Saturday - 2018 Nov 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187142
Published : 7/5/2017 17:50

افغانستان میں داعش کی مدد کا امریکی خطرناک کھیل(ایک تبصرہ)

ایسے حالات میں کہ افغانستان کے صوبۂ ننگرہار میں طالبان اور داعشی دہشت گردوں کے درمیان کئی دن سے لڑائی جاری ہے، افغانستان کے ایک رکن پارلیمنٹ ظاہر قدیر نے صوبۂ ننگرہار میں امریکی فوج کی طرف سے داعشی دہشت گردوں کی مدد کا انکشاف کیا ہے۔


ولایت پورٹل:افغان رکن پارلیمنٹ ظاہر قدیر نے، جو پارلیمنٹ میں صوبۂ ننگرہار کی نمائندگی کرتے ہیں، کہا ہے کہ ننگرہار صوبے کے علاقے اسپین جومات میں داعش سے وابستہ بہت سے افراد طالبان کے محاصرے میں تھے لیکن امریکی جنگی طیاروں کے ذریعہ ان کو نجات دلادی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ علاقے میں طالبان اور داعشی دہشت گردوں کے درمیان لڑائی کے دوران امریکی خصوصی فورس اور ہیلی کاپٹر داعش سے وابستہ افراد کو بچانے کے لئے طالبان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ صوبۂ ننگرہار میں طالبان اور داعشی دہشت گردوں کے مابین لڑائی کے دوران امریکی فضائیہ کی طرف سے داعشی دہشت گردوں کی مدد کا افغان رکن پارلیمنٹ ظاہر قدیر کا انکشاف، افغانستان اور علاقے میں اپنے اہداف کے حصول کے لئے دہشت گرد گروہ داعش کو استعمال کرنے کی وائٹ ہاؤس کی منصوبہ بندی کا غماز ہے،امریکہ، جو عراق اور شام میں ان دونوں ممالک کی حکومتوں کے خاتمے کی غرض سے داعش گروہ کی مدد کر رہا ہے، افغانستان میں بھی اس دہشت گرد گروہ کی مدد کرکے اپنے بعض اہداف و مقاصد کے لئے داعش سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ افغانستان میں نیٹو کے کچھ کمانڈروں کی اس بات کے پیش نظر کہ، داعش گروہ صوبۂ ننگر ہار کو محور قرار دے کر مشرقی افغانستان کے علاقے کو اپنی علاقائی سرگرمیوں کے مرکز میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے، یہ سمجھا جاتا ہے کہ وائٹ ہاؤس اس طرح کی منصوبہ بندی کی مدد و حمایت کر رہا ہے۔ ننگرہار میں طالبان اور داعش گروہ کے درمیان ہونے والی لڑائی کے دوران امریکی جنگی طیاروں کی طرف سے داعش سے وابستہ افراد کی مدد کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وائٹ ہاؤس، مشرقی افغانستان کا علاقہ، داعش کے علاقائی مرکز میں تبدیل ہونے کی حمایت کرتا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ افغانستان میں داعش کے نئے مرکز کی تشکیل کی حمایت و مدد کرکے علاقائی سطح پر تخریبی کارروائیاں انجام دینے کے لئے داعش گروہ سے کام لینا چاہتا ہے،ادھر افغانستان کے بعض سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ امریکہ افغانستان میں طالبان اور داعش گروہوں کے درمیان لڑائی کرواکے طالبان کو کمزور کرنا چاہتا ہے اور پھر یہ خطرناک منصوبہ افغانستان میں داعش گروہ کی تقویت اور اس گروہ کی دہشت گردانہ کارروائیوں میں شدت پر منتج ہوسکتا ہے۔ افغانستان میں داعش کو مضبوط کرنے کا خطرناک منصوبہ افغانستان میں بدامنی میں کمی کا باعث نہیں بنے گا بلکہ طالبان اور داعش گروہوں کی تخریبی کارروائیوں میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ بنابریں، افغانستان میں داعش کو استعمال کرنے کے خطرناک امریکی کھیل سے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کے درمیان جنگ میں شدت اور افغانستان میں بدامنی پھیلانے کی اسٹریٹیجی جاری رکھنے اور اس کو تقویت دینے کے لئے طالبان کو ترغیب بھی مل سکتی ہے،ننگرہار میں طالبان اور داعش گروہوں کے درمیان لڑائی کے دوران امریکی فوج کی طرف سے داعش گروہ کی مدد کے بارے میں ظاہر قدیر کے تازہ بیان اور کابل میں بعض سفارت خانوں سے داعش کے رابطے سے متعلق ان کے کئی ماہ پہلے والے بیان سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ نے دہشت گرد گروہ داعش کی سیاسی اور فوجی حمایت و مدد کو افغانستان میں اپنی نئی ترجیحات میں شامل کرلیا ہے۔
سحر


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Nov 17