Monday - 2018 August 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187349
Published : 20/5/2017 17:9

امام زمانہ(عج) کی طولانی عمر کا فلسفہ؟

بے شک جب خدا کا ارادہ کسی چیز سے متعلق ہوجاتا ہے تو وہ اس چیز کو عدم سے وجود میں بدل دیتا ہے،کیا پروردگار عالم نے اپنے عظیم نبی حضرت محمد(ص)کو اُن قریش کے درمیان سے نہیں نکالا جب انھوں نے آنحضرت(ص)کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا اور وہ آپ کو قتل کردینا چاہتے تھے کہ جب آنحضرت(ص)ان کے درمیان سے گذرے تو وہ آپ(ص) کو نہ دیکھ سکے۔


ولایت پورٹل:
امام مہدی(عج) کی طولانی عمر کے سلسلہ میں بہت زیادہ سوال کئے جاتے ہیں کہ آپ ساڑھے گیارہ سو سال سے زیادہ کس طرح زندہ ہیں ؟اور آپ پر بوڑھاپے کے وہ آثار بھی طاری نہیں ہو رہے ہیں جو عام طور پر انسان پر عارض ہوتے ہیں اور آہستہ آہستہ اس کا جسم اور اس کے خلیے کمزور ہوتے چلے جاتے ہیں اور جیسے جیسے انسان کی عمر زیادہ ہوتی جاتی ہے وہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور اس کی وجہ شاید ان میں میکروب ہوجانا یا ان کا کثیف غذا کھانا ہے جس سے انسان کا جسم مسموم ہوجاتا ہے اور اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیتا ہے۔
جواب
۱۔انسان کی لمبی طولانی عمر ہونا عقلی طور پر ایک ممکن امرہے ،یہ خداوند عالم کے شریک یا کسی چیز کے ایک ہی وقت میں زوج یا فرد ہو نے کی طرح محال نہیں ہے ،یہ انسان کے چاند یا کسی دوسرے ستارے پر پہنچنے کے مانند ہے ،بے شک یہ چیز عقلی طور پر ممکن ہے،اگر انسان کو فطری اسباب مل جائیں تو اُن پر ہی انسان کی زندگی محقق ہوتی ہے ،امام زمانہ (عج) کی طولانی عمر ایک علمی اور خارجی امر ہے،جو خالق عظیم کی مشیت پرموقوف ہے اور خداوند عالم اپنے ارادہ سے انسان کے جسم سے بوڑھا اور فنا کرنے والے خارجی اسباب ختم کرکے اس کی زندگی بڑھا دیتا ہے،اللہ کے نبی حضرت نوح(ع)نے ساڑھے نو سو سال تک زندہ رہ کر کلمۂ توحید کی دعوت دی ،یہ عمر قرآن کریم کے مطابق ہے تو ہم حضرت نوح(ع)کی عمر پر تو ایمان رکھتے ہیں لیکن امام منتظر(عج)کی طولانی عمر پر ایمان نہیں رکھتے حالانکہ دونوں معاشرہ کی اصلاح کے لئے مبعوث ہوئے ہیں۔
۲۔اگر ہم یہ تسلیم کرلیں کہ انسان کا سو سال یا ہزار سال عمر پانا عقلی طور پر ممکن نہیں ہے چوں کہ اُ س سے اُن فطری قوانین کا معطل ہونا لازم آتا ہے جو انسان کو بوڑھا اور فنا کر دیتے ہیں تو یہ بات ہماری نسبت غیر ممکن ہے لیکن خدا کے لئے مشکل نہیں ہے چونکہ اسی نے امور کو وسعت دی ہے اور یہ سب اُس کے نزدیک آسان ہے،آگ کی علت تامہ جلانا ہے اور خدا نے اس کو شیخ الانبیاء حضرت ابراہیم(ع) کے لئے ٹھنڈا قرار دیا ،اسی طرح اس نے اپنے نبی حضرت موسیٰ (ع)کے لئے اُن کی قوم کے ساتھ دریا میں شگاف ڈال دیا اُن کو غرق ہونے سے بچایا اور فرعون اور اس کے لشکرکواسی دریا میں غرق کر دیا۔
بے شک جب خدا کا ارادہ کسی چیز سے متعلق ہوجاتا ہے تو وہ اس چیز کو عدم سے وجود میں بدل دیتا ہے،کیا پروردگار عالم نے اپنے عظیم نبی حضرت محمد(ص)کو اُن قریش کے درمیان سے نہیں نکالا جب انھوں نے آنحضرت(ص)کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا اور وہ آپ کو قتل کردینا چاہتے تھے کہ جب آنحضرت(ص)ان کے درمیان سے گذرے تو وہ آپ(ص) کو نہ دیکھ سکے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 August 20