Sunday - 2018 مئی 27
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187270
Published : 16/5/2017 16:41

عصرغیبت کی بدنظمیوں سےنجات کے لیےائمہ(ع) کی نصیحت

معاشرے کی عملی ذمہ داریوں کی تعیین میں خواب اورامام معصوم سے ارتباط کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیونکہ امت مسلمہ کواس کی پیروی کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔
 
ولایت پورٹل:مرجع تقلید آیت اللہ  العظمیٰ جوادی آملی نے اپنی کتاب( امام مہدی علیہ السلام موجود موعود) میں لکھتے ہیں:
حضرت ولی عصرعجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی غیبت کبریٰ کے دورکی بدنظمیوں سےنجات کے لیے ائمہ معصومین علیہم السلام کی جانب سےامت مسلمہ کو جامع الشرائط فقیہ کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے تاکہ دین کے ماہرین کے نقطہ نظرات سےاستفادہ کرتے ہوئے زندگی بسرکریں اور اپنے انفرادی اورسماجی اعمال کو انجام دیں۔
معاشرے کی عملی ذمہ داریوں کی تعیین میں خواب اور امام معصوم(ع) سے ارتباط کے دعویٰ کی کوئی حیثیت نہیں ہے کیونکہ امت مسلمہ کواس کی پیروی کا حکم نہیں دیا گیا ہے اوردوسری بات یہ ہے کہ خواب یا دعویٰ کے سچے ہونے کے اثبات کے لیے کوئی قانون اور ضابطہ موجود نہیں ہے تاکہ اس کے صحیح یا غلط ہونےکو تشخیص دیا جاسکے، ورنہ اس مطلب کو قبول کرنا ہوگا کہ دنیا کے کسی کونے میں کوئی سر اٹھائے گا اور امام زمانہ علیہ السلام کے دیدار اور ملاقات کا دعویٰ کرکے ایک نیا شرعی فریضہ بیان کرے گا تو اس صورت میں کسی بھی عقلمند انسان پر پوشیدہ نہیں ہے کہ اللہ کا دین تحریف اور تبدیلی سے محفوظ نہیں رہ سکے گا اورمنتطر مسلمان انتظارکے نورانی راستے کو سلامتی کے ساتھ طئے نہیں کرسکیں گے چونکہ اس صورت میں اسلام کا فقہی اور سماجی نظام اور اسلامی معاشرہ درہم برہم ہوجائے گا۔
اس مطلب پرہمیشہ توجہ رہنی چاہیئے کہ عصر غیبت میں امام زمانہ علیہ السلام کی خاص نیابت کا دروازہ بند ہے اور جھوٹے شخص کے علاوہ کوئی بھی اس طرح کا دعویٰ نہیں کرسکتا ہے بلکہ امام زمانہ علیہ السلام کےعام نائبین کے فتاویٰ پر عمل کے ذریعے ہی عاشق منتظرین کا اپنے امام کے ساتھ ارتباط قائم ہوسکتا ہے،البتہ ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیئے کہ امام علیہ السلام کےعام نائبین کی محبت کی وجہ سے ہم افراط اور شدت پسندی کے جال میں پھنس نہ جائیں اور نائب خاص کےحکم کو نائب عام کےحکم میں داخل نہ کریں کیونکہ ہر افراط اور تفریط کا سرچشمہ جہالت ہے:«لا تری الجاهل إلا مفرطاٌ أو مفرِّط)۔
خلاصہ یہ کہ:
۱۔ عقلی برہان و دلیل کے ساتھ اللہ کی کتاب اورائمہ طاہرین علیہم السلام کی احادیث اعتقادی معارف، اخلاقی فضائل ، فقہی اورحقوقی احکام کا معرفتی منبع ہے۔
۲۔ تہذیب نفس کا ایک جائز راستہ یہ ہےکہ یقینی عقل اور معتبر نقل ایک راہنما ہیں۔
۳۔ دعائیں، مناجات اور منقول اذکار، زیارات اور اس جیسے دیگر شرعی امور ،صرف راستے ہیں کہ جن کے بہت زیادہ فوائد ہیں۔
۴۔  دیندار صلحا، شائستہ فقہاء، متدین حکما،  عہد و پیمان کے پابند متکلمین اور آگاہ محدثین منقولہ دستورات کی تاثیرکی دستاویز ہیں کہ نوجوانوں اور جوانوں کو ان کی پیروی کرنی چاہیئے۔
۵۔ نائب اور نمائندہ ہونے اور بعض اوقات امامت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے افراد کی مثال بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کی طرح ہے،جس طرح کہ فرعون کی طرح الوہیت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے بھی کم نہیں تھے۔
شبستان



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 مئی 27