Sunday - 2019 January 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187451
Published : 25/5/2017 16:2

آل سعود کے کچھ ان سنے حقائق

آل سعود کا ہر فرد حکومت سے وافر مقدار میں ماہانہ وظیفہ کرتا ہے ۲۰۱۶ کی رپورٹ کے مطابق ہر سعودی شہزادے اور شہزادی کو حکومت سے ملنے والا ماہانہ وظیفہ 2 لاکھ ڈالر ہے ،ریاض،جدہ مکہ اور مدینہ کے بڑے بڑے ہوٹل،نیز شاپنگ مول اور بڑی بڑی کمپنیاں ان سعودی کے رنگین مزاج شہزادوں اور شہزادیوں کی ہیں،پورا ٹرانسپورٹ سسٹم،سیاحت اور دیگر ذرائع آمدنی آل سعود سے متعلق ہیں اور وہاں کی عوام کے پا س صرف وہ مال ہے جو وہ لوگ رات دن کی محنت سے کماتے ہیں،ملک کا سرمایہ اور حرمین کی ساری کمائی آل سعود امریکہ سے ہتھیار خرید کر برباد کردیتے ہیں۔

ولایت پورٹل:سعودی عرب کے بانی عبدالعزیز بن سعود کی بائیس بیویاں تھیں،ان میں سے سترہ بیویوں کے ہاں پینتالیس بیٹے پیدا ہوئے،اب السعود کے شاہی خاندان کے شہزادوں کی تعداد سات ہزار سے بھی زائد ہو چکی ہے۔
آل سعود ہی نے تیل کی دولت سے مالا مال اس خلیجی ملک کو سعودی عرب کا نام دیا،سعودی عرب کے حکمران خاندان کے شہزادوں اور شہزادیوں کے پاس دولت کی کمی نہیں ہے،السعود خاندان کا تعلق اٹھارویں صدی میں جزیرہ نما عرب کے ایک مقامی شیخ سعود بن محمد سے ملتا ہے،سعودی عرب دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کا نام دو صدیوں پہلے پیدا ہونے والے مقامی حکمران پر رکھا گیا ہے۔
شیخ سعود کے بیٹے محمد نے 1744ء میں شعلہ بیان مذہبی عالم محمد بن عبدالوہاب سے اتحاد کر لیا،محمد بن عبدالوہاب ہی نے «خالص اسلام کی واپسی»کا نعرہ لگایا اور یہاں سے وہابی نظریات کے پرچار کا آغاز ہوا۔
اس کے بعد سعود بن محمد کی نسل کو 1818ء میں عثمانی افواج (ترکی) کے ہاتھوں شکست ہوئی،لیکن اس کے چھ برس بعد ہی سعود خاندان نے صحرائی طاقت کے مرکز ریاض پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا،1902ء میں عبدالعزیز بن سعود نے ریاض سے اپنے حریف راشدی قبیلے کو بے دخل کرتے ہوئے اپنی طاقت کو مزید مستحکم بنا لیا،اس کے بعد عبدالعزیز نے مختلف قبیلوں سے لڑائی جاری رکھی اور انہیں شکست دیتے ہوئے بہت سے علاقوں کو متحد کر دیا، یہ سلسلہ جاری رہا اور 1913ء میں خلیجی ساحل کا کنڑول حاصل کر لیا۔
دوسری جانب 1918ء میں سلطنت عثمانیہ کو سعودی عرب میں شکست ہوئی اور سلطنت عثمانیہ کے خلاف لڑنے والے حسین بن علی آخری شریفِ مکہ قرار پائے،شریفِ مکہ کا منصب فاطمینِ مصر کے دور میں 967ء میں قائم کیا گیا تھا،شریف مکہ کا منصب رکھنے والی شخصیت کی بنیادی ذمہ داری مکہ اور مدینہ میں عازمین حج و عمرہ کا انتظام و انصرام ہوتا تھا۔
