Wed - 2018 Sep 26
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187147
Published : 8/5/2017 15:17

بچوں کی تخلیقی صلاحیت کو بیدار کرنے کا فارمولا (2)

ماں باپ ہی بچوں کے لئے ماڈل ہوتے ہیں،اگر والد صاحب جھنجھلاجھنجھلا کر کہیں کہ تم ہی نے بچے کو بگاڑا ہے،بچوں کوپالنا اور دیکھنا میرا کام نہیں، اگر ہر وقت ان کی پیشانی پر تیوری ہو اور بیگم صاحبہ سے بات بات پر الجھیں اور بیگم صاحبہ خود جوالا مکھی بنی رہیں، بات بے بات پر غصہ نکالیں تو بچوں کا ذوق تخلیق کیا بیدار ہوگا،ان میں ذوق تخریب پیدا ہونا شروع ہو جائے گا۔


ولایت پورٹل:
قارئین کرام ہم نے تربیت اولاد کے حوالے سے گذشتہ کالم میں یہ گذارش کی تھی کہ تخلیق کے معنی ہیں نئی چیز بنانا، اس لحاظ سے تخلیق کار کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ نئی باتیں، نئے طریقے،نئے راستے سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے،اس میں جستجو کا مادہ ہوتا ہے،اس کی خیالی تصویر بنانے کی قوت قوتِ متخیلہ بہت تیز ہوتی ہے،اس کی سوچ میں رکاوٹ نہیں آتی، وہ جمالیات کی حس کا مالک ہوتا ہے،لہذا ہماری گذشتہ پوسٹ کو پڑھنے کے لئے  اس لنک پر کلک کیجئے!
بچوں کی تخلیقی صلاحیت کو بیدار کرنے کا فارمولا (1) 
گذشتہ سے پیوستہ:تخلیقی صلاحیت کو پابند کرنے کی غلطی نقصاندہ ہوسکتی ہے۔
بچے  کی تخلیقی صلاحیت کو پابند کرنے کی غلطی اکثر والدین سے سرزد ہوتی ہے،مثلاً میرے ایک دوست ہیں شرافت علی، ان کے دو بچے ہیں، میں انہیں بڑا ذہین سمجھتا تھا،کیوں کہ وہ باتیں بھی گہری کرتے تھے اور ڈرائینگ تو مت پوچھئے، ایسی عمدہ تصویریں بناتے تھے کہ بس دیکھتے رہ جائیں، عید کی آمد آمد تھی،شرافت علی نے بچوں سے کہا کہ اس بار ہم تمہارے ڈیزائن کردہ کارڈ اپنے دوستوں رشتے داروں کو بھیجیںگے،چار بائی چھ انچ کے گتے پر سرخ اور سبز رنگ سے پہاڑی اور ندی کی ایک تصویر بناﺅ،ندی میں کشتی بھی دکھانا،بس یہیں پر انہوں نے غلطی کردی تھی،نتیجہ یہ نکلا کہ بچوں نے تصویر تو بنادی مگر اس میں وہ بات پیدا نہ ہو سکی جس کے وہ متلاشی تھے،دراصل انہوں نے بچوں کو پابندیوں میں جکڑ کر ان کے ذوق تخلیق کو قتل کردیا،یہی تجزیہ برینڈیز یونیورسٹی کی ماہر نفسیات پروفیسر ٹریسا امابیل کا بھی ہے، وہ کہتی ہیں کہ بچوںکو پابندیوں میں جکڑنے سے ان کا ذوق تخلیق متاثر ہوتا ہے،وہ کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔
بچوں کی تخلیق کو بیدار کرنے کا فارمولا
کام میں وابستگی، لگن، جوش اور آزادی یہ چیزیں تخلیق کے عمل کو آگے بڑھاتے ہیں، کامیابی دلاتی ہیں،اگر نکتہ چینی کی ضرورت ہو تو حوصلہ افزائی اور مدد دینے کی نیت سے کریں، ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ بچوں کے تجسس کو قائم رکھیں،جستجو ، تلاش اور نئی بات معلوم ہونے اور نیا کام کرنے کی بے حد خوشی ہوتی ہے،بچوں کی تخلیق کو بیدار کرنے کا فارمولا ہے جستجو، تلاش، جوش وخروش ، لگن، آزادی اور خوش دلی، بچوں میں کھلنڈرا پن اور مزاح بدرجہ اتم موجود ہیں، اگر آپ کارٹون دیکھتے وقت بچوں کو دیکھیں تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ وہ الٹی سیدھی باتوں اور حماقتوں کو دیکھ کرخوش ہوتے ہیں، تبصرہ کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ اگر میں ہوتا تو یوں کردیتا،بچوں کی اس روح کو زندہ رکھنا ضروری ہے،بے جا پابندیاں بچوں کی نشوونما پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
ماں باپ ہی بچوں کے لئے ماڈل ہوتے ہیں،اگر والد صاحب جھنجھلاجھنجھلا کر کہیں کہ تم ہی نے بچے کو بگاڑا ہے،بچوں کوپالنا اور دیکھنا میرا کام نہیں، اگر ہر وقت ان کی پیشانی پر تیوری ہو اور بیگم صاحبہ سے بات بات پر الجھیں اور بیگم صاحبہ خود جوالا مکھی بنی رہیں، بات بے بات پر غصہ نکالیں تو بچوں کا ذوق تخلیق کیا بیدار ہوگا،ان میں ذوق تخریب پیدا ہونا شروع ہو جائے گا،ماں باپ خوش مزاج، زندہ دل، بچوں میں دلچسپی لینے والے ہوں تو ان کے بچے ترقی کے زینے طے کرتے چلے جاتے ہیں، بچے تو پودے ہیں، کھاد ڈالی جائے، پانی دیا جائے اور پودے کا خاص خیال رکھا جائے تو وہ پودا پھلتا پھولتا ہے،ہر بچے میں تخلیق کا مادہ ہوتا ہے،ان میں ذوق تجسس، جوش و خروش اور کام میں لگن پیدا کی جائے تو ان کے اندر کا تخلیق کار بیدار ہوتا چلا جاتا ہے اس لئے ہر ماں باپ کو چاہیئے کہ بچوں کومشورہ دیں، رہنمائی کریں لیکن ہمت افزائی کے لہجے میں، پیار کے ساتھ احتیاط کے ساتھ ۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Sep 26