Tuesday - 2018 Oct. 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187531
Published : 29/5/2017 13:40

امام رضا(ع) کی نظر میں روزہ کا فلسفہ

امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا؛تاکہ لوگ اپنی بھوک اور پیاس کی پہچان کے سبب آخرت میں اپنی بے بسی، لاچاری اور ناداری کو سجمھ سکیں،تاکہ روزہ دار خداوند متعال کے سامنے بے بسی، ذلت و محتاجی کو سمجھتے ہوئے انکساری سیکھ سکے۔

ولایت پورٹل:امام رضا علیہ السلام نے فضل بن شاذان کے سوال کہ:مولا روزہ کا حکم کیوں دیا گیا ہے اور کیوں اسے اسلام میں واجب کیا گیا ہے، امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا؛تاکہ لوگ اپنی بھوک اور پیاس کی پہچان کے سبب آخرت میں اپنی بے بسی، لاچاری اور ناداری کو سجمھ سکیں،تاکہ روزہ دار خداوند متعال کے سامنے بے بسی، ذلت و محتاجی کو سمجھتے ہوئے انکساری سیکھ سکے،بھوک اور پیاس کی شدت میں جو زحمت اسے ہوئی، جو صبر اس نے کیا، روزہ دار اس اجر کا مستحق ہو، اس کا ثواب حاصل کر سکے،اس کے علاوہ روزہ میں دیگر حکمتیں بھی ہیں جیسے شہوت کو قابو کرنا، نفس کو مہار کرنا، اس کی سرکشی پر لگام لگانا، دنیا میں پند و نصیحت کا سبب بننا، انسان کو سخت ریاضت اور مشقت کا عادی بنانا اور انہیں احکام الہی کا پابند بنانا،اور اس لئے کہ انسان کیلئے دنیا کی دوسری مشقتیں اور سختیاں نمونہ عمل بن سکیں اور وہ روزہ کے بہانہ بے کس و مجبور اور فقراء کی بھوک و پیاس کو محسوس کر سکے اور جان لے کہ خداوند متعال نے ان کے مال و دولت میں فقراء اور مساکین کا جو حصہ مقرر کیا ہے، اسے ادا کرے۔
متن حدیث:
وَ فِی الْعِلَلِ وَ عُیُونِ الْأَخْبَارِ بِأَسَانِیدِهِ الْآتِیَةِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ شَاذَانَ عَنِ الرِّضَا ع قَالَ: إِنَّمَا أُمِرُوا بِالصَّوْمِ لِکَیْ یَعْرِفُوا أَلَمَ الْجُوعِ وَ الْعَطَشِ فَیَسْتَدِلُّوا عَلَى فَقْرِ الْآخِرَةِ وَ لِیَکُونَ الصَّائِمُ خَاشِعاً ذَلِیلًا مُسْتَکِیناً مَأْجُوراً مُحْتَسِباً عَارِفاً صَابِراً عَلَى مَا أَصَابَهُ مِنَ الْجُوعِ وَ الْعَطَشِ فَیَسْتَوْجِبَ الثَّوَابَ مَعَ مَا فِیهِ مِنَ الْإِمْسَاکِ عَنِ الشَّهَوَاتِ وَ لِیَکُونَ ذَلِکَ وَاعِظاً لَهُمْ فِی الْعَاجِلِ وَ رَائِضاً لَهُمْ عَلَى أَدَاءِ مَا کَلَّفَهُمْ وَ دَلِیلًا لَهُمْ فِی الْآجِلِ وَ لِیَعْرِفُوا شِدَّةَ مَبْلَغِ ذَلِکَ عَلَى أَهْلِ الْفَقْرِ وَ الْمَسْکَنَةِ فِی الدُّنْیَا فَیُؤَدُّوا إِلَیْهِمْ مَا افْتَرَضَ اللَّهُ لَهُمْ فِی أَمْوَالِهِمْ۔
{شیخ صدوق، عیون اخبار الرضا، ج 2، ص 247}




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Oct. 23