Tuesday - 2018 Oct. 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187609
Published : 31/5/2017 17:1

بچوں کے سامنے شریک حیات کی برائی؟!

لہذا بچے کے سامنے والدین میں سے کسی ایک کی بے حرمتی اور توہین در حقیقت اس کے احساسات و عواطف کے مرکز اور خود اعتمادی کی محکم فصیل کو منہدم کردینے مترادف ہے،اسی طرح جب والدین میں سے کوئی ایک بچے کے سامنے، دوسرے پر تنقید کرتا ہے تو در حقیقت وہ بچے کے اندر بے احترامی اور والدین کی نافرمانی کے جذبہ کو تقویت پہونچاتا ہے،لہذا کچھ عرصہ کے بعد اس گھر میں نہ تو باپ کا احترام رہے گا اور نہ ہی ماں کسی عزت کی حقدار سمجھی جائے گی۔

ولایت پورٹل:میاں بیوی میں سے ہر ایک، ممکن ہے کسی خاص اخلاقی  عیب کا حامل ہو جو اپنے شریک حیات کی ناراضگی اور افسوس کا سبب قرار پائے۔
ایسے موقع پر سب سے بڑی خرابی یہ کہ میاں بیوی میں سے کوئی ایک ،جب اپنے بچوں کے سامنے ،دوسرے(بیوی یا شوہر )کی برائی کرے
چونکہ ماں باپ کا وجود بچوں کی زندگی ہے،اگر باپ بچے کے لئے محکم پناگاہ اور طاقت کا مرکز ہے تو ماں اس کے احساسات اور جذبات  کی قدرداں۔
لہذا بچے کے سامنے والدین میں سے کسی ایک کی بے حرمتی  اور توہین در حقیقت اس کے احساسات و عواطف کے مرکز اور خود اعتمادی کی محکم فصیل کو منہدم کردینے  مترادف ہے۔
اسی طرح جب والدین میں سے کوئی  ایک بچے کے سامنے، دوسرے پر تنقید کرتا ہے تو در حقیقت وہ بچے کے اندر بے احترامی اور والدین کی نافرمانی کے جذبہ کو تقویت پہونچاتا ہے،لہذا کچھ عرصہ کے بعد اس گھر میں نہ تو باپ کا احترام رہے گا اور نہ ہی ماں کسی عزت کی حقدار سمجھی جائے گی۔
لہذا شادی شدہ افراد کو اس بات کی طرف دھیان دینے کی سخت ضرورت ہے کہ وہ صرف شریک حیات ہی نہیں بلکہ وہ اپنے بچوں کے لئے ماں یا باپ کا عہدہ بھی رکھتے ہیں لہذا شریک حیات کے طور پر بے احترامی اور توہین کہیں دوسرے کردار(یعنی ماں یا باپ ہونے)کی طرف سرایت نہ کرجائے۔
مؤلف:سید مہدی خدائی
ترجمہ:سجاد ربانی





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Oct. 23