Sunday - 2018 June 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187584
Published : 31/5/2017 13:20

دعائے افتتاح ہمیں امام زمانہ(عج) سے قریب کرسکتی ہے

دعائے افتتاح عصرغیبت میں منتظرین کے لیے ایک اسلحہ بن سکتی ہے اور اس کی تلاوت ہمیں امام زمانہ علیہ السلام کی رضایت کے قریب کرسکتی ہے۔

ولایت پورٹل:حوزہ ویونیورسٹی کےاستاد حجۃ الاسلام سید مجتبیٰ معنوی نےدعائےافتتاح کی اہمیت کے بارے میں کہا ہے کہ مختلف قرائن کے پیش نظر یہ دعا امام زمانہ علیہ السلام سے ہم تک پہنچی ہے اور ماہ رمضان کی ہر رات میں اس دعا کی تلاوت کی تاکید کی گئی ہے۔
انہوں نے اس  دعا کے مضمون کے بارے میں شک و تردید کے مسئلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ بعض افراد کو شک ہے کہ اس دعا کا مضمون معصوم کی جانب سےنقل ہوا ہے یا نہیں تو  اس بارے میں کہنا چاہیے کہ یہ دعا انتہائی اعلیٰ اورمعارف سےغنی مضامین پرمشتمل ہے،جب آپ اس دعا  کوپڑھتے ہیں تو اس کا ایک حصہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا، دوسرا حصہ دعا کی عدم قبولیت  کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت اور ایک حصہ اہل بیت علیہم السلام پردرود و سلام پر مشتمل ہے اورا یک مخصوص حصےمیں امام زمانہ علیہ السلام پر درود و سلام بھیجا گیا ہے۔
لہذا مضمون کے لحاظ سے یہ دعا ایک قوی ترین دعا ہے اوراس دعا کے کچھ فراز ان دعاؤں میں بھی آئے ہیں کہ جو امام صادق علیہ السلام سے نقل ہوئی ہیں، لہذا اس دعا کے معصوم سے منقول ہونے کے لیے یہ ایک اورقرینہ و دلیل ہے۔
حجۃ الاسلام معنوی نےمزید کہا ہےکہ علامہ مجلسی نے اپنی کتاب(زاد المعاد) میں دعویٰ کیا ہے کہ ہم نے معتبرسند کے ساتھ اس دعا کو بارہویں امام علیہ السلام سے حاصل کیا ہے،لہذا اس دعا کے معصوم سے صادر ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔
انہوں نےکہا ہےکہ اس دعا کی اہمیت کے بارے میں کہنا چاہیے کہ جب امام علیہ السلام تاکید کرتے ہیں کہ ماہ مبارک رمضان کی ہر رات کو اس دعا کو پڑھنا چاہیے اور جو بھی اسے پڑھتا ہے فرشتے اس کے لیے استغفارکرتے ہیں تویہ چیز اس دعا کی اہمیت کوبیان کرتی ہے۔
مہدویت کے اس محقق نے مزید کہا ہے کہ یہ کوئی چھوٹا مسئلہ نہیں ہے، کیونکہ فرشتے ہرضعیف اور بیہودہ بات کو نہیں سنتے ہیں،لہذا یہ مضمون، فرشتوں کے لیےایک قابل استماع مضمون ہے اور اس استماع کا نتیجہ یہ ہےکہ جب وہ اس دعا کو سنتے ہیں تو پڑھنے والے کے لئے استغفارکرتے ہیں،لہذا دعائے افتتاح ایک انتہائی گرانقدردعا ہے۔
انہوں نے آخرمیں کہا ہےکہ اس دعا کے آخری آٹھ فراز ،خصوصی طورپرامام زمانہ علیہ السلام سے مخصوص ہیں اور ان میں ایک مخصوص انداز اور جدید اور اسٹریٹجک نگاہ کے ساتھ عقیدہ مہدویت اور انتظارکو ہمارے سامنے پیش کیا گیا ہے،دعائے افتتاح عصرغیبت  میں منتظرین کے لیے ایک اسلحہ بن سکتی ہے اور اس کی تلاوت ہمیں امام زمانہ علیہ السلام کی رضایت کے قریب کرسکتی ہے۔
شبشتان


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 June 24