Saturday - 2018 August 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187511
Published : 28/5/2017 16:16

روزے کا فلسفہ

روزہ بھوک و پیاس کی مشق کے لئے واجب نہیں کیا گیا بلکہ محرمات اور گناہوں سے پرہیز کا عادی بنانے کے لئے واجب کیا گیا ہے۔

ولایت پورٹل: قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:اے ایمان لانے والو! تم پر روزے فرض کردئے گئےجیسے تم سے پہلی امتوں پر فرض تھے تاکہ تم پرہیزگا ر بن جاؤ۔ «یايها اَلّذينَ آمَنُوا کُتِبَ عَلِيکُمْ الصِّيام کَمٰاکُتِبَ عَلَی الَّذِينَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُون»۔ ( سورہ بقرہ ١٨٣ )
مذکورہ آیہ مبارکہ اپنے بعد والی آیت کے ہمراہ ہمیں تین اہم موضوع کی طرف متوجہ کرتی ہے: روزہ ،دعا اور قرآن یہ تینوں آیت آپس میں ایسی منسجم ہیں کہ ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتی ،لہذا یہ ماہ منور ایسا بابرکت مہینہ ہے جسمیں لوگوں کا رجحان صرف اور صرف عبادات الٰہی کی طرف رہتا ہے،جس آیہ شریفہ کو ہم نے بیان کیا ہے وہ روزہ پر ایک محکم دلیل ہے اور مبارک مہینہ بھی روزہ اور روزہ داروں سے مخصوص ہے اس لئے ہر انسان کو ان دنوں خاص توجہ دینی چاہیئے کیونکہ یہ مہینہ لوگوں کے تزکیہ نفس کا ہے۔
قرآن مجید کے خطابات کا ایک نرالہ ہی انداز ہے کبھی اس نے «ياايهاالناس»کہہ کر لوگوں کو خطاب کیا ہے تو کبھی «یا اهل الکتاب»اور کبھی «يا ايها الذین آمنوا» ان تمام خطابات میں سب سے لطیف لحن قرآن کا یہ ہے کہ اس نے مؤمنوں کو بڑے پیارے انداز میں خطاب کیا ہے کہ «یا ایھا الذین آمنوا»اے ایمان والو!جو سب سے بہترین لحن مانا جاتا ہے۔
امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:«لذّة ما فی النداء ازال تعب العبادة و العناء»یعنی:خطاب کی لذت«یا ایھا الذین آمنوا»عبادت کی سختی و مشقت کو دور کر دیتی ہے۔(مجمع البیان جلد ٢ صفحہ ٤٩٠)
در حقیقت روزہ، روزہ داروں کی سختیوں اور پریشانیوں کو دور کر دیتا ہے،روزہ انسان کے زاد و توشہ کو تأمین کرتا ہے کیوںکہ انسان دنیا میں مسافر کی حیثیت رکھتا ہے اور مسافروں کو سفر میں زاد و راہ توشہ کی اشد ضرورت پڑتی ہے:«و تزّودو ا فانّ خیر الزّاد التقویٰ»( سورۂ بقرہ ١٩٦)
روزہ انسانی زندگی میں تقوی پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے کہ یہ عمل صرف خدا کے لئے ہوتا ہے اور اسمیں ریا کاری کا امکان نہیں ہے،روزہ صرف نیت ہے اور نیت کا علم صرف پروردگار کو ہے،پھر روزہ قوت ارادی کے استحکام کا بہترین ذریعہ ہے جہاں انسان حکمِ خداوندی کی خاطر ضروریات زندگی اور لذّات حیات سب کو ترک کر دیتا ہے کہ یہی جذبہ تمام سال باقی رہ جائے تو تقوی کی بلند ترین منزل حاصل ہو سکتی ہے۔
روزہ کی زحمت کے پیش نظر دیگر اقوام کا حوالہ دے کر اطمینان دلایا گیا ہے اور پھر سفر اور مرض میں معافی کا اعلان کیا گیا ہے اور مرض میں شدت یا سفر میں زحمت کی شرط نہیں لگائی گئی ہے،یہ انسان کی جہالت ہے کہ خدا آسانی دینا چاہتا ہے اور وہ آج اور کل کے سفر کا مقابلہ کر کے دشواری پیدا کرنا چاہتا ہے اور اس طرح خلاف حکم  خدا روزہ رکھ کر بھی تقویٰ سے دور رہنا چاہتا ہے۔
آیہ کریمہ میں «لَعلَّکم»(شاید)کا لفظ علم خدا کی کمزوری کی بنا پر نہیں نفس بشری کی کمزوری کی بنا پر استعمال ہو ا ہے ! اور یہ یاد رہے کہ روزہ صرف روزہ بھی تقویٰ کے لئے کافی نہیں ہے،روزہ کی کیفیت کا تمام زندگی باقی رہنا ضروری ہے اور یہ ضروری ہے کہ سارا وجود روزہ دارہو،برے خیالات ،گندے افکار ،بد عملی ،بد کرداری وغیرہ زندگی میں داخل نہ ہو نے پا ئیں۔
روزہ برائیوں سے پر ہیز اور محرمات سے اجتناب کی ایک ریاضت ہے،روزہ بھوک ،پیاس اورمحنت و مشقت کا نام نہیں ہے،روزہ دار کے ذہن اور دل و دماغ کو غلط تصورات و خیالات سے ویسے ہی پاک و پاکیزہ ہونا چائیے جس طرح اس کا شکم کھانے اور پینے سے خالی اور صاف رہتا ہے۔
روزہ بھوک و پیاس کی مشق کے لئے واجب نہیں کیا گیا بلکہ محرمات اور گناہوں سے پرہیز کا عادی بنانے کے لئے واجب کیا گیا ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 August 18