Wed - 2018 August 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187601
Published : 31/5/2017 15:54

رمضان المبارک گناہوں سے دوری کا بہترین موقع ہے:رہبر انقلاب

اس مبارک مہینہ میں انشاء اللہ پوری مشق اور حدیث نفس اور ریاضت کے ذریعہ گناہ کو خود سے دور بھگائیں ۔ اگر گناہ ہم سے دور بھاگ گیا تو پھر آسمانی ملکوت کی جانب پرواز اور عروج کی راہ ہموار اور ممکن ہوجائے گی، پھر انسان اپنے لئے معین معنوی و الٰہی سیر اور پرواز کو انجام دے سکتاہے، لیکن گناہوں کے بوجھ کے ساتھ یہ امر ممکن نہیں ہے اور رمضان کا یہ مہینہ گناہوں سے دوری کیلئے بہترین موقع ہے۔

ولایت پورٹل:ایک نظام اور اسلامی حکومت کی سب سے اہم اچھائی یہ ہے کہ ماحول کو گناہوں سے آغشتہ نہیں ہونے دیتی ہے،طاغوتی نظاموں کی فضا گناہ آلود ہوتی ہے،اگر کوئی گناہ نہ بھی کرنا چاہے تو ایسا لگتا ہے کہ یہ کام اس کے لئے ممکن نہیں ہے اور ساری چیزیں آدمی کو گناہ کی جانب ڈھکیلتی ہیں، لیکن اسلامی نظام میں ایسا نہیں ہے اسلامی نظام میں ماحول گناہ سے آلودہ نہیں ہوتا ہے،مختلف سطح پر اور مختلف محکموں میں گناہگار پائے جاتے ہیں،گوناگوں اختیار کے ساتھ بھی ہے، ایسا نہیں ہے کہ بالکل نہیں ہے، لیکن ممکن ہے کہ یہ گناہ ذاتی جذبہ رکھتا ہو، یعنی انسان کی نفسانی خواہشات اسے گناہ کی جانب مائل و راغب کرتی ہوں،تاہم یہ نظام، ان شیطانی اور طاغوتی نظاموں سے الگ ہوتا ہے کہ جن میں گناہ کو سماجی ترقی کا معیار قرار دیا جاتا ہے،اسلامی نظام میں گناہوں کو نہ صرف یہ کہ ترقی کا معیار نہیں سمجھا جاتا بلکہ ترقی و اقدار کا مخالف اور پستی کا معیار سمجھا جاتا ہے۔
گناہ چاہے کسی کی طرف سے بھی سرزد ہوا ہو یہ نہیں کہنا  چاہیئےکہ چونکہ یہ گناہ فلاں آدمی کی طرف سے سرزد ہوا ہے لہٰذا اس میں کوئی حرج نہیں ہے، یا کوئی برائی نہیں ہے۔ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ گناہ کو پہچاننے کی ضرورت ہے اور گناہگار کو گناہ کے ذریعہ پہچاننا چاہییٔ۔ جس نے بھی گناہ انجام دیا وہ گناہگار ہے، اب چاہے کوئی بھی ہو۔یہ تصور بالکل غلط ہے کہ ہم یہ کہیں کہ چونکہ فلاں آدمی نے یہ کام انجام دیا ہے، اس لئے ہوسکتا ہے کہ جو کررہا ہے ا س میں کوئی حرج نہ ہو ،اگر حرج ہوتا تو وہ انجام نہ دیتا، البتہ اس کو درستی پر محمول کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، بلکہ یہ اچھا اور مستحسن بھی ہے، مؤمن کے ہر کام کو درستی پرمحمول کرنا چاہیئے، البتہ جہاں تک ممکن ہوسکے اس کو خرابی یا بدعنوانی کا لیبل نہیں لگانا چاہیئے،لیکن اگر کسی سے بالکل ہی واضح اور کھلی خلاف ورزی ہوتی ہے تو ایسی صورت میں فرق نہیں پڑتا کہ یہ آدمی کون ہے، کوئی بھی ہو، گناہ تو گناہ ہوتا ہے، بلکہ اگر ممتاز اور اعلیٰ رتبہ افراد گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں تو ان لوگوں کے لئے گناہ کا جرم زیادہ ہی ہوا کرتا ہے،بنا بریں اصل مسئلہ گناہ سے اجتناب کا ہے۔ ہمیں چاہیئےکہ رمضان کے اس مبارک مہینہ میں انشاء اللہ پوری مشق اور حدیث نفس اور ریاضت کے ذریعہ گناہ کو خود سے دور بھگائیں ۔ اگر گناہ ہم سے دور بھاگ گیا تو پھر آسمانی ملکوت کی جانب پرواز اور عروج کی راہ ہموار اور ممکن ہوجائے گی، پھر انسان اپنے لئے معین معنوی و الٰہی سیر اور پرواز کو انجام دے سکتاہے، لیکن گناہوں کے بوجھ کے ساتھ یہ امر ممکن نہیں ہے اور رمضان کا یہ مہینہ گناہوں سے دوری کیلئے بہترین موقع ہے۔
مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ خداوند عالم آپ سبھی عزیز بھائیوں اور بہنوں کو جو یہاں پرموجود ہیں اور پورے ملک اور پوری دنیا میں موجود مسلمان اور مومنین کو یہ توفیق عنایت فرمائے کہ رمضان کے اس مہینہ سے فائدہ اٹھائیں گے اور خود کو الٰہی اخلاق سے مزین کریں گے،کم از کم اس راہ پر قدم رکھیں کہ انسانوں کے اس راہ پر قدم رنجہ ہونے سے بشریت کی سبھی پریشانیاں کم یا مکمل طور پر ختم ہوجائیں گی۔

لوگوں کے مختلف طبقات سے ملاقات کے دوران خطاب۔۱۸؍۰۱؍۱۳۶۹۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 August 15