Tuesday - 2018 Dec 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187543
Published : 29/5/2017 15:52

ہمارا روزہ !!!

آپ دیکھیں گے کہ مسلمان معاشروں میں ماہ مبارک رمضان میں کھانے کا بجٹ عام زمانوں سے زیادہ ہوتا ہے اور مسلمانوں کی توجہ کھانے کے انواع و اقسام پر سال بھر سے زیادہ ہوتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ روزہ ترک لذات اور ریاضت کا ذریعہ نہیں بلکہ بھوکے رہ کر کھانوں سے لذت اندوزی کا ذریعہ ہے !

ولایت پورٹل:شہزادی کونین دختر نبی اکرم حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام نے ارشاد فرمایا:وہ روزہ دار جو اپنی زبان ، اپنے کان، اپنی آنکھوں اور اپنے جوارح کو گناہ سے محفوظ نہ رکھ سکے تو اسکا روزہ روزہ نہیں ہے۔
امیر المؤمنین علیہ السلام نے  ارشاد فرمایا:قلب کا روزہ زبان کے روزہ سے بہتر ہے اور زبان کا روزہ شکم کے روزہ سے افضل ہے۔
کتنی اچھی اور قابل غور بات علامہ ذیشان حیدر جوادی مرحوم نے کہی ہے کہ:روزہ ترک لذّات کا نام ہے تیاریٔ لذّات کا نہیں۔
مگر افسوس آج ہمارے معاشرہ کا سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ ہمارا  وقت ،روزہ کے زمانے میں بھی زیادہ حصہ کھانے کی تیاری پر صرف ہو جاتا ہے،عورتیں دو پہر کے بعد مستقل باورچی خانہ کی نذر ہوجاتی ہیں اور انواع و اقسام کے کھانے کی تیاری میں مشغول رہتی ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ روزہ بھوک و پیاس کے ذریعہ عبرت اور اصلاح نفس کی تحریک نہیں ہے بلکہ بہترین کھانوں کی تحریک ہے۔
آپ دیکھیں گے کہ مسلمان معاشروں میں ماہ مبارک رمضان میں کھانے کا بجٹ عام زمانوں سے زیادہ ہوتا ہے اور مسلمانوں کی توجہ کھانے کے انواع و اقسام پر سال بھر سے زیادہ ہوتی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ روزہ ترک لذات اور ریاضت کا ذریعہ نہیں بلکہ بھوکے رہ کر کھانوں سے لذت اندوزی کا ذریعہ ہے !
روزہ بہترین عبادت ہے جسے پروردگار نے استعانت کا ذریعہ قرار دیا ہے اور آل محمد(ص) نے مشکلات میں اسی ذریعہ سے کام لیا ہے،کبھی نماز ادا کی ہے اور کبھی روزہ رکھا ہے،یہ روزے ہی کی برکت تھی کہ جب بیماری کے موقع پر آل محمد(ص) نے روزہ کی نذر کرلی اور وفائے نذر میں روزے رکھے تو پروردگار نے پورا سورۂ دہر نازل کر دیا۔
آل محمد کے ماننے والے اور سورہ ٔ دہر کی آیات پر وجد کرنے والے کسی حال میں روزے سے غافل نہیں ہو سکتے اور صرف ماہ مبارک رمضان میں نہیں بلکہ جملہ مشکلات میں روزہ کو سہارا بنا ئیں گے، کیونکہ یہ مہنیہ تمام مہینوں کا سردار ہے اس ماہ مبارک میں تمام چیزیں یکجا ہو جایا کرتی ہیں جتنی فضیلت اس مہینہ کو حاصل ہے کسی اور مہینہ کو حاصل نہیں،اس ماہ میں روزہ داروں کا ہر ہر لمحہ کبھی قرآن مجید کی تلاوت ،کبھی دعا اور کبھی نماز واجبہ کے ہمراہ نماز مستحبی پڑھنے میں گذرتا ہے، اس ماہ میں نزول قرآن کے سبب اس کی عظمتوں میں اور چار چاند لگ گئے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ:مَنْ قَرَأَ فِیْ شَھْرِ رَمْضَانَ ٰاٰیَةً مِنْ کِتٰابِ اللّٰہِ کَانَ کَمَنْ خَتَمَ اَلْقُرْٰانَ فِیْ غَیْرِہِ مِنَ اَلْشُّھُوْرِ۔
یعنی امام رضا فرماتے ہیں کہ:جو بھی ماہ رمضان میں کتاب اللہ کی ایک آیت کی تلاوت کریگا تووہ اس شخص کے مانند ہے جو بقیہ مہینوں میں پورے قرآن کی تلاوت کرے۔
رسول اکرم کا ارشاد گرامی ہے:یہ جان لو کہ جو بھی قرآن کو سیکھے اور اسکے بعد دوسروں کی اس کی تعلیم دے اور اس پر عمل کرے تو میں جنت کی طرف اس کی رہنمائی کرنے والا ہوں۔
نیز آپ(ص)نے فرمایا:اے میرے بیٹا! قرآن پڑھنے سے غافل نہ رہو ،کیونکہ قرآن دل کو زندہ کرتا اور فحشاء و گناہ سے دور رکھتا ہے۔
ماہ مبارک رمضان کی اتنی ہی زیادہ عظمت و فضیلت ہے کہ انسان اسے بیان کرنے سے قاصر ہے کیونکہ یہ مہینہ خدا کا مہینہ ہے جس طرح ماہ رجب ماہ ولایت(امیرالمؤمنین )اور ماہ شعبان ماہ رسالت (رسول اکرم (ص))ہے اسی طرح سے یہ بابرکت مہینہ بھی ماہ خداوند عالم ہے جس کی عظمتوں کو ہمارا سلام ہو لہذا اگر کوئی اسمیں داخل ہونا چاہے تو سب سے پہلے درِولایت سے داخل ہو ۔اور انسان کے اعمال کی قبولیت بغیر ولایت اہلبیت علیہم السلام میسر ہی نہیں ہے !اس لئے ضروری ہے کہ انسان عقل سلیم سے کام لے اور اس ماہ میں خدا و رسول(ص) کے ساتھ ساتھ اہلبیت اطہار(ع) کی ولایت سے بھی متمسک ہو جائے تاکہ اس میں تزکیہ نفس کی خوبی اور خدا شناسی کا شعور اور دعا کرنے کا سلیقہ پیدا ہو سکے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 18