی مشکلات میں سے  ایک ہے ،اکثر خواتین کا اپنی ساس ، نند اور دیور کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں ہوتا یا اس کے برخلاف وہ افراد اس سے اچھی طرح پیش نہیں آتے ہیں،لہذا  مسلسل ان کے درمیان لڑائی جھگڑا اور اختلافات جاری رہتے ہیں، ایک طرف تو بیوی اپنے شوہر کی توجہ اس کے ماں باپ، بہن اور بھائی سے ہٹا کر اپنی جانب کرنا چاہتی ہے اس طرح کہ وہ ان کے درمیان رشتہ و ناتے ہی کو توڑ ڈالنا چاہتی ہے ان کو برا بھلا کہتی ہے،ان کی نسبت جھوٹ گھڑتی ہے، ان کے ساتھ لڑائی جھگڑا کرتی ہے  اور دوسری طرف  ساس اپنے آپ کو بیٹے اور بہو کا تنہا  مالک جانتی ہے اور ہر طرح یہ کوشش کرتی ہے کہ اپنے بیٹے کی حفاظت کرے اور یہ نہیں چاہتی کہ چار دن کی آئی بہو اس کے بیٹے کو اپنے  قبضہ میں لے  لے،اسی وجہ سے وہ ہمیشہ بہو کے کاموں پر تنقید کرتی ہے،  اس میں عیب نکالتی ہے،اس کی نسبت جھوٹ گھڑتی ہے لہذا ہر روز ایک نئی جنگ کا آغاز ہوتا ہے اور خصوصاً جب سب ایک ہی گھر میں رہتے ہوں ،اگر ان دونوں(میاں بیوی) میں سے کوئی  ایک یا دونوں نادان اور ضدّی ہوں تو ممکن ہے یہ مرحلہ  کوئی نازک پہلو اختیار کرجائے اور مار پیٹ تک بات پہونچے چنانچہ کوئی ایسا مہینہ نہیں ہوتا کہ جب ساس سے تنگ آکر بہو کی خودکشی کی خبر اخبار اور روز ناموں میں نہ چھپتی ہو لہذا آپ خود اخبار پڑھ کر یقین کرسکتے ہیں۔
یہ لوگ(ساس و بہو) دن رات  ایک دوسرے کے ساتھ  مقابلہ بازی اور زور آزمایی میں  مصروف رہتے ہیں لیکن ان کا سارا  غم و غصہ اور ناراضگی مرد  کے حصہ میں آتی ہے۔
اور اس مسئلہ میں  سب بڑی مشکل یہ ہے کہ جھگڑے کے دونوں فریق  ایسے افراد ہیں کہ مرد آسانی کے ساتھ ان سے بے توجہ نہیں ہوسکتا، ایک طرف  اس کی  اپنی بیوی ہے کہ جو اپنے والدین کو چھوڑ کر سینکڑوں امیدیں لے کر اس کے گھر آئی ہے تاکہ  پوری آزادی کے ساتھ خود مختار زندگی گذارے،لہذا مرد کا ضمیر اس سے کہتا ہے  کہ تجھے اس کو ہر حال میں خوش رکھنا چاہیئے،اس کی حفاظت کرنی چاہیئے،نیز وہ اس کی بیوی اور شریک حیات ہے وہ کسی بھی طرح اس سے دست بردار نہیں ہوسکتا ،دوسری طرف اسے یہ فکر بھی دامن گیر رہتی ہے کہ ماں باپ نے سالہا سال میرے لئے زحمتیں اٹھائیں،مجھے جوان کیا،انہیں مجھ سے ہزاروں امیدیں ہیں، مجھے پڑھایا لکھایا، کاروبار دیا، میری شادی کی اس امید پر کہ ضرورت کے وقت ،میں ان کا سہارا بنوں،لہذا یہ زندہ ضمیر کے خلاف ہے کہ میں اب ان کی طرف پشت کرتے ہوئے ان کو چھوڑ دوں، اس کے علاوه  اس  زندگی کو  ہزاروں  نشیب و فراز، سختیاں،بیماریاں،پریشانیاں،گرفتاریاں، دوستیاں،اور دشمنیان،حادثات اور موت وغیرہ وغیرہ  در پیش ہیں  اور مجھے ان  حساس مواقع اور حالات پر مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور اس عالم میں جو میرا ساتھ دے سکتے ہیں وہ میرے والدین،خاندان،عزیز اور  رشتہ دار ہیں اور میں اس تاریک دنیا میں بے سہارا نہیں رہ سکتا چنانچہ میرے اپنے ہی میری بہترین پناہ گاہ  ہوسکتے ہیں پس میں ان سے بے توجہ ہوکر دست بردار نہیں ہوسکتا ہوں۔
یہ وه مرحلہ ہے کہ  جہاں  ایک عقلمند  مرد اپنے  آپ کو ایک دوراہے پر کھڑا پاتا ہے،یا وہ  اپنی بیوی کی باتیں سن کر اپنے والدین سے دست بردار ہوجائے یا  اپنے والدین کی خواہش  کے مطابق عمل کرتے ہوئے اپنی بیوی کو  رنجیدہ کرے، اور اس کے لئے ان دونوں امور میں سے کسی ایک پر بھی عمل کرنا دشوار ہے۔
