Friday - 2018 August 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187304
Published : 17/5/2017 18:17

حدیث غدیر اور علی(ع) کی امامت(۳)

پیغمبر خدا(ص) نے حارث بن نعمان کے جواب میں ارشاد فرمایا:خدا کی قسم یہ کام خدا کے حکم سے انجام دیا ہے،اس وقت حارث نے کہا:خدایا، جو پیغمبر نے کہا ہے اگر وہ حق ہے تو آسمان سے میرے اوپر پتھر نازل کر،فوراً آسمان سے ایک پتھر اس کے سر پر گرا اور وہ ہلاک ہو گیا۔


ولایت پورٹل:قارئین کرام! ہم نے مسلسل دو کالمس میں حدیث غدیر کی دلالت اور مصداق پر اہل سنت کی اہم کتابوں نیز عقلی دلائل سے روشنی ڈالنے کی کوشش کی اگرچہ حضرت علی(ع) کی ولایت و امامت اظہر من الشمس ہے لیکن جو دل کے اندھے ہوں تو انہیں نصف النہار پر دمکتا ہوا سورج بھی دکھائی نہیں دیتا،قارئین آج اسی سلسلہ کی آخری کڑی پیش خدمت ہے،اس مضمون کو مکمل پڑھنے کے لئے ان لنکس پر کلک کیجئے!
حدیث غدیر اور علی(ع) کی امامت(۱)
حدیث غدیر اور علی(ع) کی امامت(۲)
گذشتہ سے پیوستہ:قارئین کرام گذشہ تمام مطالب جو آپ کی خدمت میں عرض کئے اگر ان سے صرف نظر کر لیا جائے اور کہا جائے کہ:غدیر خم میں پیغمبر اکرم(ص) کے اقدام کا مقصد علی(ع) سے محبت ونصرت کی ضرورت کو بیان کرنا تھا تاکہ جن کے دلوں میں آپ  کی جانب سے کدورت یا کینہ پایا جاتا ہے وہ اپنی غلطی کی طرف متوجہ ہو جائیں اور علی(ع) کی محبت ونصرت کو اپنے اوپر فرض و لازم سمجھیں،لیکن سوال یہ ہے کہ تمام مسلمانوں کے درمیان علی(ع) کی نصرت ومحبت میں ایسی کیا خصوصیت تھی کہ اس کے لئے اتنا اہتمام کیا گیا ؟آخر مسلمان کیوں علی(ع)سے محبت کریں؟ان کی مدد کریں؟ان کی نصرت کہاں اور کیوں ضروری ہے؟کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ پیغمبر(ص)کے بعد حضرت علی(ع)کو ایک خاص مقام و مرتبہ حاصل ہے لہٰذا محبت کے ساتھ سب کو آپ(ع) کی نصرت کرنی چاہئے؟کیا وہ مقام ومرتبہ امت مسلمہ کی قیادت و رہبری کے علاوہ کچھ اور ہو سکتا ہے؟
لہذا حدیث غدیر اور واقعہ غدیر کو چاہے جس رخ سے دیکھا جائے اس کا نتیجہ حضرت علی(ع)کی ولایت کے علاوہ کچھ نہ ہوگا،مسلمانوں کا حضرت علی(ع)کی خدمت میں تہنیت پیش کرنا بھی اس بات کی تائید کرتا ہے کہ حدیث غدیر کے بعد حکم پیغمبر (ع) سے تمام مسلمانوں نے حضرت علی(ع) کی خدمت میں ان کی ولایت پر مبارک باد پیش کی۔(۱)یہ اہتمام ولایت کے معنی محبت ونصرت سے مناسبت رکھتا ہے یا جانشین پیغمبر(ص)کے عنوان سے مسلمانوں کی رہبری،سے؟
حدیث غدیر میں«ولایت»سے مراد«ولایت و قیادت» ہے نہ کہ محض دوستی اور نصرت اس کا ایک اور شاہد حارث بن نعمان کا واقعہ ہے جسے بعض محدثین ومفسرین نے نقل کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب واقعہ غدیر کی خبر عالم اسلام میں منتشر ہوئی تو حارث بن نعمان فہری نامی ایک شخص بہت برہم ہو گیا اور اس نے پیغمبر(ص) کی خدمت میں آکر کہا:تم نے ہمیں نماز،روزہ ،زکوٰۃ ،حج اور جہاد کی دعوت دی ہم نے قبول کر لیا کیا اتنا کا فی نہیں تھا کہ اس نوجوان کو اپنا جانشین بھی بنا دیا ؟یہ کام تم نے خدا کے حکم سے کیا یا خود ایسا فیصلہ کیا؟
پیغمبر اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا:خدا کی قسم یہ کام خدا کے حکم سے انجام دیا ہے،اس وقت حارث نے کہا:خدایا، جو پیغمبر نے کہا ہے اگر وہ حق ہے تو آسمان سے میرے اوپر پتھر نازل کر،فوراً آسمان سے ایک پتھر اس کے سر پر گرا اور وہ ہلاک ہو گیا اس وقت یہ آیت نازل ہوئی:«سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ»۔(۲)
.....................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔علامہ امینی نے حد یث تہنیت نقل کرنے والے ۶۰ راویوں کے نام تحریر کئیے ہیں:الغدیر ج/۱،ص /۲۷۲ تا ۲۸۳۔
(۲)علامہ امینی نے اہل سنت کے تیس  بزرگ علماء کے نام تحریر کئے ہیں جنھوں نے اپنی تاریخ ،تفسیر اور حدیث کی کتب میں اس واقعہ کو نقل کیا ہے:الغدیر ج/۱،ص /۲۳۹ تا ۲۴۶۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 August 17