Saturday - 2018 August 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187538
Published : 29/5/2017 14:42

مولانا سید نثار حسین عظیم آبادی،حیات و آثار

مولانا سید نثار حسین بن سید اکبر حسین ،شوال ۱۳۶۸ ہجری کو علی نگر،گیا،بہار،ہند میں پیدا ہوئے،آپ کے خاندان میں مولوی سید افضل علی صاحب ابن مولوی وزیر علی صاحب اور مولوی ذاکر حسین صاحبان بھی اہل علم و فضل تھے۔


ولایت پورٹل
:
مولانا سید نثار حسین بن سید اکبر حسین ،شوال  ۱۳۶۸ ہجری کو علی نگر،گیا،بہار،ہند میں پیدا ہوئے،آپ کے خاندان میں مولوی سید افضل علی صاحب  ابن مولوی وزیر علی صاحب اور مولوی ذاکر حسین صاحبان بھی اہل علم و فضل تھے۔
آپ نے متعدد علماء سے کسب فیض کیا جن میں مولوی وزیر علی صاحب ،مولانا سید حیدر علی صاحب ،مولانا علی نقی صاحب ،ملک العلماء جناب مفتی صاحب وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
طب کے لئے عالم و طبیب نواب مظفر حسین خانصاحب بن نواب مسیح الدولہ سے کچھ دنوں تک نفیسی پڑھی اس کے بعد شیخ تفضل حسین تعلقہ دار فتحپور بسواں سے قانون کا درس لیا۔
آپ نے ۶ حج اور ۹ مرتبہ زیارات کئے،۲ مرتبہ مشہد مقدس گئے،چنانچہ ایک سفر حج میں مولوی سید نیاز حسن صاحب حیدرآبادی اور جناب مولوی سید مظہر علی صاحب بنارسی سے ملاقات ہوگئی یہ دونوں بزرگ آپ کو حیدرآباد لے گئے۔
وفات
مولانا نہایت ہی خلیق اور سادہ مزاج مقدس و متقی بزرگ تھے سن ۱۳۳۸ ہجری حیدرآباد دکن میں رحلت فرمائی۔
قلمی آثار
۱۔ترجمہ شافیہ فارسی
۲۔میزان الافکار
۳۔شرح معیار الاشعار
۴۔حاشیہ بر شرح جامی
۵۔رد الاجابۃ الشیخیۃ
۶۔ایقاظ الغافلین
۷۔ھدایۃ المؤمنین
۸۔نہاریہ بہرامیہ
۹۔ساعتیہ علویہ
۱۰۔تعلیق الحال بالمحال
۱۱۔حاشیہ نفیسی
۱۲۔الالقاب المتداولۃ
۱۳۔صراط مستقیم
۱۴۔الف رقعۃ(مکاتیب عربیۃ)
۱۵۔ابطال المساوات
۱۶۔دیوان فارسی
۱۷۔دیوان اردو
۱۸۔دیوان عربی
غرض اس کے علاوہ بھی بہت سی کتابیں ان کی یادگار ہیں،مولانا نے اپنی زندگی تبلیغ اور تالیف میں گذاری جس کا منھ بولتا ثبوت آپ کے  یہ قلمی آثار ہیں کہ جو قحط الرجالی  کے اس دور میں سالک طریق کے لئے مشعل ھدایت ہیں۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 August 18