Monday - 2018 August 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187567
Published : 30/5/2017 15:14

رسول اللہ(ص) کے بارہ خلیفہ

ینابیع المودۃ کے مؤلف کہتے ہیں:اس حدیث کو اہل بیت پیغمبر(ص) کے بارہ اماموں پر ہی منطبق کرنا چاہئے اس لئے کہ وہ اعلم ،اتقی اور خدا کے نزدیک سب سے زیادہ مکرم ہیں ان کے علوم وراثت اور علم لدنی کے ذریعہ ان کے جد رسول خدا (ص) پر منتہی ہوتے ہیں حدیث ثقلین اور اس کتاب اور دوسری کتب میں مذکوردیگر احادیث اس بات کی تائید کرتی ہیں۔


ولایت پورٹل:
قارئین کرام!ہم نے گذشتہ چند مضامین کے اندر حضرت علی(ع) کی امامت کی نصوص یعنی وہ آیات اور روایات کہ جو امام علی(ع) کی قیادت و رہبری پر دلیل ہیں،پیش کرنے کی سعادت حاصل کی،آج ہماری بحث امامت عامہ کے متعلق ہے کہ جس میں سرکار ختمی مرتبت(ص) نے اپنے بارہ جانشین اور خلفاء کے متعلق وضاحت فرمائی!
ملاحظہ فرمائیں:صحاح ومسانید اور حدیث کی دیگر اکتب میں مختلف اسناد کے ساتھ جابر بن سمرہ نے پیغمبر اکرم(ص) سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت(ص)نے ارشاد فرمایا:میرے بعد بارہ خلیفہ مسلمانوں کے رہبر ہوں گے اور وہ سب کے سب قریش سے ہوں گے۔
صحیح بخاری کے مطابق حدیث کا متن یہ ہے:«یکون اثنا عشر امیراً فقال کلمة لم اسمعھا فقال ابی انه قال:کلھم من قریش»۔(۱)
ترجمہ:۔۔۔۔بارہ امیر ہوں گے،اس کے بعد پیغمبر(ص) نے کچھ فرمایا جسے میں نہ سن سکا،میرے والد کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:سب کے سب قریش سے ہوں گے۔
صحیح مسلم میں مندرجہ ذیل عبارتیں نقل ہوئی ہیں:«ان ھذا الامر لا ینقضی حتی یمضی فیھم اثنا عشر خلیفة کلھم من قریش»
«و لایزال امر الناس ماضیا ما ولیھم  اثنا عشر رجلا کلھم من قریش»
«و لایزال الاسلام عزیزا الیٰ اثنی عشر خلیفة کلھم من قریش»
«و لایزال ھذا الامر عزیزا الیٰ اثنی عشر خلیفة کلھم من قریش»
«و لایزال ھذا الدین  عزیزا الیٰ اثنی عشر خلیفة کلھم من قریش»
«و لایزال الدین قائماً حتی تقوم الساعة اویکون علیکم اثنا عشر خلیفة کلھم من قریش»۔(۲)
جابر بن سمرہ سے منقول مختلف عبارتوں میں غور کرنے سے یہ نتائج نکلتے ہیں:
۱۔ان عبارتوں سے واضح ہے کہ بارہ خلیفہ قیامت تک موجود رہیں گے اور یہ چیز اہل بیت(ع) کے بارہ اماموں کے علاوہ کسی اور پر منطبق نہیں ہوتی۔
۲۔اس بات کے پیش نظر کہ تاریخ اسلام کے ظاہری خلفاء سب قریش میں سے نہیں تھے مقصود شرعی امامت ہے نہ کہ ظاہری امامت اور غلبہ، یہ چیز بھی صرف ائمہ اہلبیت(ع) پر ہی منطبق ہوتی ہے۔
۳۔ینابیع المودۃ کے مؤلف جابر بن سمرہ کی حدیث نقل کرنے کے بعد اس حدیث کی شرح سے متعلق اہل سنت کے بعض محققین کے اقوال بھی درج کرتے ہیں وہ تحقیق یہ ہے:بارہ خلفاء سے متعلق جو احادیث ہیں وہ مختلف طرق سے شہرت رکھتی ہیں اور ان سے مراد اہل بیت(ع) اور عترت پیغمبر (ص) سے بارہ امام ہیں اس لئے کہ ان احادیث کا انطباق پیغمبر (ص)کے بعد والے خلفاء پر ممکن نہیں ہے۔