حسین بن علی کے شریف مکہ بننے کے بعد 1924ء میں عبدالعزیز بن سعود نے اپنے حملے تیز کر دیئے اور آخر کار 1925ء حسین بن علی کو بھی اقتدار سے بے دخل کر دیا، عبدالعزیز بن سعود نے 1932ء میں آج کے سعودی عرب کی بنیاد رکھتے ہوئے خود کو بادشاہ قرار دیا۔
اس کے بعد عبدالعزیز بن سعود کی طاقت میں اس طرح بھی اضافہ ہوا کہ انہوں نے بہت سے قبائلی سرداروں کی بیٹیوں سے شادیاں کیں،آج اس شاہی خاندان کے مجموعی افراد کی تعداد تقریباﹰ پچیس ہزار ہے جبکہ اثرو رسوخ رکھنے والے شہزادوں کی تعداد تقریبا دو سو بنتی ہے۔
اس قدامت پسند وہابی ریاست میں تیل کی پیداوار کا آغاز 1938ء میں ہوا، جس کے بعد سعودی عرب کا شمار دنیا کے امیر ترین ملکوں میں ہونے لگا۔
عبدالعزیز بن سعود کے بیٹوں کی مجموعی تعداد پینتالیس بنتی ہے،نو نومبر 1953ء میں سعودی ریاست کے بانی عبدالعزیز کا انتقال ہوا ۔
2 نومبر 1964ء کو شاہ سعود بن عبدالعزیز کو کرپشن اور نا اہلی کے الزامات کے تحت معزول کر دیا گیا اور ان کے سوتیلے بھائی شاہ فیصل نے اقتدار سنبھالا،شاہ سعود کی وفات 1969ء کو جلاوطنی میں ہوئی۔
جدید سعودی عرب کے معمار کا خطاب حاصل کرنے والے شاہ فیصل کو مارچ 1975ء میں ان کے ایک بھتیجے نے قتل کردیا، اس وقت کہا گیا تھا کہ قاتل کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں تھا،اسلام آباد میں واقع فیصل مسجد اور پنجاب کے شہر فیصل آباد کا نام سعودی شاہ فیصل کے نام پر ہی رکھا گیا۔
اس کے بعد سعودی عرب کی حکمرانی شاہ فیصل کے سوتیلے بھائی شاہ خالد کے حصے میں آئی اور وہ 1982ء میں اپنی وفات تک حکمران رہے،اس کے بعد شاہ فہد حکمران بنے اور انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اپنی عمر سے دو سال چھوٹے شاہ عبداللہ کو ولی عہد مقرر کر دیا تھا۔
1995ء میں شاہ فہد پر فالج کا حملہ ہوا، جس کے بعد عملی طور پر زیادہ تر فرائض عبداللہ ہی سرانجام دیتے رہے، 2005ء میں شاہ فہد انتقال کر گئے اور ان کی جگہ شاہ عبداللہ نے لی، 23 جنوری 2015 کو انتقال کرنے والے شاہ عبداللہ کی جگہ اُن کے سوتیلے بھائی سلمان بن عبدالعزیز نے لی،جو کہ موجودہ بادشاہ ہیں۔
ساتھ میں یہ بھی واضح رہے کہ آل سعود کا ہر فرد حکومت سے وافر مقدار میں ماہانہ وظیفہ کرتا ہے ۲۰۱۶ کی رپورٹ کے مطابق ہر سعودی شہزادے اور شہزادی کو حکومت سے ملنے والا ماہانہ وظیفہ  2 لاکھ ڈالر ہے ،ریاض،جدہ مکہ اور مدینہ کے بڑے بڑے ہوٹل،نیز شاپنگ مول اور بڑی بڑی کمپنیاں ان سعودی کے رنگین مزاج شہزادوں اور شہزادیوں کی ہیں،پورا ٹرانسپورٹ سسٹم،سیاحت اور دیگر ذرائع آمدنی آل سعود سے متعلق ہیں اور وہاں کی عوام کے پا س صرف وہ مال ہے جو وہ لوگ رات دن کی محنت سے کماتے ہیں،ملک کا سرمایہ اور حرمین کی ساری کمائی آل سعود امریکہ سے ہتھیار خرید کر برباد کردیتے ہیں۔
تحریر منتظر حیدری



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2019 January 20