Friday - 2018 Oct. 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187247
Published : 14/5/2017 18:40

دینی ثقافت کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کی ضرورت

مسجد اپنی وسیع و عریض تعریف کے ساتھ لوگوں کی زندگی کے وسیع معیار اور ملاک کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے،اُن میں سے سب سے اہم افکار اور مقدسات کو انسانی تاریخ میں ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کرنے کا ذریعہ اوراہم ترین قلعہ شمار ہوتاہے، جو اس بات کی قدرت رکھتاہے کہ ہماری مذہبی اور دینی وراثت کو نابودی اورہر قسم کے انحراف، گمراہی اور کجی سے بچاسکے،خصوصاً اِن تلخ تجربوں کے دوران، اس طولانی عرصہ میں ہماری ترقی کے بہت سے پل اور مذہبی قلعے جن کو ہمارے دشمنوں نے ہم سے چھین کر اسلام و مسلمین پر کاری ضرب لگائی ہے،ان سب چیزوں کو دشمن کے چنگل سے چھڑاکر دوسری نسلوں میں منتقل کر دیں۔

ولایت پورٹل:اس واسطہ کہ مساجد اپنے نقش اور کردار کو امت اسلامی کی خدمت میں اپنی پوری قدرت کے ساتھ بہ حسن و خوبی نیز اپنی دینی اور مذہبی وراثت کو بعد والی نسلوں میں منتقل کر سکیں، لازم اور ضروری ہے کہ انسانی اور مذہبی حمایت برقرار رکھیں،کیوںکہ مسجدیں دانشوروں،خطباء اور ان مقررین کے لئے جو کہ عوام کو ہوشیار بنانے اور اسلامی معاشرہ میں انقلاب برپا کرنے کی تحریک کی ذمہ داری کے حامل ہیں،یہ بات ضروری ہے اور یہ اہم فریضہ بھی انھیں دینی اداروں اور مراکز(حوزۂ علمیہ یا دینی اور مذہبی مدارس کے وجود)کے ذریعہ امکان پذیر ہے،اس امر کی انجام دہی اور ان امور کی بجاآوری،اسلامی اسکولوں (Islamic Colleges کاقیام ہے،(اعلیٰ دینی مدارس) جن کی ذمہ داری اسلام کے مختلف گوشوں اور دینی مسائل میں خاص مہارت کے حامل افراد کی تربیت مقصود ہے۔
اس بنا پر لازم ہے کہ بعض مسلمان اپنے علاقوں اور وطن سے کوچ کریں اور اس طرح دین اسلام کی گہرائیوں اور ان کی تہہ تک پہنچ کر پوری طرح مہارت حاصل کرلیں اور اس کو بڑی ہی عرق ریزیوں سے حاصل کرنے کی پوری کوشش کرتے ہوئے اپنے کلیدی اور اساسی کردار کو بروئے کار لائیں تاکہ عوام الناس کی مشکلات کا حل نکالنے کے لئے آیۂ کریمہ کے مطابق اس حساس ذمہ داری کو اچھی طرح نبھا کر عوام کے مختلف مسائل کا مناسب جواب دے سکیں:«فَلَوْلَا نَفَرَمِنْ کُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِیَتَفَقَّهُوا فِی الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ»۔(سورۂ مبارکہ توبہ :۱۲۲)
ترجمہ:ہر گروہ میں سے ایک گروہ(کے لوگ)کوچ کیوں نہیں کرتے تاکہ دینی مسائل کا علم حاصل کریں اور علم حاصل کرنے کے بعد اپنے یہاں( وطن) کے لوگوں کے پاس پلٹ آئیں اور ان کو ڈرائیں کہ شاید وہ لوگ ڈرنے لگیں۔
اس بنا پر «مسجد کی بنیاد» جو کہ تمام مذہبی اداروں کو شامل ہے، جن کو اصطلاحاً (مدارس علمیہ)دینی مدرسوں کے نام سے جاناجاتاہے،ان اداروں اور دینی مدارس کے قائم کرنے والوں کو ہم «مرجعیت»کے نام سے جانتے ہیں،مقام افتاء میں فتویٰ دینے والے لوگ، وعظ و نصیحت اور اخلاقی تقاریر کے مراکز کو بھی اس سے ملحق کرتے ہیں۔
مسجد اپنی وسیع و عریض تعریف کے ساتھ لوگوں کی زندگی کے وسیع معیار اور ملاک کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے،اُن میں سے سب سے اہم افکار اور مقدسات کو انسانی تاریخ میں ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کرنے کا ذریعہ اوراہم ترین قلعہ شمار ہوتاہے، جو اس بات کی قدرت رکھتاہے کہ ہماری مذہبی اور دینی وراثت کو نابودی اورہر قسم کے انحراف، گمراہی اور کجی سے بچاسکے،خصوصاً اِن تلخ تجربوں کے دوران، اس طولانی عرصہ میں ہماری ترقی کے بہت سے پل اور مذہبی قلعے جن کو ہمارے دشمنوں نے ہم سے چھین کر اسلام و مسلمین پر کاری ضرب لگائی ہے،ان سب چیزوں کو دشمن کے چنگل سے چھڑاکر دوسری نسلوں میں منتقل کر دیں۔
ان دشوار گذار برسوں میں، مسجد نے اپنے استقلال کو محفوظ کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ دشمن اس قوی اورمستحکم ادارہ کو ختم کرنے، اس پر گھیراؤ کرنے اور اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی سے منحرف کرنے میں ناکام رہا ہے،اس محاذ پر، مسجد، مذہبی پناہ گاہوں اور قلعوں میں سب سے آخری پناہ گاہ اور قلعہ تھی، جس نے مغربی(انگریزی) تحریکوں سے ڈٹ کر مقابلہ کیا،اگر ایسا نہ ہوتا تو ہمارے دین کا کوئی بھی سرمایہ مغربی لوگوں (انگریزوں) کے برباد کرنے اور نابود کرنے سے بچ نہ پاتا، نتیجتاً تمام اسلامی آثار مٹ کر ہستی سے ختم ہو جاتے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Oct. 19