Friday - 2018 Oct. 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187233
Published : 14/5/2017 15:35

بچوں کے لڑائی جھگڑے کو کیسے کنٹرول کریں؟(۳)

بعض ماں باپ بچوں کى تربیت کے لیے ایک کى خصوصیات دوسرے کے سامنے بیان کرتے ہیں،ایسے ماں باپ کا طرز عمل بالکل غلط ہے کیونکہ اس کا نہ فقط مثبت تربیتى نتیجہ نہیں نکلتا بلکہ اس سے بچوں میں رقابت اور حسد پیدا ہوجاتا ہے اور انہیں انتقام اور دشمنى پر ابھارتا ہے،کبھى بچے خود بھى ایسى باتوں کا اظہار کرتے ہیں۔


ولایت پورٹل:
قارئین کرام! ہم نے گذشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ ہر بچہ خود پرست ہوتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ فقط وہى ماں باپ کا محبوب ہو اور کوئی دوسرا ان کے دل میں جگہ نہ لے پائے،پہلا بچہ عموماً ماں باپ کو لاڈلاہوتا ہے،وہ اس سے پیار محبت کرتے ہیں،اس کى خواہشات کو پورا کرتے ہیں،لیکن جب دوسرا بچہ دنیا میں آتا ہے تو حالات بدل جاتے ہیں،ماں باپ کى پورى توجہ نو مولود کى طرف ہوجاتى ہے،اب بڑا بچہ خطرہ کا احساس کرتا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ یہ ننھا بن بلایا مہمان اب اس کا رقیب بن گیا ہے،اور ماں باپ کو اس نے اپنا بنالیا ہے،وہ سمجھتا ہے کہ اس سے انتقام لینا چاہیئے،لہذا اس کے اندر اس انتقام کے جذبہ کو ایثار میں بدلنا والدین کا ہنر تربیت ہے،اس پورے مضمون کو پڑھنے کے لئے نیچے دیئے گئے لنکس پر کلک کیجئے!
بچوں کے لڑائی جھگڑے کو کیسے کنٹرول کریں؟(۱)
بچوں کے لڑائی جھگڑے کو کیسے کنٹرول کریں؟(۲)
گذشتہ سے پیوستہ:ممکن ہے بعض بچوں میں واقعاً ایسى خصوصیت ہو کہ جس کى وجہ سے ماں باپ کى محبت ان سے زیادہ ہوجائے، ہوسکتا ہے بعض بچے زیادہ ذہین ہوں، زیادہ خوبصورت ہوں ،بعض کا اخلاق بہتر ہو،ہوسکتا ہے زیادہ محنتى ہوں، ہوسکتا ہے بعض زیادہ خوش زبان ہوں، ہو سکتا ہے کسى کا سلوک دوسرے کی نسبت ماں باپ سے زیادہ بہتر ہو،ہوسکتا ہے کوئی کلاس میں نمبر اچھے لائے،ہوسکتا ہے ماں باپ بیٹى یا بیٹے کو زیادہ پسند کرتے ہوں۔
ممکن ہے اس میں کوئی حرج بھى نہ ہو کہ ماں باپ قلباً کسى ایک بچے کو زیادہ پسند کرتے ہوں لیکن ان کا سلوک سب سے ایک جیسا ہونا چاہیئے اور اس میں فرق نہیں کرنا چاہیئے ،یہاں تک کہ بچے ذرا بھى دوسرے کے بارے میں ترجیحى سلوک نہ دیکھیں،یہاں اس امر کا تذکرہ ضرورى ہے کہ بچے ماں باپ کى محبت کے بارے میں بہت حساس ہوتے ہیں، اور اس پر بہت توجہ دیتے ہیں اور حقیقت کو جلد سمجھ لیتے ہیں،لہذا ماں باپ کو بہت محتاط ہونے کى ضرورت ہے۔
