Saturday - 2018 June 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187504
Published : 28/5/2017 15:23

رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کا حکم

کتاب توریت سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب موسیٰ(ع) نے چالیس دن روزے رکھے جیساکہ توریت میں ہے:جب میں طور سینا پر پہنچا کہ خدا سے صحیفے حاصل کروں تو میں چالیس دن اس پہاڑ پر رہا اس دوران نہ وہاں کھانا کھایا نہ پانی پیا۔

ولایت پورٹل:روزوں کے واجب ہونے کی دلیل خود قرآن کریم کی  یہ آیت ہے:«یَآ اَیُّهَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیکُمُ الصِّیَامُ»
ترجمہ:اے صاحبان ایمان تم پر روزے فرض کر دئیے گئے ہیں پس تم میں سے جو مسافر نہیں ہے ہے وہ روزے رکھے۔
روزے کا حکم کب نازل ہوا؟
اسلام کے تمام احکام اور دستورات بالتدریج اور دھیرے دھیرے نازل ہوئے ہیں،اس بنا پر ماہ رمضان میں روزہ رکھنے کا حکم ہجرت کے دوسرے سال دو شعبان کو نازل ہوا۔
روزے گزشتہ امتوں پر بھی واجب تھے،قرآن کریم نے صراحت سے اس بات کو بیان کیا ہے:«کُتِبَ عَلَیکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِینَ مِن قَبلِکُم»
ترجمہ:تم پر روزے فرض کر دئیے گئے ہیں جیسا کہ تم میں سے پہلی امتوں پر فرض کئے گئے تھے۔
موجودہ توریت اور انجیل سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کے درمیان بھی روزے پائے جاتے تھے۔
بعض قومیں اس وقت روزہ رکھا کرتی تھی جب ان پر کوئی مصیبت یا بلا نازل ہوتی تھی،جیسا کہ کتاب قاموس میں آیا ہے:روزہ گزشتہ تمام قوموں اور امتوں میں پایا جاتا تھا اور وہ امتیں بعض اوقات غیر متوقع طور پر غم و اندوہ میں مبتلا ہوتے وقت روزہ رکھتی تھیں۔
کتاب توریت سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب موسیٰ(ع) نے چالیس دن روزے رکھے جیساکہ توریت میں ہے:جب میں طور سینا پر پہنچا کہ خدا سے صحیفے حاصل کروں تو میں چالیس دن اس پہاڑ پر رہا اس دوران نہ وہاں کھانا کھایا نہ پانی پیا۔

 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 June 23