Monday - 2019 January 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187401
Published : 23/5/2017 15:59

علی(ع)ہارون امت

آپ (ع) پیغمبر اکرم(ص) کی نسبت سے وزارت ،حمایت وپشت پناہی،خلافت وجانشینی اور خلافت وامامت(نہ کہ نبوت)کے ذریعہ قیادت و رہبری میں شرکت کے حامل و مالک ہیں یعنی حیات پیغمبر (ص) میں آپ(ع) وزیر ،مشاور اور پشت پناہ اور پیغمبر(ص) کے بعد ہدایت وقیادت امت میں آپ(ص) کے جانشین ہیں۔


ولایت پورٹل:قارئین کرام!ہم نے گذشتہ چند مضامین کے اندر حضرت علی(ع) کی امامت کی نصوص یعنی وہ آیات اور روایات کہ جو امام علی(ع) کی قیادت و رہبری پر دلیل ہیں،پیش کرنے کی سعادت حاصل کی،آج ہماری بحث حدیث منزلت کے بارے میں ہوگی،ملاحظہ فرمائیں:
صحاح و مسانید کے مؤلفین ،مورخین اور سیرت نگاروں نے نقل کیا ہے کہ پیغمبراکرم(ص) نے متعدد مواقع پر حضرت علی(ع)سے اپنی نسبت کو ہارون اور موسیٰ کی نسبت کے مانند قرار دیا ہے سوائے اس کے کہ ہارون نبی تھے اور علی(ع)نبی نہیں ہیں اس لئے کہ پیغمبر(ص) پرنبوت کا خاتمہ ہو گیا:«انت منی بمنزلة ھارون من موسیٰ الا انه لا نبی بعدی»
حدیث منزلت سند کے لحاظ سے متواتر اور قطعی ہے،شیعہ محدثین تو اس حدیث کے تواتر  کو تسلیم کرتے ہی ہیں ان کے علاوہ اہل سنت کے محدثین نے بھی اس حدیث کو بیس سے زیادہ صحابہ پیغمبر(ص) سے نقل کیا ہے۔(۱)
ابو عبد اللہ گنجی شافعی(متوفی  ۶۵۸ہجری) حدیث منزلت نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:اس حدیث کی صحت متفق علیہ اور ابو عبد اللہ بخاری ،مسلم بن حجاج ،ابو داؤد ،ابو عیسیٰ ترمـذ ،ابو عبدالرحمٰن نسائی،ابن ماجہ قزوینی جیسے ائمہ و حفاظ نے اپنی صحاح اور مسانید میں اس حدیث کونقل کیا ہے اور یہ سب اس کی صحت پر متفق ہیں۔(۲)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ہارون کو موسیٰ سے جتنی نسبتیں تھیں۔نبوت کے علاوہ۔ علی(ع)کو پیغمبر (ص)سے وہ تمام نسبتیں حاصل ہیں،قرآن کریم نے ہارون کی جن نسبتوں کا تذکرہ کیا ہے وہ یہ ہیں:
۱۔وزارت :«وَاجْعَلْ لِی وَزِیرًا مِنْ أَهلِی هَارُونَ أَخِی»
۲۔حمایت وپشت پناہی:«اشْدُدْ بِهِ أَزْرِی»
۳۔نبوت وقیادت میں شرکت :«وَأَشْرِکْهُ فِی أَمْرِی»۔(۳)
۴۔خلافت وجانشینی:«وَقَالَ مُوسَی لِأَخِیهِ هارُونَ اخْلُفْنِی فِی قَوْمِی»۔(۴)
حدیث منزلت کے بموجب نبوت کے علاوہ یہ تمام مراتب اور مناصب حضرت علی(ع)کو حاصل ہیں لہٰذا آپ (ع) پیغمبر اکرم(ص) کی نسبت سے وزارت ،حمایت وپشت پناہی،خلافت وجانشینی اور خلافت وامامت(نہ کہ نبوت)کے ذریعہ قیادت و رہبری میں شرکت کے حامل و مالک  ہیں یعنی حیات پیغمبر (ص) میں آپ(ع) وزیر ،مشاور اور پشت پناہ اور پیغمبر(ص) کے بعد ہدایت وقیادت امت میں آپ(ص) کے جانشین ہیں۔
یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ جناب ہارون کی جانشینی جناب موسیٰ کی حیات میں ایک خاص موقع کے لئے تھی جب جناب موسیٰ چالیس دن کے لئے میقات پر تشریف لے گئے تو جناب ہارون کو اپنا جانشین بنادیا اسی طرح غزوۂ تبوک میں حضرت علی(ع)بھی مدنیہ میں پیغمبر(ص) کے جانشین تھے تاکہ آنحضرت (ص) کی عدم موجود گی میں مدینہ کے امور کی نگرانی کرتے رہیں،اس لئے پیغمبر(ص) کے بعد کی جانشینی سے حدیث منزلت کی تفسیر نہیں کی جاسکتی اس لئے کہ ہر حکم اپنے موضوع اور محل سے مخصوص ہوتاہے۔(۵)
اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اصول وقواعد اور انسانی بول چال سے متعلق عقلائی قوانین کے مطابق محل اور مورد حکم کو مخصوص نہیں کرتا بلکہ ظاہرکلام معیار ہوتا ہے اگر ظاہر کلام میں عمومیت اور اطلاق پایا جاتاہے تو ہر چند وہ کلام کسی خاص موقع کے لئے وارد ہوا ہو لیکن اس سے عام اور مطلق معنی ہی مراد لئے جاتے ہیں،جس کا شاہد یہ ہے کہ اگر جناب موسیٰ دوبارہ اپنی امت کو چھوڑ کر جاتے تو انہیں کسی دوسرے کو اپنا جانشین مقرر کرنے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ ہدایت کی ذمہ دار ی جناب ہارون کی تھی اور امت کو بھی جناب ہارون کی جانب ہی رجوع کرنا چاہئے تھا،بالفرض اگر جناب ہارون جناب موسیٰ کے بعد بھی زندہ رہتے تب بھی آپ ہی جانشین تھے اس لئے کہ بنی اسرائیل کی رہبری کی ضرورت اب بھی باقی تھی،درحقیقت اس حکم کا موضوع:قیادت و رہبری کی ضرورت اور موسیٰ کا قوم کے درمیان نہ ہونا،ہے اور میقات پر جانا اور صرف چالیس دن تک قوم کے درمیان نہ ہونے کو کوئی خصوصیت حاصل نہیں ہے۔
جو لوگ اس اعتراض کے غلط ہونے کی طرف متوجہ ہیں ان میں سعد الدین تفتازانی بھی ہیں وہ کہتے ہیں:لفظ وکلام کی عمومیت معیار ہوتی ہے نہ کہ سبب کی خصوصیت،بلکہ کہا جا سکتاہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کا علی(ع)کو مدینہ کی خلافت کے لئے منصوب کرکے عزل نہ کرنا اور سفر تبوک کے مقابل وفات پیغمبر(ص)کے بعد لوگوں کا خلیفہ کے لئے زیادہ محتاج ہونا( کہ تبوک کا سفر بہرحال مختـصر مدت کے لئے تھا)ہی خلافت علی(ع)کی دلیل ہے۔(۶)
تفتازانی نے اگر چہ گذشتہ اعتراض قبول نہیں کیا لیکن خود ایک اور اعتراض فرمایا کہ:حضرت موسیٰ کی غیبت کے زمانہ میں ہارون کی رہبری جناب موسیٰ کے جانشین کے عنوان سے نہیں تھی کیونکہ ہارون نبی تھے اور جناب موسیٰ کے دور حیات میں لوگوں کی قیادت و رہبری میں شریک تھے جناب موسیٰ نے انہیں جو اپنا خلیفہ قرار دیا وہ ان کی قیادت کی تاکید کے لئے تھا نہ کہ انہیں منصب قیادت و رہبری عطا کرنے کے لئے۔(۷)
اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ہارون(ع) نبی تھے لیکن قرآنی آیات سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ کے عہد میں معاشرہ کی امامت ورہبری حضرت موسیٰ(ع)سے ہی مخصوص تھی اور جناب ہارون(ع) وزیر اور معاون کے عنوان سے ان کے شریک کار تھے۔
مفسرین اہل سنت نے بھی آیت کی اسی طرح تفسیر کی ہے،چنانچہ المنار کے مؤلف کہتے ہیں:جناب موسیٰ(ع)نے میقات پر جانے کا ارادہ کیا تو اپنے بڑے بھائی ہارون کو اپنا جانشین بنادیا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلے کریں اور ان کے امور کی دیکھ بھال کرتے رہیں اس لئے کہ اس وقت ریاست اور قیادت موسیٰ(ع)کے ذمہ تھی اور ہارون(ع)ان کے وزیر ،معاون اور مددگار تھے۔(۸)
بنیادی طور پر یہ آیت امامت کے نبوت سے جدا ہونے کی ایک دلیل ہے یعنی اگرہارون(ع)کے درجۂ نبوت پرفائز ہونے کے ساتھ امامت اور سیاسی قیادت بھی ان کے پاس ہوتی تو خلیفہ بنانے کی ضرورت ہی نہیں تھی اب جب کہ جناب موسیٰ(ع)نے ہارون(ع) کو اپنا خلیفہ اورجانشین بنایا تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں امامت و رہبری حاصل نہ تھی۔(۹)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔المراجعات ،مراجعہ /۲۸اور ۳۰ ملاحظہ فرمائیں۔
۲۔کفایۃ الطالب فی مناقب علی ابن ابی طالب، ص/۲۸۲۔
۳۔طہٰ /۲۹تا۳۲۔    
۴۔اعراف/۱۴۲۔
۵۔شرح المواقف، ج/۸،ص/۳۶۳۔
۶۔شرح المقاصد،ج/۵،ص/۲۷۶۔
۷۔شرح المقاصد۔،ج/۵،ص/۲۷۵۔
۸۔المنار، ج/۹،ص/۱۲۱، تفسیر المراغی ج/۹،ص/۵۶۔
۹۔مجمع البیان،ج/۲،ص/۴۷۳۔





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2019 January 21