ان احادیث کو اموی حکمرانوں پر بھی منطبق نہیں کیا جا سکتاہے اس لئے کہ اولاً تو ان کی تعداد بارہ سے زیادہ ہے اور پھر ان میں عمر بن عبد العزیز کے علاوہ سبھی ظالم تھے اسی لئے عباسی حکام پر بھی اس کا انطباق نہیں ہو سکتا لہٰذا اس حدیث کو اہل بیت پیغمبر(ص) کے بارہ اماموں پر ہی منطبق کرنا چاہئے اس لئے کہ وہ اعلم ،اتقی اور خدا کے نزدیک سب سے زیادہ مکرم ہیں ان کے علوم وراثت اور علم لدنی کے ذریعہ ان کے جد رسول خدا (ص) پر منتہی ہوتے ہیں حدیث ثقلین اور اس کتاب اور دوسری کتب میں مذکوردیگر احادیث اس بات کی تائید کرتی ہیں۔ (۳)
۴۔فضل بن روزبہان اشعری نے اس بات کی جانب اشارہ کرنے کے بعد کہ بارہ خلفاء سے متعلق احادیث سند کے اعتبار سے صحیح اور درست ہیں کہا ہے کہ ان احادیث کا اہل بیت کے بارہ اماموں پر علم ومعرفت ،حجت الٰہی کی وضاحت ،منصب نبوت کی ذمہ داریوں کی ادائیگی کی (تکمیل دین کی تشریح اورلوگوں کی ہدایت)کے لحاظ سے:«خلافت» کے عنوان کا انطباق تو قابل قبول ہے لیکن امامت اور عمومی زعامت و قیادت کے عنوان سے قابل قبول نہیں ہے اس لئے کہ ان میں سے فقط دو اماموں کو ہی ایسی امامت بالفعل حاصل ہوئی اور ان احادیث میں مذکور خلافت سے بالقوۃ امامت یا امامت کا حقدار ہونا مراد نہیں لیا جاسکتا اس لئے کہ احادیث کے ظاہری معنی یہ ہیں کہ بارہ خلفاء امر امامت کے لئے قیام کریں گے اور امر امامت کے لئے ان کے قیام سے دین قائم رہے ہوگا۔(۴)
اقامۂ دین اور دین کی عزت (جس کا تذکرہ بارہ خلفاء کی احادیث میں ہے) سے مراد یہ نہیں ہے کہ دین اسلام کے احکام پوری دنیا میں نافذ ہو جائیں گے کیونکہ ایسا آج تک نہ ہو سکا البتہ مہدی موعود (عجل )کے ظہور کے بعدضرور ایسا ہوگا بلکہ مقصود یہ ہے کہ ایسے رہبر و قائد کے اعتبار سے اسلام میں کوئی خلل یانقص کا امکان نہیں ہے جو رہبر بشریت کے لئے نمونہ اور مقتدیٰ ہو اور اس کا قول وفعل سب کے لئے حجت ہو کہ ہر چیز سے پہلے دین کی عزت اور اقتدار و قدرت اس سے وابستہ ہے کہ دین کے اصول و مبانی مستحکم ہوں اور حکیم و علیم قائد ورہبر اس کی رہبری کرے،بارہ خلفاء کی احادیث اسی چیز کو بیان کرتی ہیں کہ رہتی دنیا تک اسلام کو یہ عزت اور اقتدار و قدرت حاصل رہے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔صحیح بخاری،ج/۴،ص/۲۴۸،کتاب الاحکام ،باب استخلاف دار المعرفۃ بیروت۔
۲۔صحیح مسلم ج/۳ کتاب الامارۃ باب اول ص/۱۴۵۱تا ۱۴۵۳۔دار احیاء ۔۔ ۔ا لعربی ،بیروت  
۳۔ینابیع المودۃ ،ص/۴۴۶ بی تا، قم۔
۴۔دلائل الصدق ج/۲،ص/۴۸۶،۴۸۷ نقل از کتاب ابطال الباطل فضل بن روز بہان

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 August 20