Sunday - 2019 January 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187434
Published : 24/5/2017 18:0

قبر میں مؤمن کی نماز

انسان مرنے کے بعد کس قدر مجبور ہوجاتا ہے، چاہتے ہوئے بھی بول نہیں پاتا سنتے ہوئے بھی جواب نہیں دے سکتا،ماں باپ بھائی بہن اولاد و زوجہ کے رہتے ہوئے بھی کوئی اس کی مدد نہیں کرسکتا وہ بس قبر کی منزل تک لاکر دفن کردیتے ہیں لیکن قبر میں میت کا ساتھ دینے والا کون ہے؟ نہ عزیز ہیں نہ اقارب ،نہ بچے نہ مالِ دنیا ہے، صرف قبر ہے اور تنہائی ہے لیکن اگر قبر میں کام دیں گے یا قبر میں ساتھ آئیں گے تو وہ اعمال جو انسان نے اپنی زندگی میں انجام دیئے ہیں۔

ولایت پورٹل:ایک دفعہ حضرت سلمان فارسی نے مولا علی علیہ السلام سے پوچھا کہ مولا قبر کیا ہے اور یہ موت و سکرات موت کیا ہیں؟حضرت نے  ارشاد فرمایا:سلمان تمہیں بتاؤں یا دکھاؤں، سلمان نے کہا مولا اگر دکھائیں گے تو ہمارے یقین میں اضافہ ہوگا،حضرت امیر علیہ السلام سلمان کو لیکر قبرستان میں آئے اور ایک قبر کے سامنے رک کر کہا:قم باذن اللہ!اے بندے اللہ کے حکم سے اٹھ جا !پس اللہ کے حکم سے قبر شگافتہ ہوئی اور ایک نوجوان زار و قطار روتا ہوا اٹھ کر قبر سے باہر نکلا اور مولا سے کہا: میری حالت آپ بیان کریں گے یا میں بیان کروں؟ مولا نے کہا تو ہی بیان کر اس نے کہا اے سلمان جب میں اس دنیا سے رخصت ہوا تو میری بڑی بری حالت تھی، میرے عزیز مجھے قبر میں اتار کر واپس جا چکے تھے ،قبر میں اندھیرا تھا کچھ دیر کے بعد اچانک میری قبر روشن ہوگئی تو میرے دل کو کچھ آرام ہوا ،اس کے بعد کوئی آیا اور ہمارے سر کو اٹھایا سر سے مٹی کو صاف کیا اور بولا کہ ہم آگئے ہیں اب تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ،میں نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا تو ایک نورانی شکل والا نوجوان تھا جس کی شکل سے نور کی شعاعیں نکل رہی تھیں اور اس کے ساتھ کچھ نوجوان اور تھے ،میں نے پوچھا آپ لوگ کون ہیں؟میں نے آپ لوگوں کو نہیں پہچانا، تو ایک نے آگے بڑھ کر جس نے میرا سر اٹھایا تھا کہا کہ تو نے مجھے نہیں پہچانا میں کوئی اور نہیں ہوں بلکہ میں تیری نماز ہوں جو دنیا میں تونے پڑھی تھی ،آج میں تیرا ساتھ قبر میں دینے آئی ہوں ،خدا نے مجھے تیرے پاس اس نورانی شکل میں بھیجا ہے  تاکہ میں تیرے کام آؤں اسی طرح بقیہ نوجوان بھی تھے، ان میں سے کسی نے کہا میں تیرا روزہ ہوں، کسی نے کہا میں تیرا خمس ہوں، کسی نے کہا میں تیرا حج ہوں، اب تم فکر نہ کرو ہم سب تمہارے ساتھ ہیں ،اب اس واقعہ سے انسان کی عبادتوں کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ انسان مرنے کے بعد کس قدر مجبور ہوجاتا ہے، چاہتے ہوئے بھی بول نہیں پاتا سنتے ہوئے بھی جواب نہیں دے سکتا،ماں باپ بھائی بہن اولاد و زوجہ کے رہتے ہوئے بھی کوئی اس کی مدد نہیں کرسکتا وہ بس قبر کی منزل تک لاکر دفن کردیتے ہیں لیکن قبر میں میت کا ساتھ دینے والا کون ہے؟ نہ عزیز ہیں نہ اقارب ،نہ بچے نہ مالِ دنیا ہے، صرف قبر ہے اور تنہائی ہے لیکن اگر قبر میں کام دیں گے یا قبر میں ساتھ آئیں گے تو وہ اعمال جو انسان نے اپنی زندگی میں انجام دیئے ہیں، اگر اس نوجوان نے نماز نہ پڑھی ہوتی تو اس کے پاس قبر میں وہ نورانی شکل کا نوجوان کہاں سے آتا اور اس کا کون ساتھ دیتا؟ اور اس نے جو نماز ادا کی تھی خلوص نیت کے ساتھ ادا کی تھی اگر خلوص نیت نہ ہوتی تو وہ نماز کسی کام کی نہ ہوتی اگر انسان نماز کو خلوص نیت کے ساتھ ادا کرے گا تو وہ نماز،قبر میں انسان کے پاس نورانی شکل میں وارد ہوگی اور اگر بے توجہی سے نماز کو ادا کرے گا تو وہ نماز اس کے پاس آئے گی ضرور لیکن اس کی صورت کچھ اور ہوگی۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2019 January 20