Tuesday - 2018 August 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187347
Published : 20/5/2017 16:40

ابن بطوطہ کی زبانی:

ابن تیمیہ کا خدا کے آسمان سے زمین پر اترنے کا عقیدہ

ابن بطوطہ اس وقت شام میں تھا جب ابن تیمیہ نے جمعہ کے دن جامع مسجد کے منبر پر تقریر کی اور لوگوں کو وعظ ونصیحت کی ،تو میں بھی اس وقت مسجد میں تھا، اس نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ خداوندعالم آسمان دنیا(پہلے آسمان) پر اسی طرح نا زل ہوتا ہے جس طرح میں نیچے آتا ہوں یہ کہہ کر ابن تیمیہ منبر کے ایک زینے سے نیچے اتر آیا۔

ولایت پورٹل:ابن بَطُوطہ (مشہور سیاح اور تاریخ داں) دمشق کی توصیف بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:دمشق کے حنبلی فقہاء میں سے ایک، تقی الدین ابن تیمیہ تھا جو مختلف فنون میں مہارت رکھتا تھا اور اہل دمشق کو منبر سے وعظ ونصیحت کرتا تھا، ایک مرتبہ اس نے ایک بات ایسی کہی، جس کو اس وقت کے علماء نے قبول نہیں کیا اور اس کو برا سمجھا اور اس وقت کے مصری بادشاہ ملک ناصرکو خبر دی کہ ابن تیمیہ ایسی ایسی باتیں کہہ رہاہے ، ملک ناصر نے حکم دیا کہ اس کو قاہرہ روانہ کردیا جائے اور جب ابن تیمیہ قاہرہ لایا گیا تو اس وقت ملک ناصر نے قضات وفقہاء کو بلایا، جس میں سب سے پہلے شرف الدین زاوی مالکی نے آغاز سخن کیا اور ابن تیمیہ کے عقائد کو شمار کرنا شروع کیا(بحث وگفتگو کے بعد) ملک ناصر نے حکم سنایا کہ ابن تیمیہ کو قیدخانے میں ڈال دیا جائے چنانچہ چند سال ابن تیمیہ کو قید خانے میں رہنا پڑا ، لیکن اس نے وہاں رہکر تفسیر میں ایک کتاب بنام«البحر المحیط» لکھی جو تقریباً چالیس جلدوں پر مشتمل تھی اور جب قید خانے سے آزاد ہوا تو پھر وہی اپنا پرانا عقیدہ لوگوں کے سامنے بیان کرنا شروع کیا جس کی پھر علماء نے مخالفت کی میں(ابن بطوطہ) اس وقت شام میں تھا جب ابن تیمیہ نے جمعہ کے دن جامع مسجد کے منبر پر تقریر کی اور لوگوں کو وعظ ونصیحت کی ،تو میں بھی اس وقت مسجد میں تھا، اس نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ خداوندعالم آسمان دنیا(پہلے آسمان) پر اسی طرح نا زل ہوتا ہے جس طرح میں نیچے آتا ہوں  یہ کہہ کر ابن تیمیہ منبر کے ایک زینے سے نیچے اتر آیا۔(۱)
جب اس نے یہ کلمات زبان پر جاری کئے تو ایک مالکی عالم بنام ابن الزہراء اس کی مخالفت کے لئے کھڑا ہوگیا اور اس کی باتوں سے انکار کرنے لگا،یہ دیکھکر لوگوں نے ابن تیمیہ پر حملہ شروع کردیا اور اس پر جوتوں کی بارش ہونے لگی، یہاں تک کہ اس کا عمامہ بھی گرپڑا، جب عمامہ گرا تو اس کے نیچے سے حریر کی ایک ٹوپی نکلی، جس کو دیکھ کر لوگ مزید برہم ہوگئے کہ ایک فقیہ اور حریر کی ٹوپی پہنے ہوئے ہے، اس کے بعد اس کو عزالدین ابن مسلم (حنبلی قاضی) کے پاس لے گئے، مذکورہ قاضی نے اس کی باتوں کو سن کر اس کو تعزیر (شرعی تنبیہ)کرنے کے بعد اس کو زندان کے لئے روانہ کردیا، مالکی اور شافعی قاضیوں کو اس حنبلی قاضی کا یہ حکم ناگوار گذرا انھوں نے اس بات کی خبر ملک الامراء سیف الدین تنکیز تک پہونچائی، سیف الدین نے اس موضوع اور ابن تیمیہ کی دوسری باتوں کو تحریر کرکے اس پر چند گواہوں اور قاضیوں کے دستخط لے کر ملک ناصر کو بھیج دیا، ملک ناصر نے حکم دیا کہ ابن تیمیہ کو زندان میں بھیج دیا جائے ،چنانچہ وہ قید میں رہا یہاں تک کہ اس دنیا سے چل بسا۔(۲)
ابن تیمیہ نے رسالہ عقیدہ واسطیہ میں ایک حدیث ذکر کی ہے جس میں تحریر ہے کہ خداوندعالم ہر شب آسمان دنیا (آسمان اول) پر نازل ہوتا ہے۔(۳)
.....................................................................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔ابن تیمیہ کا بیان ہے کہ خداوندعالم آسمانوں کے اوپر رہتا ہے(العقیدۃ الحمویۃ الکبری در ضمن مجموعۃ الرسائل جلد ۱،ص ۴۲۹) ۔
۲۔رحالہ ابن بطوطہ،ج۱،ص ۵۷۔
۳۔العقیدۃ الواسطیۃ،مجموعۃ الرسائل الکبریٰ،ج۱،ص۳۹۸۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 August 14