بعض ماں باپ بچوں کى تربیت کے لیے ایک کى خصوصیات دوسرے کے سامنے بیان کرتے ہیں،مثلاً کہتے ہیں: حسن خوب سبق پڑھو تاکہ عباس کى طرح اچھے نمبر حاصل کرسکو،کہتے ہیں: زہرا تم اپنى بہن زینب کى طرح ماں کى مدد کرو زینب کتنى اچھى بچى ہے کہتے ہیں: رضا تم بھى اپنے بھائی على کى طرح دستر خوان پر سلیقے سے بیٹھو،دیکھو وہ کتنا با ادب بچہ ہے۔
ایسے ماں باپ کا طرز عمل بالکل غلط ہے کیونکہ اس کا نہ فقط مثبت تربیتى نتیجہ نہیں نکلتا بلکہ اس سے بچوں میں رقابت اور حسد پیدا ہوجاتا ہے اور انہیں انتقام اور دشمنى پر ابھارتا ہے،کبھى بچے خود بھى ایسى باتوں کا اظہار کرتے ہیں۔
بچوں کے لڑائی جھگڑے کى ایک وجہ ماں باپ کى ان سے بے جا توقع ہے،بچہ چاہتا ہے کہ اپنے بھائی یا بہن کے کھلونوں سے کھیلے لیکن وہ اسے اس کى اجازت نہیں دیتے،لہذا لڑائی جھگڑا شروع ہوجاتا ہے، ایسے وقت ماں یا باپ دخالت کرتے ہیں اور پیار کے ساتھ سمجھاتے ہیں اور اگر پیار کا اثر نہ ہو تو سختى سے انہیں سمجھاتے ہیں کہ وہ اپنے کھلونے اپنے بھائی کودے دیں،مثلاً کہتے ہیں: یہ تمہارا بھائی ہے،کیوں اسے کھلونے نہیں دیتے ہو کھلونے لائے تو ہم ہى ہیں، کیا یہ تمہارى ملکیت ہیں کہ جو اسے کھیلنے کى اجازت نہیں دیتے ہو اگر تم نے ایسا کیا تو پھر تم سے ہم پیار نہیں کریں گے اور نہ ہى آئندہ تمہیں کھلونے خرید کردیں گے۔
بچہ بیچارہ مجبور ہوجاتا ہے،کھلونے دے تو دیتا ہے لیکن ماں یا باپ کو سخت مزاج اور بھائی کو ظالم سمجھنے لگتا ہے اور دل میں دونوں سے نفرت پیدا ہوجاتى ہے اور جب بھى اسے موقع ملتا ہے پھر وہ اس کا اظہار کرتا ہے کیوں کہ بچہ ان کھلونوں کو اپنا مال سمجھتا ہے اور اس کا خیال ہوتا ہے کہ کسى کو حق نہیں کہ اس کى اجازت کے بغیر انہیں ہاتھ لگائے لہذا وہ اپنے آپ کو مظلوم اور اپنے بھائی اور باپ کو ظالم سمجھتا ہے،ایسے موقع پر یہ بچہ حق پر ہے کیوں کہ ماں باپ کسى کو اجازت نہیں دیتے کہ ان کى مخصوص چیزوں کو کوئی چھوئے پھر یہ حق وہ بچوں کو کیوں نہیں دیتے،اور ہر شخص کى کچھ اپنى چیزیں ہوتى ہیں کہ جن کے استعمال سے وہ دوسروں کو روک سکتا ہے،البتہ عقل مند اور باتدبیر ماں باپ آہستہ آہستہ بچوں کے اندر تعاون اور ایثار کا جذبہ پیدا کرسکتے ہیں،اور ایسى فضا پیدا کرسکتے ہیں کہ وہ خوشى خوشى اپنے بہن بھائیوں کو اپنے کھلونوں سے کھیلنے اور اپنى چیزوں کے استعمال کى اجازت دے سکیں۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Oct. 19