اسی وجہ سے وہ دونوں فریق کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کرنے پر مجبور ہوتا ہے،اور جہاں تک ممکن ہوتا ہے ان دونوں کو خوش رکھنے کی کوشش بھی کرتا ہے  واقعاً یہ بہت ہی دشوار اور سخت کام ہے! لیکن اگر بیوی بات سننے والی،ہوشیار ہو اور ضد اور ہٹ دھرمی نہ کرے تو یہ مشکل آسانی کے ساتھ حل ہوسکتی ہے۔
اسی وجہ سے مرد کو اپنی بیوی سے یہ توقع ہوتی ہے کہ وه اس مشکل کو  حل کرنے میں اسکی مدد کرے کیونکہ وہی اس کی نسبت سب سے زیادہ نزدیک اور ہمدرد ہوتی ہے، اگر بہو اپنی ساس کے سامنے  ذرا تواضع و  فروتنی سے پیش آتے ہوئے تسلیم ہوجائے،اس کا احترام کرے،اس سے اظهار محبت کرے،گھر کے کاموں کے متعلق اس سے مشورہ کرے، مہربانی اور نرمی کے ساتھ پیش آئے، اس سے مدد طلب کرے تو وہی ساس اس کیلئے  سب بڑی ہمدرد اور پشت پناہ  بن جائیگی۔
انسان تو اپنے  اچھے  اخلاق اور اظهار محبت کے ذریعہ بہت سے لوگوں کو اپنا دوست اور اپنا شریک غم  بنا سکتا ہے،تو کتنی بری بات ہے کہ  ضد،تکبر اور ہٹ دھرمی کے ذریعہ وہ ان سب یار و مددگاروں کو  اپنے ہاتھوں سے گنوا بیٹھے؟
کیا اس نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ زندگی کی  بھیڑ، سختیوں اور فراز و نشیب  میں اسے دوسروں کی مدد کی ضرورت پڑسکتی ہے  اور ایسے حساس مواقع پر مشکل ہی سے کوئی انسان کے  کام آتا ہے صرف اپنے ہی عزیز، رشتہ دار اس کی مدد کو پہونچتے ہیں۔  
کیا یہ مناسب نہیں ہے کہ  انسان اپنے خاندان اور رشتہ داروں کے ساتھ ہمدردی اور خوش اخلاقی سے پیش آئے اور ان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھ کر ان کی محبتوں اور ہمدردیوں سے لطف اندوز ہو اور اپنے لئے کچھ حقیقی دوست اور پشت پناہ بنائے؟
کیا یہ زیب دیتا ہے کہ  انسان  بیگانوں کی طرف تو دوستی کا ہاتھ بڑھا کر اپنے لئے دوست اور رفیق پیدا کرے لیکن اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں سے تعلق ہی قطع کردے؟ حالانکہ تجربہ سے یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مشکل گھڑی میں اکثر دوست، انسان کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں لیکن وہی چھوڑے ہوئے  عزیز اور رشتہ دار  اس کی مدد کو پہونچتے ہیں چونکہ رشتہ داری ایک فطری تعلق ہے جسے آسانی کے ساتھ توڑا نہیں جاسکتا۔
چنانچہ یہ ضرب المثل مشہور ہے کہ:اگر اپنی قوم  اور قبیلے والے انسان کے تمام گوشت کو کھابھی لیں تب بھی ہڈیاں دور نہیں پھینکتے۔
چنانچہ حضرت امام علی ابن بی طالب علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: انسان کبھی بھی اپنوں(عزیز و رشتہ دار) سے بے نیاز نہیں ہوسکتا،اگرچہ اس کے  پاس مال و اولاد کی فراوانی ہی  کیوں نہ ہو،  اسے ان کی مہربانیوں اور ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے، اعزاء و اقارب اپنی زبان اور هاتھ سے اس کی  حمایت اور دفاع کرتے ہیں، مشکل اوقات میں دوسروں سے پہلے اس کی مدد کو پہونچتے ہیں جو بھی اپنے  رشتہ داروں اور عزیزوں سے ہاتھ کھینچتا ہے  تو اس نے تو ایک ہاتھ کھینچا ہے لیکن اس کے عوض بہت سے ہاتھوں کی مدد سے محروم  ہوجاتا ہے۔( بحار الانوار، ج 74، ص 101)
محترم خاتون !اپنے  شوہر کی خوشی کی خاطر ، اپنے آرام و سکون  کے لئے، اپنے  کچھ حامی ،مددگار اور ناصر  پیدا کرنے کے لئے ،اپنے  شوہر کی نظروں میں مقام پانے کے لئے آپ اپنے  شوہر کے گھروالوں، رشتہ داروں کے ساتھ  میل جول رکھیں،ضد، ہٹ دھرمی ، خود خواهی اور تکبر و جهالت کو چھوڑ دیں، سمجھداری اور عقلمندی سے کام لیں،اپنے  شوہر کے ذہن کو  پریشان مت کریں،فداکاری،جانثاری اور  شوہر کی خدمت کریں تاکہ آپ خدا اور اسکی مخلوق کی نظروں میں  محبوب بن سکیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Nov 17