Thursday - 2018 August 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187384
Published : 22/5/2017 16:16

سعودی عرب میں وہابیت کے لیے سب سے بُرا سال

ایک طرف سعودی وہابیت کے بڑے بڑے شیخ اپنی انتہا پسندانہ اور گھٹن سے بھری سیاست کو معاشرہ میں لاگو کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور دوسری طرف سعودی بادشاہ کا بیٹا اس ملک میں ثقافتی اور سماجی تبدیلی لانے کے لیے پر تول رہا ہے۔


ولایت پورٹل
:آل سعود اور وہابی لابی ہمیشہ سے سعودی عرب میں دو اعلیٰ طاقتیں شمار کی جاتی ہیں اور ہمیشہ دونوں کو ایک دوسرے سے شکایت رہی ہے لیکن اس حدتک کہ دونوں کہ دونوں کے اتحاد پر آنچ نہ آنے پائے  لیکن اب دو نوں کو ایسے جھٹکے محسوس ہورہے ہیں  جن سے  سعودی حکومت کے خلاف وہابیت کے فائل کافی بھاری ہوتی نظر آرہی ہے ،کچھ عرصہ پہلے بروس ریڈل نے ’’ایک سال کہ جس کو سعودی عرب بھلانا چاہتا ہے ‘‘ کے عنوان سے  ایک مضمون  نشر کیا ہے جس میں لکھا ہے کہ 2016 ء میں سعودی عرب کو شکست کیوں ہوئی اس کی دو بنیادی وجہیں ہیں ؛۱۔ اقتصادی بحران اور انتہا پسندی  جس میں تیل کی قیمتوں کا گرنا اور یمن  کی جنگ کے اخراجات۔۲۔جاسٹا قانون سے بہت ہی قریب ہونا،ٹرمپ کا برسر اقتدار آنا،پڑوسی ممالک کے ساتھ روابط منقطع کرلینا ، یہ تمام  حالات سلفیت نے اس ملک کے لیے پیدا کیے ہیں  لیکن پھر بھی یہ سب برداشت ہوجاتا اگر دمشق پر ان کا قبضہ ہو جاتا ،اگر صنعا اور تعز کو اپنی مٹھی میں لے لیتے اور ملک بن سلمان اس کو اپنی بہت بڑی کامیابی تصور کرتے لیکن ان کے یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکے
تسنیم



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 August 16