Monday - 2018 Sep 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187579
Published : 31/5/2017 11:34

سعودی عرب میں معذور جوان کو سر قلم کرنے کی سزا

ذرائع کے مطابق آدم کے میڈیکل ریکارڈ کے باوجود حراست کے دوران پولیس نے اسے جسمانی اذیتیں دیں اور اپنا جرم قبول کرنے پر مجبور کیا،منیر آدم پر الزام ہے کہ اس نے مظاہرے کے دوران تشدد سے کام لیا تھا جب کہ حکومت نے کسی قسم کا ثبوت پیش نہیں کیا بلکہ صرف اس کے جبری اقبالیہ بیان کی بنیاد پر سر قلم کرنے کی سزا سنائی گئی ہے۔


ولایت پورٹل:سعودی عرب کی ایک عدالت نے حکومت مخالف مظاہروں میں حصہ لینے کے الزام میں ایک معذور نوجوان کا سر قلم کرنے کی سزا سنائی ہے،برطانوی اخبار انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق، 23 سالہ منیر آدم نے 2012 میں ملک کے مشرقی علاقے قطيف کے ایک مظاہرے میں حصہ لیا تھا، جہاں سکیورٹی اہلکاروں نے اسے بری طرح مارا پیٹا تھا جس کی وجہ سے اس کی سننے کی صلاحیت ختم ہوگئی تھی،انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ایک غیرانسانی اقدام قرار دیا اور وائٹ ہاؤس سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں مداخلت کرے۔
قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب میں حکومت کے خلاف مظاہرہ کرنے کی سزا موت ہے،حال ہی میں ٹرمپ انتظامیہ کے وزیر خزانہ نے
سعودی نظام حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب میں مظاہرے نہیں ہوتے ہیں،جبکہ اگر وہ اس حقیقت کو جاننے کو کوشش کرتے کہ کیوں لوگ اپنے حق کو بھی حکومت سے طلب نہیں کرتے ،تو شاید انھیں معلوم ہوسکتا۔
ذرائع کے مطابق آدم کے میڈیکل ریکارڈ کے باوجود حراست کے دوران پولیس نے اسے جسمانی اذیتیں دیں اور اپنا جرم قبول کرنے پر مجبور کیا،منیر آدم پر الزام ہے کہ اس نے مظاہرے کے دوران تشدد سے کام لیا تھا جب کہ حکومت نے کسی قسم کا ثبوت پیش نہیں کیا بلکہ صرف اس کے جبری اقبالیہ بیان کی بنیاد پر سر قلم کرنے کی سزا سنائی گئی ہے۔
ابلاغ


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Sep 24