Wed - 2018 Sep 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187152
Published : 8/5/2017 16:4

ظہور کے وقت امام مہدی(عج) کے سب سے بڑے دشمن؟

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے حالات میں لوگوں کے درمیان تبلیغ کیا کرتے تھے کہ جب وہ پتھر اور لکڑی کے سے بنے بتوں کی پوجا کیا کرتے تھے لیکن حضرت قائم آل محمد علیہ السلام جب ظہورکریں گے تو لوگ اللہ کی کتاب کی تاویل کرکے ان کے سامنے آئیں گے اور اسی تاویل کے ساتھ آپ علیہ السلام سے جنگ کریں گے۔


ولایت پورٹل:
ایک کلی تقسیم کے لحاظ سے امام زمانہ علیہ السلام کے دشمن دو گروہوں میں تقسیم ہوتے ہیں:
بعض مسلمان
اس گروہ میں ایسےافراد حضرت امام مہدی علیہ السلام کے ساتھ دشمنی کریں گے کہ جو اسلامی تعلیمات کا عقیدہ رکھتے ہوں گے، لیکن بعض امورکی وجہ سے وہ ظہورکے وقت ان کی پیروی سے منہ موڑلیں گے اوردشمنوں کے گروہ میں شامل ہوجائیں گے،یہاں پر ایسے بعض افراد یا گروہوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:
۱۔ منافقین
تحقیقات سےمعلوم ہوتا ہےکہ کافروں، مشرکوں، یہودیوں اورعیسائیوں کے علاوہ کچھ ایسے گروہ بھی ہیں کہ جو امام علیہ السلام کے مقابلے میں کھڑے ہوں گے اوران میں ایسے افراد بھی دیکھنے میں آئیں گے کہ جو امام علیہ السلام کا ساتھ دینے کا سب سے زیادہ دعویٰ کیا کرتے تھے،یہ منافق انسان ہیں کہ جو ظہور میں اپنے مفادات کو دیکھتےتھے اور اب جب وہ اپنےخیال کے بالعکس امام کے قیام کو عدل وانصاف کی بنیاد پر دیکھیں گے تو وہ آپ کے دشمنوں میں شامل ہوجائیں گے،حضرت مہدی علیہ السلام کی حکومت میں اس قسم کے افراد اسلامی معاشرے اورحکومت میں نفوذ کے درپئے ہوں گے،امام علیہ السلام مخالفین کا قلع قمع کرکے کامیابی کےساتھ کوفہ میں داخل ہوں گے اوردیگر گمراہ فرقوں کے ساتھ ساتھ منافقین کا بھی خاتمہ کردیں گے۔
۲۔  رفاه طلب اورسہولت پسند افراد
رفاہ طلبی اورسہولت پسندی ، انانیت اورخود پسندی کی جڑیں ہیں اور یہ انسانوں کی تباہی و بربادی کا باعث ہیں،رفاہ طلب انسان دین کی اس طرح تفسیر کرتا ہے کہ جو اس کی لذتوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو، وہ ایسےاحکام کے درپئے ہوتا ہے کہ جو اس کی دنیا کے لیےخطرہ نہ بنیں۔
امام زمانہ علیہ السلام کا عالمی انقلاب بہت زیادہ سختیوں اور مشکلات سےعبورکرکے کامیابی سے ہمکنارہوگا، معاشرے کے نچلے طبقوں کی طبقہ اشراف کے ساتھ جنگ اور تلواروں کی جھنکار کے ساتھ ایمان کا امتحان لیا جائے گا،حقیقی مؤمنین کو بلاؤں اورمصیبتوں کے لیے آمادہ کیا جائے گا،لیکن رفاہ طلب اور سہولت پسند افراد مذہب کی آڑ میں اپنے مقام و منصب کو بہانہ بنائیں گے، بے شک امام مہدی علیہ السلام ایسے افراد کا بھی قلع قمع کردیں گے۔
۳۔ بہانہ بنانے والے افراد
تاریخ اسلام کے ابتدائی سالوں سے ہی ہمیشہ بہانے والے افراد موجود رہے ہیں کہ جو دین اسلام کے فروغ میں رکاوٹیں ڈالتے رہے،جو لوگ حقیقت اور واقعیت سے دور تھے وہ انانیت کی وجہ سے ذمہ داریوں سے دوربھاگتے رہے ہیں البتہ ان کے درمیان ایسے افراد بھی ہیں کہ جو دینی تعلیمات کی بنیاد پراپنے کردار اور اعمال کی دلیل گھڑنے کی کوشش کرتے ہیں،انانیت اور دین کے بارے میں ادراک کا محدود ہونا سبب بنتا ہےکہ وہ اہم اورحساس زمانوں اوربحرانوں میں اپنی ذمہ داری کو نہ پہچان سکیں اورپیغمبر اور ائمہ اطہارعلیہم السلام اور ان کی ولایت کی پیروی نہ کرسکیں اوربعض اوقات تو ان کے مقابلےمیں آجائیں۔
