Thursday - 2018 August 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187386
Published : 22/5/2017 17:43

اسلامی تہذیب کو ویران کرنے کی سامراجی سازشیں

بلا شک و شبہہ جس طرح اسلام ان ارتباطی(گذرگاہوں) پلوں کی حفاظت میں کوشاں ہے اور امت اسلامی جس کو مؤثر بنانے کے لئے اپنی ساری قوت صرف کررہی ہے، ٹھیک اس کے برخلاف عالمی سامراج اور استکبار بھی اپنی پوری طاقت اور قدرت کے ساتھ ان ارتباطی پلوں کو مکمل طور سے منہدم کرنے میں لگا ہواہے،ہر روز ایک نہ ایک ترکیب، حیلہ بہانہ اور نت نئے ہتھکنڈوں کو بروئے کار لانے کی کوششوں میں سرگرم ہے،اس بات کو بڑے ہی وثوق واطمینان اورجرأت کے ساتھ کہاجاسکتاہے کہ ہماری باہمی زندگی میں سیاسی کھائی ایجاد کرکے ہمارے اور غیر مسلم برادری کے درمیان ایک جنگ چھیڑ دی ہے جو ان پلوں کے«توڑنے اور جوڑنے»کی صورت میں ہمارے درمیان باقی ہے۔

ولایت پورٹل:گھر(گھرانہ)مدرسہ اور مسجد یہ ایسے تین ارتباطی پل ہیں جو ہمارے دین و مذہب اور تہذیب و تمدن کو ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کرتے اور ہم کو گہری جڑوں کے ساتھ ہماری تہذیب و تمدن اور ثقافت سے جوڑتے ہیں۔ اگر یہ راستے آپس میں بہم جوڑ دینے والے پُل نہ ہوتے تو ہمارا گذشتہ زمانہ سے بالکل رابطہ ختم ہو جاتا، اسلامی امت جس کی جڑیں تاریخ میں بہت مستحکم اور استوار ہیں نیز دینی و مذہبی تہذیب و تمدن کی حامل ہیں، اس کی بنیادوں میں حقیقت اور گہرائی پائی جاتی ہے اور ایسی صورت میں یعنی جب اس کا رابطہ ختم ہو جائے تو وہ ایک ایسے(بے خاصیت)پودے میں تبدیل ہو جائے گاجس میں گہری جڑیں نہیں پائی جاتیں ،جوکہ بہت ہی سطحی ہوتی ہیں،وہ درخت جس کی جڑیں گہری اور ثابت ہیں اور شاخیں آسمان سے متصل یعنی بہت ہی بلند ہیں وہ ایک خودسے اُگے ہوئے بیکار اور زائد پودے اور سبزے میں تبدیل ہو جائے گا،اس کے بعد آہستہ آہستہ فنا کے گھاٹ اتر جائے گا، جس طرح یہ خود زائیدہ پودا اگا تھا اسی طرح وہ اپنی ابتدائی حقیقت کی طرف پلٹ جائے گا۔
بلا شک و شبہہ جس طرح اسلام ان ارتباطی(گذرگاہوں) پلوں کی حفاظت میں کوشاں ہے اور امت اسلامی جس کو مؤثر بنانے کے لئے اپنی ساری قوت صرف کررہی ہے، ٹھیک اس کے برخلاف عالمی سامراج اور استکبار بھی اپنی پوری طاقت اور قدرت کے ساتھ ان ارتباطی پلوں کو مکمل طور سے منہدم کرنے میں لگا ہواہے،ہر روز ایک نہ ایک ترکیب، حیلہ بہانہ اور نت نئے ہتھکنڈوں کو بروئے کار لانے کی کوششوں میں سرگرم ہے،اس بات کو بڑے ہی وثوق واطمینان اورجرأت کے ساتھ کہاجاسکتاہے کہ ہماری باہمی زندگی میں سیاسی کھائی ایجاد کرکے ہمارے اور غیر مسلم برادری کے درمیان ایک جنگ چھیڑ دی ہے جو ان پلوں کے«توڑنے اور جوڑنے»کی صورت میں ہمارے درمیان باقی ہے۔
سامراج کی استکباری طاقتیں اور ان کے آگے پیچھے کرنے والے نوکر شاہی لوگوں حکومت کے ذمہ داروں اور دانشوروں کے ذریعہ اسلام میں پھوٹ ڈالنے جیسی کوشش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، اس زور آزمائی کو قدامت پسندی، بنیاد پرستی بنام جدت پسندی اور فکر نو کی جنگ کا نام دے دیا ہے جبکہ حقیقت اس کے علاوہ کچھ اور ہی ہے۔ قدامت پسندی اور فکر نوکے درمیان کوئی رابطہ اور کڑی نہیں پائی جاتی ہے،بلکہ یہ جنگ باہمی ارتباطی پُلوں کو منہدم کرنے اور ان کی تعمیر نوسے متعلق ہے،عالمی سامراج اور استکبار کی ساری کوشش اس بات پر ہوتی ہے کہ امت مسلمہ کو اس کے ماضی کی گہری جڑوں والی تاریخ سے بالکل جدا کردے،وہ ارتباطی پل جو دور حاضر اور زمانۂ حال کو ماضی اور مستقبل سے جوڑتے ہیں،ان رابطوں کو بالکل منہدم اور زمین بوس کر دے،اس کے برخلاف صالح اور مخلص لوگ اسلامی امت کی جہاں دیدہ،آگاہ،ہوشیاراورتجربہ کار اولادیں،ان دھوکہ دھڑیوں، مکاریوں اور فریب میں آنے والی نہیں ہیں،ان کی ساری کوشش اس بات پر ہوتی ہے کہ ہمارے حال کو (حاضر کو) گذشتہ کل یعنی ماضی سے پوری طرح جوڑ دیں،نیز ہماری (دینی اور مذہبی) وراثتیں اور ان کی تاریخ میں گہری جڑوں کی حفاظت اور بقاء کے لئے بہر صورت فکر مندہیں کہ کیسے اس امانت کو آنے والی نسلوں کے حضور صحیح و سالم پیش کردیں۔
توڑنے اور جوڑنے کے درمیان کا یہ اختلاف ہر مقام اور موقع پر پایا جاتا ہے،مدرسہ واسکول،جامعہ(University)(وہ اعلیٰ تعلیم گاہ جس کو دانشگاہ، بھی کہا جاتا ہے) سڑکیں، ہنر اور پیشہ، ادبیات، اصطلاحیں،رسم و رواج، زبان، تحریر اور رسم الخط، شعر گوئی طرز زندگی، طرز فکر، محاوراتی زبان اور ہماری زندگی میں رائج بہت سی دوسری چیزیں ہیں جس کے لئے بعض لوگ اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے تحت اختلاف کے بیج بوتے پھرتے ہیں۔

 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 August 16