Monday - 2019 January 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187421
Published : 24/5/2017 15:56

ایمان بالغیب اور حضرت حجت(عج)

حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت سےمراد یہ نہیں ہےکہ وہ ہمارے درمیان حاضرنہیں ہیں،بلکہ حضرت ہمارے درمیان ہیں اور ہمیں پہچانتے ہیں لیکن ہم انہیں نہیں پہچانتے ہیں۔

ولایت پورٹل:الہی تصورکائنات کی بنیادی ترین اصل یہ ہے کہ یہ کائنات مادی اور محسوس چیزوں میں منحصرنہیں ہے،قرآن کریم فرماتا ہے: (الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنْفِقُونَ)۔ وہ لوگ کہ جو غیب پرایمان لاتےہیں اورنماز قائم کرتے ہیں اورجو کچھ انہیں عطا کیا گیا ہے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔
ائمہ معصومین علیہم السلام کی احادیث میں لفظ غیب سےمراد اللہ تعالیٰ، فرشتے، قیامت اورحضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ہیں،مثال کے طور پر امام جعفر صادق علیہ السلام اس لفظ کی تفسیرکرتے ہوئے فرماتے ہیں: «والغیبُ هو الحُجة الغائب) نیز آیہ شریفہ (هُدًى لِلْمُتَّقِينَ، الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ) کی تفسیرمیں فرماتے ہیں: غیب پرایمان رکھنے والے لوگوں سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جو قائم آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام پراعتقاد رکھتے ہیں۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت سےمراد یہ نہیں ہےکہ وہ ہمارے درمیان حاضرنہیں ہیں،کیونکہ وہ ہمارے درمیان ہیں اور ہمیں پہچانتے ہیں لیکن ہم انہیں نہیں پہچانتے ہیں،یہاں پریہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا ہوسکتا ہےکہ وہ ہمیں پہچانیں لیکن ہم انہیں نہ پہچانیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں، قرآن کریم فرماتا ہے: حضرت یوسف علیہ السلام کنویں میں گرنے سےلےکر عزیز مصر بننے تک تقریبا چالیس سال کے بعد جب انہوں نے اپنے بھائیوں کو دیکھا توپہچان لیا لیکن ان کے بھائی انہیں نہ پہچان سکے۔
لہذا جب امام زمانہ علیہ السلام ظہورکریں گے تو بہت سے لوگ کہیں گےکہ ہم نے انہیں پہلے فلاں جگہ دیکھا ہے،چنانچہ ہم دعائے ندبہ میں پڑھتےہیں: (بنفسی انت) میری جان آپ پرقربان آپ غائب ہیں لیکن ہم سے دورنہیں ہیں۔
ماخذ : حجۃالاسلام محسن قرائتی کی کتاب (پرتوی از آیه های مهدوی) سےاقتباس



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2019 January 21