امام مہدی علیہ السلام کےظہور کے وقت بھی سماجی افکار اور کردارمیں پسماندگی کا خاتمہ ہونےکی بجائے وہ ایک نئےانداز سے ظاہرہوگی،محمد بن ابی حمزہ نے امام صادق علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے:«الْقَائِمُ يَلْقَي فِي حَرْبِهِ مَا لَمْ يَلْقَ رَسُولُ اللَّهِ صلی الله عليه و آله إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی الله عليه و آله أَتَاهُمْ وَ هُمْ يَعْبُدُونَ حِجَارَةً مَنْقُورَةً وَ خُشُباً مَنْحُوتَةً وَ إِنَّ الْقَائِمَ يَخْرُجُونَ عَلَيْهِ فَيَتَأَوَّلُونَ عَلَيْهِ كِتَابَ اللَّهِ وَ يُقَاتِلُونَهُ عَلَيْهِ»
ترجمہ:حضرت قائم علیہ السلام اپنی جنگ کے دوران ایسی چیزکا مقابلہ کریں گے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی جس کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا،بتحقیق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے حالات میں لوگوں کے درمیان تبلیغ کیا کرتے تھے کہ جب وہ پتھر اور لکڑی کے سے بنے بتوں کی پوجا کیا کرتے تھے لیکن حضرت قائم آل محمد علیہ السلام جب ظہورکریں گے تو لوگ اللہ کی کتاب کی تاویل کرکے ان کے سامنے آئیں گے اور اسی تاویل کے ساتھ آپ علیہ السلام سے جنگ کریں گے۔
فضیل بن یسار کہتےہیں: میں نےامام صادق علیہ السلام سے سنا کہ آپ نے فرمایا:«إِنَّ قَائِمَنَا إِذَا قَامَ اسْتَقْبَلَ مِنْ جَهْلِ النَّاسِ أَشَدَّ مِمَّا اسْتَقْبَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ مِنْ جُهَّالِ الْجَاهِلِيَّةِ»
ترجمہ:ہمارے قائم جب قیام کریں گے تو لوگ جہالت کی بنا پران کا مقابلہ کریں گے،البتہ یہ مقابلہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس دورکے جاہلوں کے ساتھ مقابلے سے زیادہ سخت ہوگا۔
میں نےعرض کیا:یہ کس طرح ممکن ہے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا:«إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلی الله عليه و آله أَتَي النَّاسَ وَ هُمْ يَعْبُدُونَ الْحِجَارَةَ وَ الصُّخُورَ وَ الْعِيدَانَ وَ الْخُشُبَ الْمَنْحُوتَةَ وَ إِنَّ قَائِمَنَا إِذَا قَامَ أَتَي النَّاسَ وَ كُلُّهُمْ يَتَأَوَّلُ عَلَيْهِ كِتَابَ اللَّهِ يَحْتَجُّ عَلَيْهِ بِهِ ثُمَّ قَالَ أَمَا وَ اللَّهِ لَيَدْخُلَنَّ عَلَيْهِمْ عَدْلُهُ جَوْفَ بُيُوتِهِمْ كَمَا يَدْخُلُ الْحَرُّ وَ الْقُرُّ»
ترجمہ:بتحقیق رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسے حالات میں لوگوں کے درمیان تبلیغ کرتے تھے کہ جب وہ پتھر اور لکڑی سے بنے ہوئے بتوں کی پوجا کیا کرتے تھے، ہمارے قائم جب قیام کریں گے تو لوگ ان کے سامنے اللہ کی کتاب کی تاویل کریں گے اوراسے ان کے خلاف دلیل بنا پرپیش کریں گے۔ پھرفرمایا: اللہ کی قسم جان لوکہ ان کے عدل وانصاف کی لہراس طرح تمہارے گھروں میں داخل ہوجائے گی کہ جس طرح گرمی اورسردی تمہارے گھروں میں داخل ہوتی ہیں۔
البتہ یاد رہےکہ امام علیہ السلام دعوت کےمرحلے میں اپنے اقدامات کے اہداف کو بیان فرمائیں گے اور لوگوں کے لیے کوئی ابہام باقی نہیں رہے گا تاکہ حق مکمل طورپر واضح ہوجائے،جب حق واضح ہوجائے گا تو پھر اگر دشمنوں نے مخالفت کی تو ان کے خلاف عسکری اقدام کیا جائے گا۔
رسول گرامی اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قائم آل محمد عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے دستورات کی مخالفت کرنے والے باغیوں کو ہلاکت اورتباہی کی بشارت دی اور فرمایا:«مَنْ تَبِعَهُ نَجَا وَ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْهُ هَلَك»
ترجمہ:جس نے ان کی پیروی کی وہ نجات پاگیا اورجس نے ان کی مخالفت کی وہ ہلاک اورتباہ ہوگیا۔
کتاب:حضرت مہدی علیہ السلام کے عالمی انقلاب میں لوگوں کا کردار
شبستان
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Sep 19