Thursday - 2018 August 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187366
Published : 21/5/2017 15:41

زمانہ غیبت میں ہماری ذمہ داریاں

جو چیز انسان کی کرامت کی باعث ہے، وہ دین الہی کے نور اور تقویٰ کے تحفظ کی ہدایت پانا ہےجو لوگ اطاعت اور ہدایت کے راستے پرنہ ہوں، وہ جہالت، گمراہیوں کی تاریکی میں سرگرداں ہوتے ہیں اور الہی کرامت سےمحروم ہوتے ہیں۔

ولایت پورٹل:مفسرقرآن ،قابل افتخار فیلسوف اور جہان تشیع کے عظیم مرجع تقلید آیت اللہ جوادی آملی نے اپنی کتاب ( امام مہدی علیہ السلام موجود موعود) میں لکھا ہےکہ امام زمانہ علیہ السلام کی دعا میں منتظرین کے فرائض کو ذاتی، سماجی اور سیاسی شعبوں میں مختلف گروہوں، علماء اورطلباء کے فرائض کو تقسیم کرتے ہوئے ہرایک کی الگ الگ وضاحت کی گئی ہے۔
ہرمنتظرکو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ارتباط رکھنا چاہیے اوراپنے اندران صفات کو پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے:
۱۔ اطاعت کی توفیق: سچےاورحقیقی منتظرین اللہ تعالیٰ، پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام معصوم علیہ السلام کی اطاعت بھی کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے اس اطاعت کی توفیق بھی طلب کرتے ہیں: (اللهم ارزقنا توفیق الطاعة)۔
۲۔ گناہوں سے دوری: گناہ، اللہ کی جانب حرکت کرنے کے راستے میں رکاوٹ ہیں اور انسان کی تباہی کا اہم ترین عنصرہیں،اسی لیے حقیقی منتظرگناہوں کو ترک کرنے میں الہی توفیق کی درخواست کے ساتھ ساتھ اپنے اندر اس صفت کو پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے:(وبعدالمعصیۃ)۔
۳۔ خالصانہ نیت:منتظرین کی ایک ذمہ داری ہرعمل میں شرک اور ریا سےمحفوظ رہنا ہے۔(وصدق النیۃ)۔
۴۔ الہی محرمات کی شناخت: اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں پرحرام کی جانے والی چیزوں کی شناخت کےساتھ گناہوں کو ترک کیا جاسکتا ہے۔( وعرفان الحرمۃ)۔
جو انسان اپنے دور کےکریم ترین انسان کا انتظارکرتا ہے اس کے لیے بہتر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کرامت کے تحفظ اور کرامت کے اسباب میں اضافے کی دعا کرے۔
۵۔خاص تکوینی ہدایت کی درخواست: جو چیز انسان کی کرامت کی باعث ہے، وہ دین الہی کے نور اور تقویٰ کے تحفظ کی ہدایت پانا ہےجو لوگ اطاعت اور ہدایت کے راستے پرنہ ہوں، وہ جہالت، گمراہیوں کی تاریکی میں سرگرداں ہوتے ہیں اور الہی کرامت سےمحروم ہوتے ہیں۔(واکرمنا بالھدی)۔
۶۔ہدایت کے راستے پر استقامت کی درخواست:حقیقی منتظرین کے لیے بہتر ہےکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی جانے والی ہدایت پرثابت قدم رہیں اور علم اور ایمان پرتمسک کرتے ہوئے ہرقسم کے انحراف سے دوری اختیارکریں۔( والاستقامۃ)
۷۔درست اورحق بات کہنا:حقیقی منتظرحق اورسچی بات کہنے کےعلاوہ کوئی بات نہ کرے،مذاق اورسنجیدگی کی حالت میں بھی غلط بات کرنے سےاجتناب کرے( وسدد السنتنا باالصواب)
۸۔حکمت پرمبنی بات کہنا: ایسی باتیں کرنا حکیمانہ نہیں ہیں کہ جو دین اوردنیا کے لیے فائدہ مند نہیں ہیں،جو باتیں حکمت پرمبنی نہ ہوں وہ بیہودہ ہیں لہذا مؤمن افراد بیہودہ باتوں سےاجتناب کرتے ہیں،اسی لیےمنتظرین کے لیے بہتر ہے کہ وہ حکیمانہ باتیں کریں اور زبان کو بیہودہ باتوں سے محفوظ رکھیں۔(والحکمۃ)
منتظرانسان کا دل ایک مبارک ظرف ہےکہ جس میں ہرچیز ڈالنا مناسب نہیں ہے،اس دعا میں بھی مومن کےقلب کے لیے بہترین چیز اورحقیقی منتظرین کے فرائض کو بیان کیا گیا ہے۔
شبستان


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 August 16