Saturday - 2018 Nov 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187121
Published : 6/5/2017 16:11

بچوں کی تخلیقی صلاحیت کو بیدار کرنے کا فارمولا (1)

تخلیق کے معنی ہیں نئی چیز بنانا، اس لحاظ سے تخلیق کار کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ نئی باتیں، نئے طریقے،نئے راستے سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے،اس میں جستجو کا مادہ ہوتا ہے،اس کی خیالی تصویر بنانے کی قوت قوتِ متخیلہ بہت تیز ہوتی ہے،اس کی سوچ میں رکاوٹ نہیں آتی، وہ جمالیات کی حس کا مالک ہوتا ہے۔


ولایت پورٹل:
ہمارا مقصد ایسی تجاویز پر بات کرنا ہے کہ جن سے بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بیدار کیا جا سکے۔
بچوں کی تخلیقی صلاحیتیں
تخلیقی قوت کسی میں بھی پیدا کی جاسکتی ہے،بچوں کی نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تخلیق کی قوت پیدائشی نہیں، یہ کسی میں بھی پیدا کی جاسکتی ہے، اس بارے میں امریکا کی مشہور یونیورسٹی میری لینڈ کی ماہر نفسیات ایلس ٹیسن کہتی ہیں: تخلیق کے بارے میں اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ ایک مستحکم اور کسی قدر پراسرار صفت ہے جو صرف بعض خوش نصیب لوگوں کو حاصل ہوتی ہے لیکن تحقیق نے ثابت کردیا ہے کہ تخلیقی قوت کسی میں بھی پیدا کی جاسکتی ہے۔
اس تحقیق سے ماں باپ اور اسکولوں کی ذمہ داری میں اضافہ ہوگیا ہے، جب ان کے بچوں کے لئے تخلیقی قوت کے تمام راستے کھلے ہیں تو ان پر لازم ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت ایسے انداز میں کریں کہ ان کی تخلیقی قوت بیدار ہو جائے۔
تخلیق ہے کیا؟
مگر سوال یہ ہے کہ تخلیق ہے کیا؟تخلیق کے معنی ہیں نئی چیز بنانا، اس لحاظ سے تخلیق کار کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ نئی باتیں، نئے طریقے،نئے راستے سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے،اس میں جستجو کا مادہ ہوتا ہے،اس کی خیالی تصویر بنانے کی قوت قوتِ متخیلہ بہت تیز ہوتی ہے،اس کی سوچ میں رکاوٹ نہیں آتی، وہ جمالیات کی حس کا مالک ہوتا ہے،وہ من موجی اور جذباتی ہوتا ہے اور فرسودہ طریقوں کو دوہرانے سے اجتناب کرتا ہے،یہ تمام باتیں ہر بچے میں موجود ہوتی ہیں،نہ صرف بڑے بچے بلکہ چھوٹے بچوں میں بھی یہ تمام باتیں ہوتی ہیں، وہ ہر چیز ہر کام کو بغور دیکھتے ہیں، ٹوہ لگاتے ہیں،کریدتے ہیں، چھوتے ،سونگھتے ہیں،سوچتے ہیں، کھلونوں سے باتیں کرکے اپنے احساسات کا اظہار کرتے ہیں، اسے اپنی اسکیمیں بتاتے ہیں،ایک چیزمیں کئی چیزیں ڈال کر دیکھتے ہیں کہ اس سے اب کیا بنے گا،ایک رنگ میں کئی رنگ ملاتے ہیں، وہ چیزوں کو کبھی علیحدہ رکھتے ہیں تو کبھی ڈھیر لگا لیتے ہیں،کبھی تقسیم کرتے ہیں تو کبھی چھپا دیتے ہیں یعنی تمام امکانات پر غور کرتے ہیں، گویا ہر بچہ اپنے آپ میں فلاسفر، تجزیہ نگار اور تخلیق کار ہوتا ہے۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
urduweb


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Nov 17