Monday - 2018 August 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187371
Published : 19/5/2017 16:36

شوہر کے فرائض:

بیوی سے بے فائدہ شکایتیں کیوں؟(۱)

یہ افراد بھی عجیب ہوتے ہیں نہ جانے دنیا کے سب حادثات انہیں کے راستہ میں پڑاؤ ڈالے رہتے ہیں،کبھی کیرایہ مہنگا ہونے کی شکایت،تو کبھی گاڑیوں میں بھیڑ کا رونا،کبھی دوستوں کے برے رویہ سے بیزار ،تو کبھی کارخانہ میں موجود دیگر کارکنان کا اس سے سبقت لے جانے سے نالاں، کبھی منیجر کی سختیوں کی شکایت، تو کبھی کام کے سستہ ہونے کا نوحہ،کبھی ڈاکٹروں کی فیس کا بڑھنا ،تو کبھی دوائیوں کی گرانی،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے پیدا ہوکر کوئی اچھا لمحہ ہی نہیں دیکھا،جیسے ہی کوئی چھوٹی سی بات بھی پیش آجائے تو اسے ہی حادثہ مان بیٹھتے ہیں اور اس طرح اپنے گھر والوں کا جینا دوبھر کردیتے ہیں،ان بےچاروں کے پاس تو کوئی راہ فرار بھی نہیں ہے پس مجبوراً انہیں بھی ہر روز اسی آگ میں جلنا پڑتا ہے۔

ولایت پورٹل:زندگی میں مشکلات اور دشواریاں بہت زیادہ ہیں اور اس دنیا میں کوئی بھی ایسا  شخص نہیں ہے کہ  یہ زمانہ  اس کی مرضی کے مطابق چلے اس طرح کہ وہ سوفیصدی  اپنے حالات سے راضی رہے اور اسے  کوئی شکایت نہ ہو لیکن بعض افراد  کے ظرف اتنے وسیع ہوتے ہیں کہ وہ بڑی سے بڑی مصیبت پر صبر کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں اور  وہ صرف ان حادثات کو اپنی یاد داشت میں محفوظ کرلیتے ہیں،کبھی کسی ضروری موقع کے علاوہ انہیں بیان بھی نہیں کرتے  اور قابل حل مشکلات  سے نپٹنے کے لئے سعی و کوشش کرتے ہیں،لیکن حرف شکایت تک ان کے لبوں پر نہیں آتا چونکہ یہ سب نفس کے ضعیف ہونے کی علامتیں ہیں   اور یہ فکر کرتے ہیں کہ مشکلات کے بیان کرنے سے تو مشکلیں دور نہیں ہوتی تو کیوں ہم اپنے دوستوں کی پرنشاط محفلوں کو اپنی مشکلات کےبیان کرنے کے سبب بدمزہ بنائیں۔
لیکن اس کے برخلاف دوسرا گروہ وہ ہے کہ جن کے ظرفوں میں یہ وسعت نہیں پائی جاتی  کہ کسی چیز کو اپنے دل میں چھپائے رکھے  انہیں دوسروں کے سامنے رونا رونے کی عادت ہے وہ جس سے بھی ملیں،بغیر کسی موقع و محل کے ، اپنی مصیبت کے بین کرنے لگتے ہیں  دوستوں کی خوشی اور مسرت کی محفلوں میں باتوں کو گھوما پھیرا کر اپنی روداد حیات تک لے آتے ہیں اور اس کے بعد اپنی زندگی میں پیش آنے والے چھوٹے سے واقعہ  کو اس طرح پیش کرتے ہیں  گویا دنیا کے سب سے بڑے مظلوم یہی ہوں،ایسا  محسوس ہوتا ہے کہ شیطان نے انہیں مامور کیا ہے کہ دوستوں کی  بزم مسرت  کو مجلس غم میں تبدیل کردیں، یہی وجہ ہے کہ اکثر افراد اس طرح کے لوگوں سے تعلقات بڑھاتے ہوئے ڈرتے ہیں، لیکن بے چارے بچے اور بیوی تو فرار بھی نہیں کرسکتے ،جیسے ہی یہ جناب گھر میں داخل ہوتے ہیں یہ چاہتے ہیں  کہ جن لوگوں نے میرا رونا پیٹنا نہیں سنا ان سبھوں کا بدلہ بیوی اور بچوں سے کیوں نہ لےلیا جائے۔
یہ افراد بھی عجیب ہوتے ہیں نہ جانے دنیا کے سب حادثات انہیں کے راستہ میں پڑاؤ ڈالے رہتے ہیں،کبھی کیرایہ مہنگا ہونے کی شکایت،تو کبھی  گاڑیوں میں بھیڑ کا رونا،کبھی دوستوں کے برے رویہ سے بیزار ،تو کبھی کارخانہ میں موجود دیگر کارکنان کا اس سے سبقت لے جانے سے نالاں، کبھی  منیجر کی سختیوں کی شکایت، تو کبھی کام کے سستہ ہونے کا نوحہ،کبھی ڈاکٹروں کی فیس کا بڑھنا ،تو کبھی دوائیوں کی گرانی،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے پیدا ہوکر کوئی اچھا لمحہ ہی نہیں دیکھا،جیسے ہی کوئی چھوٹی سی بات بھی پیش آجائے تو اسے ہی حادثہ مان بیٹھتے ہیں  اور اس طرح اپنے گھر والوں کا جینا دوبھر کردیتے ہیں،ان بےچاروں کے پاس تو کوئی راہ فرار بھی نہیں ہے پس مجبوراً  انہیں بھی  ہر  روز اسی آگ میں جلنا پڑتا ہے۔
جناب عالی ! یہ شکایتیں اور رونا پیٹنا غم وغصہ کے علاوہ کوئی ثمرہ نہیں رکھتے اور کسی مرض کی دوا نہیں ہیں؟ آپ کیوں اپنی اس بری عادت کے باعث  اپنے گھر والوں  کو اذیت کرتے ہیں؟آپ کی بیوی  نےصبح سے شام تک آپ کے گھر  میں  خدمت کی ہے اور کام کی کثرت کے سبب  تھکن سے چور ہے،آپ کے بچے بھی اسکول یا کام سے تھکے ماندے گھر لوٹے ہیں،سب کو اس بات کی امید ہے کہ آپ گھر میں آکر  اپنی نرم گرم باتوں سے ان کی تھکی ہوئی روحوں کو دوبارہ شادابی عطا کریں گے،کیا واقعاً یہ صحیح ہے کہ آپ تسلی و تشفی کے بدلے شکایتیں اور رونا پیٹنا ان کے لئے ہدیہ لے جائیں؟آپ کیوں اس مہر و محبت کے آشیانہ (گھر) کو جلتا ہوئی دوزخ بنانا چاہتے ہیں کہ جس سے  فریاد و نالہ بلند ہوں؟  اگر مہنگائی ہوگئی اور ٹیکسی ٹائم پر نہیں ملتی ،آپ کے  معاشی حالات بگڑے ہوئے ہیں،تو اس میں بیوی اور بچوں کا کون سا قصور ہے؟
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 August 20