Saturday - 2018 Oct. 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187275
Published : 16/5/2017 17:34

حدیث غدیر اور علی(ع) کی امامت(۲)

تاریخی اسناد کے مطابق پیغمبر اکرم(ص) نے ان لوگوں کے تئیں فوراً اپنے رد عمل کا اظہار فرمایا اور ان کی غلطی کی جانب انہیں متوجہ کرتے ہوئے فرمایا:«یا ایھا الناس لا تشکوا علیاً فو اللّٰه انه لاخشن فی ذات اللّٰه من ان یشکی» تمام باتوں سے قطع نظر اگر یہ فرضیہ درست ہو تب بھی اس سے صرف عقلی قرائن یا دلائل کا انکار ممکن ہے نہ کہ لفظی قرائن ودلائل کااس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ غدیر خم میں پیغمبر اکرم(ص)کے اقدام کا مقصد علی(ع)کی امامت کا ابلاغ بھی تھا اور مسلمانوں کے لئے علی(ع) کی نصرت ومحبت کو ضروری قرار دینا بھی۔


ولایت پورٹل:ہم نے گذشتہ گفتگو میں عرض کیا تھا کہ غدیر میں خطبہ کے اختتام اور آیۂ:«الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ ۔۔۔۔۔۔۔۔» کی تلاوت کے بعد آنحضرت(ص) نے «اللّٰه اکبر» کہہ کر اپنی خوشی کا اظہار کیا کہ دین کامل ہوگیا مسلمانوں پر نعمتیں تمام ہوگئیں اور خدا، پیغمبر(ص) کی رسالت اور علی(ع)کی ولایت سے راضی ہو گیا،ظاہر سی بات ہے کہ رسالت کے ساتھ ولایت کے تذکرہ کامطلب یہی ہے کہ ولایت کے معنی امت مسلمہ کی قیادت و رہبری کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوں گے،لہذا اس بحث کو مکمل پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
حدیث غدیر اور علی(ع) کی امامت(۱)
گذشتہ سے پیوستہ:اس میں کوئی شک وشبہہ نہیں ہے کہ آنحضرت(ص) سب سے زیادہ عاقل ، سب سے زیادہ حکیم و دانا اور سب سے زیادہ مہربان انسان تھے دوسری طرف علی(ع)مؤمنوں کے دوست ہیں مؤمینن پر واجب ہے کہ علی(ع)سے دوستی رکھیں یہ مسئلہ تو بالکل واضح ہے عام مسلمان بھی یہ بات جانتا ہے اس لئے کہ مؤمنین کا ایک دوسرے سے محبت ومودت کرنا ایمان کالازمہ ہے خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ پیغمبر اکرم(ص) نے  «مؤاخاۃ»(مسلمانوں کے درمیان اخوت وبرادری کا عقد)کے موقع پرحضرت علی(ع)کو اپنا بھائی بنایا تھا،اتنے واضح مسئلہ کا ایسے غیر معمولی حالات ،گرم ترین زمانہ میں اتنے مقدمات وشرائط کے ساتھ بیان کرنامعقول اور حکیمانہ اقدام نہیں کہلا سکتا،ہمیں تاریخ اسلام کے واقعات کی اس طرح تفسیرنہیں کرنا چاہئے کہ پیغمبر(ص) کی حکمت و درایت پر ہی سوالیہ نشان لگ جائے،البتہ امت مسلمہ کی رہبری کا مسئلہ اتنا اہم ہے کہ اس کی وضاحت کے لئے ایسے شرائط و مقدمات پوری طرح عاقلانہ اور حکیمانہ ہیں۔(۱)
اعتراض  اور اس کا جواب
حدیث غدیر میں لفظ مولیٰ سے «محبت ونصرت»کے معنی مراد لینے کے باوجود پیغمبر اکرم(ص) کے اقدام کو معقول اور حکیمانہ ثابت کرنے کے لئے کہا جاتاہے کہ:چونکہ یمن کے سفر کے دوران غنائم کے سلسلہ میں حضرت علی(ع)کے فیصلہ ان کے کچھ ساتھیوں کو پسند نہ آئے تھے اور انہوں نے پیغمبر(ص)سے حضرت علی(ع) کی شکایت کی تھی لہٰذا پیغمبر(ص)چاہتے تھے کہ غدیر خم میں اپنے قول و فعل سے سب کو اس بات کی طرف متوجہ کر دیں کہ علی(ع)سے محبت کرنا ضروری ہے۔(۲)
اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یمن کے سفر کے دوران جو کچھ پیش آیا اس کا تعلق ان تھوڑے سے مسلمانوں سے تھا جو حج کے لئے آئے تھے ایسے میں تمام حاجیوں کو ان غیر معمولی حالات مین جمع کرنے کی۔
کیا ضرورت تھی؟اور پھر مناسب تو یہ تھا کہ پیغمبر(ص)وقت ضائع کئے بغیر ان افراد کو فوراً ان کی غلطی کی طرف متوجہ کردیتے غدیر خم کے روز تک اسے ٹالنے کا فلسفہ کیا تھا؟
تاریخی اسناد کے مطابق پیغمبر اکرم(ص) نے ان لوگوں کے تئیں  فوراً اپنے رد عمل کا اظہار فرمایا اور ان کی غلطی کی جانب انہیں متوجہ کرتے ہوئے فرمایا:«یا ایھا الناس لا تشکوا علیاً فو اللّٰه انه لاخشن فی ذات اللّٰه من ان یشکی»۔(۳) تمام باتوں سے قطع نظر اگر یہ فرضیہ درست ہو تب بھی اس سے صرف عقلی قرائن یا دلائل کا انکار ممکن ہے نہ کہ لفظی قرائن ودلائل کااس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ غدیر خم میں پیغمبر اکرم(ص)کے اقدام کا مقصد علی(ع)کی امامت کا ابلاغ بھی تھا اور مسلمانوں کے لئے علی(ع) کی نصرت ومحبت کو ضروری قرار دینا بھی۔
لفظ مولیٰ سے یہ دونوں مراد لینے میں کوئی محذور ومانع بھی نہیں ہے اس لئے کہ لفظ مو لا اپنے مصادیق پر مشترک معنوی کے عنوان سے بولا جاتاہے نہ کہ مشترک لفظی کے عنوان سے۔۔۔۔۔۔بنا بر این اس سے ایسے معنی «اولیٰ اور احق ہونا»مراد لئے جا سکتے ہیں جو تمام مصادیق کے لئے جامع ہوں اور اس لفظ کو ان تمام معانی پر منطبق کیا جا سکتا ہے جن پر انطباق کی صلاحیت ہو البتہ یہ ثبوت اور واقعیت سے متعلق مرحلہ کی گفتگو ہے لیکن اثبات و دلالت کے مرحلہ میں قرائن اور شواہد درکار ہیں اورفرض یہ ہے کہ قرائن  موجود ہیں۔
.....................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔المراجعات،ص/۲۰۱،۲۰۴ اور الغدیر، ج/۱،ص /۳۷۰تا۳۸۲ملاحظہ فرمائیں۔
۲۔یہ بات شیخ سلیم بشری نے امام شرف الدین عاملی کے ساتھ اپنی بحث کے دوران پیش کی المراجعات ،مراجعہ/ ۵۷ ۔
۳۔السیرۃ النبویہ ج/۲،ص /۶۰۳ ۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Oct. 20