Wed - 2018 August 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187598
Published : 31/5/2017 15:56

احترام کے ساتھ بچوں کوکیسے چڑھائیں پروان (۱)

بچہ ایک چھوٹا سا انسان ہے اسے اپنى شخصیت سے پورى محبّت ہے، توہین اور تحقیر سے آزردہ خاطر ہوجاتا ہے،ماں باپ جس بچے کى توہین و تحقیر کرتے ہوں اس کے دل میں ان کے بارے میں کینہ پیدا ہوجاتا ہے اور جلد یا بدیر وہ سرکش اور نافرمان بن جاتا ہے اور ان سے انتقام لیتا ہے۔

ولایت پورٹل:بچہ بھى ایک انسان ہوتا ہے اور ہر انسان کو اپنے آپ سے محبت بھی ہوتى ہے،اس کى خواہش ہوتى ہے کہ دوسرے اس کى قدر کریں اور اس کا احترام کریں، دوسرے جب اس کا احترام کرتے ہیں تو وہ اسے اپنى بڑائی سمجھتا ہے اور اسے ایک طرح کى قدردانى تصور کرتا ہے، جن ماں باپ کو اپنى اولاد سے محبت ہے انہیں چاہیئے کہ ہمیشہ ان کا احترام ملحوظ رکھیں اور ہمیشہ ان کو اہمیت دیں، بچے کى تربیت میں اس کا احترام اہم عوامل میں سے شمار کیا جاتا ہے،جس بچے کو عزت و احترام میسّر ہو وہ بزرگوار، شریف اور باوقار بنتا ہے، اور اپنے مقام کى حفاظت کے لیے برے کاموں سے بچتا ہے،وہ کوشش کرتا ہے کہ اچھے اچھے کام کرکے دوسروں کى نظر میں اپنے مقام کو اور بھى بڑھائے تا کہ اس کى زیادہ سے زیادہ عزت کى جائے،جس بچے کا ماں باپ احترام کرتے ہوں وہ اپنے عمل میں ان کى تقلید کرتا ہے اور ماں باپ کا اور دوسرے لوگوں کا احترام کرتا ہے،بچہ ایک چھوٹا سا انسان ہے اسے اپنى شخصیت سے پورى محبّت ہے، توہین اور تحقیر سے آزردہ خاطر ہوجاتا ہے،ماں باپ جس بچے کى توہین و تحقیر کرتے ہوں اس کے دل میں ان کے بارے میں کینہ پیدا ہوجاتا ہے اور جلد یا بدیر وہ سرکش اور نافرمان بن جاتا ہے اور ان سے انتقام لیتا ہے، نادان ماں باپ ۔۔کہ بدقسمتى سے جن کى تعداد کم نہیں ۔۔ سمجھتے ہیں کہ بچوں کا احترام ان کى تربیت کے منافى ہے،اور ماں باپ کے شایان شان نہیں کہ وہ اپنے بچوں کا احترام و اکرام کریں، کہتے ہیں کہ اگر ہم نے بچے کا احترام کیا تو وہ بگڑجائے گا،اور پھر ہمارا احترام نہیں کرے گا،بلکہ وہ بچوں سے بے اعتنائی اور ان کى بى احترامى کو تربیت کا ذریعہ شمار کرتے ہیں اس طرح وہ ان کى شخصیت کو کچل دیتے ہیں اور ان کے دل میں احساس کمترى پیدا کردیتے ہیں،جب کہ یہ طریقہ تربیت کے حوالے سے بہت بڑا اشتباہ ہے، اگر ماں باپ بچے کا احترام کریں تو اس سے نہ صرف یہ کہ ان کا مقام بچے کى نظر میں کم نہ ہوگا بلکہ اس طرح بچے اندر بھى بزرگوارى اور وقار کى روح پر وان چڑھے گى،بچہ اسى بچپن سے سمجھنے لگتا ہے کہ ماں باپ اسے ایک انسان سمجھتے ہیں اور اس کى اہمیت کے قائل ہیں، اس طرح سے جو کام معاشرے میں اچھے نہیں سمجھتے جاتے وہ ان سے بچتا ہے، وہ اچھے کام کرتا ہے تا کہ اپنے مقام کو محفوظ رکھے، یہ بات باعث افسوس ہے کہ ہمارے معاشرے میں بچوں کا جس طرح سے احترام ہونا چاہیئے نہیں کیا جاتا اور انہیں خاندان کا ایک باقاعدہ جزء شمار نہیں کیا جاتا، یہاں تک کہ دعوتوں میں بچے ماں باپ کے طفلى ہوتے ہیں انہیں باقاعدہ دعوت نہیں دى جاتى،اور انہیں کسى نچلى جگہ پر یا کمرے کے دروازے کے ساتھ جگہ ملتى ہے اور ان کے لیے باقاعدہ پلیٹ، چمچہ و غیرہ پیش نہیں کیا جاتا،آتے وقت اور جاتے وقت کوئی ان کا احترام نہیں کرتا، گاڑى میں ان کے لیے مخصوص نشست نہیں ہوتى، یا تووہ کھڑے ہوں یا ماں باپ کى گود میں بیٹھیں،محفل میں انہیں بات کرنے کاحق نہیں ہوتا اگر وہ بات کریں بھى تو کوئی ان کى سنتا نہیں، بے احترامى سے بلایا جاتا ہے، میل ملاقات اور بات چیت میں ان سے مؤدبانہ سلوک نہیں کیا جاتا،ان کے لیے سلام خوش آمدید، خداحافظ  اور شکریہ نہیں ہوتا،ان کى خواہش کى طرف کوئی توجہ نہیں کرتا،گھریلو امور میں ان سے مشورہ نہیں لیا جاتا،گھٹیا اور توہین آمیز کام کرنے کے لیے ان سے کہا جاتا ہے۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
نقل از :آئین تربیت
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 August 15