Thursday - 2018 August 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187323
Published : 18/5/2017 15:3

زمانہ غیبت میں انتظار کرنے والوں کی سب سے اہم ذمہ داری

پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، امیرالمومنین علیہ السلام اوردیگر آئمہ اطہار علیہم السلام کی زبان پرہمیشہ آخر الزمان کے لوگوں کا ذکرخیر رہا ہے، یہ دور بہترین افراد کا دور ہے،اگربدترین ظلم ہوتے ہیں تاہم بہترین انسان بھی ظاہرہوں گےاور بہترین انسانوں کی تربیت ہوگی۔

ولایت پورٹل:حوزہ اوریونیورسٹی کے استاد حجۃ الاسلام والمسلمین علی رضا پناہیان نے آیت اللہ حق شناس امام بارگاہ میں(انتظارکے آخری مراحل) کے موضوع پرخطابات کیے تھے ان کے آخری خطاب کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔
امیرالمؤمنین علیہ السلام کی آخری جنگ کے بعد ایک شخص نے کھڑے ہوکر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ جسے امیرالمؤمنین علیہ السلام کی رکاب میں جنگ کی توفیق نصیب ہوئی تھی،اس نے کہا:
«طوبى لنا إذ شهدنا معک هذا الموقف، وقتلنا معک هؤلاء الخوارج) ہم خوش قسمت ہیں کہ جنہوں نے آپ کی خدمت میں رہ کر اس گروہ کے ساتھ جنگ کی ہے،امام علی علیہ السلام نے اس موقع پر اور اس سے قبل بھی جنگ جمل کے موقع پربھی فرمایا تھا:«وَ الَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَ بَرَأَ النَّسَمَةَ لَقَدْ شَهِدَنَا فِي هَذَا الْمَوْقِفِ أُنَاسٌ لَمْ يَخْلُقِ اللَّهُ آبَاءَهُمْ وَ لَا أَجْدَادَهُمْ بَعْدُ»
ترجمہ:اس اللہ کی قسم کہ جس نے دانہ کو شگافتہ کیا اورمخلوقات کو خلق کیا،اس جنگ میں ایک ایسے گروہ نے ہمارے ساتھ شرکت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابھی تک ان کے آباء و اجداد کوبھی خلق نہیں فرمایا: پوچھا گیا کہ جو ابھی تک خلق نہیں ہوئے ہیں یہاں تک کہ ان کے آباء و اجداد کو بھی خلق نہیں ہوئے ہیں وہ کس طرح اس جہاد کے ثواب میں شریک ہیں توآپ نے ارشاد فرمایا:«بَلَى قَوْمٌ يَكُونُونَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يَشْرَكُونَنَا فِيمَا نَحْنُ فِيهِ وَ يُسَلِّمُونَ لَنَا فَأُولَئِكَ شُرَكَاؤُنَا فِيمَا كُنَّا فِيهِ حَقّاً حَقّا»
ترجمہ:ہاں آخرالزمان میں ایک ایسا گروہ آئے گا کہ جو ہمارے ساتھ شریک ہیں وہ ہمارے سامنے تسلیم ہیں اورہمارے کام پر راضی ہیں اور اس لحاظ سے وہ ہمارے ساتھ شریک ہیں اور یہ ایک مسلّمہ اور ناقابل انکارمسئلہ ہے۔
لہذا پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، امیرالمؤمنین علیہ السلام اوردیگر آئمہ علیہم السلام کی زبان پرہمیشہ آخر الزمان کے لوگوں کا ذکرخیررہا ہے،یہ دوربہترین افراد کا دورہے،اگر بدترین ظلم ہوتے ہیں تاہم بہترین انسان بھی ظاہرہوں گے اوربہترین انسانوں کی تربیت ہوگی۔
آخرالزمان کے افراد کے کندھوں پرایک ذمہ داری ہے اور وہ امام زمانہ علیہ السلام کے ظہورکے لیے شرائط کو فراہم کرنا ہے،آخرالزمان کے افراد (يوَطِّئونَ لِلمَهدي سُلطانَه) امام زمانہ علیہ السلام کی سلطنت کے لیے راہ ہموار کریں اورہم نے اشارہ کیا تھا کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:امام زمانہ علیہ السلام کا ظہورمعمولی صورت میں ہوگا اور کوئی معجزہ نہیں ہوگا،لہذا جب کوئی معجزہ درکار نہیں ہوگا تو اس دنیا کے نظام کو چلانے والے افراد کو تجربہ کار ہونا چاہیئے اور ایسے افراد بھی ہونے چاہییں کہ جو امام زمانہ علیہ السلام تک اپنے تجربات پہونچائیں۔
کہاں پر ان تجربات کوحاصل کرنا چاہیے؟ کون سےافراد امام علیہ السلام کی رکاب میں جنگ کریں گے؟ یا آپ کی حکومت کے مختلف شعبوں کے سربراہ ہوں گے؟ یقیناً ایسے افراد کہ جو حکومت کا تجربہ رکھتے ہوں گے۔
خدا گواہ ہے کہ یہ مذہبی پروگرام نعمت ہیں لہذا اس نعمت کا جواب دینا ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ بغیر حساب وکتاب کے کوئی نعمت نہیں دیتا ہے،موجودہ حالات میں بھی ہمیں بحث وجدل سے اجتناب کرنا چاہیے، ہمیں حسینی فکرکرنی اورحسینی زندگی گزارنی چاہیئے اور دعائے عرفہ سے اس طرز زندگی اور عاشورا سے شہادت کے طریقہ کار کو سیکھنا چاہیئے،جب ہم دعا کرنا چاہیں تو سب سے پہلے نعمتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیئے اور پھر دعا کرنی چاہیئے اور نعمتوں پربہترین شکر یہ ہےکہ انہیں اللہ کی راہ میں خرچ کریں،امام حسین علیہ السلام نے عاشورا کے دن اپنی جان و مال کو اللہ کی راہ میں قربان کردیا تھا۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 August 16