Monday - 2018 August 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187634
Published : 6/5/2018 11:10

افطار کے آداب(۱)

امام محمد باقر علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:چونکہ تمہارے اوپر دو واجب کام عاید ہوئے ہیں افطار اور نماز۔ تو پہلے اسے انجام دو جو بہتر ہے اور نماز افضل اور بہتر ہے،اس کے بعد فرمایا:نماز پڑھو اس حال میں کہ روزہ ہو پس وہ نماز روزہ کے ساتھ تمام ہو گی یہ میرے نزدیک محبوب تر ہے۔


ولایت پورٹل:

روزہ کو افطار کرنے کا سب سے پہلا ادب یہ ہے کہ عام حالات میں افطار کو دیر سے نہیں کرنا چاہیئے،چونکہ پیگمبر اکرم(ص) اور آئمہ اطہار(ع) سے بہت ایسی روایات وارد ہوئی ہیں جن میں افطار کا فاصلہ مغرب سے زیادہ ہونا بہتر شمار نہیں کیا گیا ہےچنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
۱۔قال رسول الله‏ صل ى‏الله‏ علیه ‏و ‏آله: لا یَزالُ النّاسُ بِخَیرٍ ما عَجَّلُوا الفِطرَ
ترجمہ:لوگ جب تک افطار میں جلدی کریں گے خیر اور نیکی میں ہیں۔
۲۔قال رسول الله‏ صل ى‏الله‏ علیه‏ و ‏آله: عَجِّلُوا الإِفطارَ و أخِّرُوا السَّحورَ
ترجمہ:افطار کو جلدی کرو اور سحری کو دیر تک کھاؤ۔
۳۔قال رسول الله صلى‏ الله‏ علیه ‏و ‏آله: مِن فِقهِ الرَّجُلِ فی دینِهِ تَعجیلُ فِطرِهِ و تَأخیرُ سَحورِهِ
ترجمہ:انسان کی دینی معرفت رکھنے میں سے ایک یہ ہے کہ جلدی افطار کرتا ہے اور دیر تک سحری کھاتا ہے۔
۲ ۔جبکہ بعض روایات میں اس امر کی بھی تصریح ہوئی ہے کہ پہلے نماز مغرب ادا کرلی جائے اس کے بعد روزہ افطار کیا جائے چونکہ ہمارے لئے ایک وقت میں دو واجب ہیں ہم دونوں کو ایک ساتھ  جمع نہیں کرسکتے تو بہتر یہ ہے کہ جو افضل ہو اس کو غیر افضل پر مقدم کیا جائے اور چونکہ نماز تمام اعمال میں سب سے مقدم ،افضل اور اولی ہے لہذا پہلے نماز مغرب کو پڑھا جائے اور پھر روزہ افطار کیا جائے چنانچہ حدیث میں ارشاد ہوتا ہے:
فی تهذیب الأحكام عن زرارة و فضیل عن الإمام الباقر علیه‏السلام: «فی رَمَضانَ تُصَلّی ثُمَّ تُفطِرُ ، إلاّ أن تَكونَ مَعَ قَومٍ یَنتَظِرونَ الإِفطارَ، فَإِن كُنتَ مَعَهُم فَلا تُخالِف عَلَیهِم و أفطِر ثُمَّ صَلِّ، و إلاّ فَابدَأ بِالصَّلاةِ.»
قُلتُ: ولِمَ ذلِكَ؟ قالَ: «لِأَنَّهُ قَد حَضَرَكَ فَرضانِ: الإِفطارُ وَالصَّلاةُ، فَابدَأ بِأَفضَلِهِما، و أفضَلُهُمَا الصَّلاةُ.»   
ثُمَّ قالَ: «تُصَلّی و أنتَ صائِمٌ فَتُكتَبُ صَلاتُكَ تِلكَ فَتُختَمُ بِالصَّومِ، أحَبُّ إلَیَّ.»   
ترجمہ:تہذیب الاحکام میں زرارہ اور فضیل نے امام باقر علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے کہ فرمایا: ماہ مبارک رمضان میں پہلے نماز پڑھو پھر افطار کرو مگر یہ کہ ایسے افراد کے ساتھ ہو جو افطار کے منتظر ہوں،اگر ان کے ساتھ ہو ان کے عمل کے کے برخلاف عمل نہ کرو۔ افطار کرو پھر نماز پڑھو،ورنہ پہلے نماز بہتر ہے۔میں نے کہا کیوں؟
فرمایا: اس لیے کہ تمہارے اوپر دو واجب کام عاید ہوئے ہیں افطار اور نماز۔ تو پہلے اسے انجام دو جو بہتر ہے اور نماز افضل اور بہتر ہے۔
اس کے بعد فرمایا:نماز پڑھو اس حال میں کہ روزہ ہو پس وہ نماز روزہ کے ساتھ تمام ہو گی یہ میرے نزدیک محبوب تر ہے۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 August 20