Thursday - 2018 Nov 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187653
Published : 3/6/2017 15:10

روزہ انسان کی معنوی ترقی و کمال کا ایک اصلی رکن ہے:رہبر انقلاب

سبھی زمانوں میں انسانوں کی معنوی زندگی کی بنیاد میں جس طرح سے نماز لازمی ہے اور جس طرح سے یہ نماز انسانوں اور خدا کے درمیان معنوی رابطہ کی حیثیت رکھتی ہے اور جس طرح سے زکات بھی لازمی ہے جس سے کہ انسانوں کی مالی تطہیر کے پہلو کا پتہ چلتا ہے، اسی طرح روزہ بھی لازم اور ضروری ہے۔

ولایت پورٹل:ہم یہ بات جانتے ہیں کہ نماز اور زکات، صرف امت اسلامیہ سے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ رسول اکرم(ص) سے قبل ، دیگر انبیائے کرام کے زمانے میں بھی نماز اور زکات کے احکام کا وجود تھا۔ حضرت عیسی سے منقول ہے کہ آپ نے اپنے مخاطبین سے فرمایا:«وَأَوْصَٰنِی بِالصَّلَٰوۃِ وَالزَّکَٰوۃِ مَا دُمْتُ حَیّاً»
ترجمہ:خدا نے مجھے نماز اور زکات کی وصیت کی ہے، قرآن کی دیگر آیتوں سے بھی یہی معنی مستفاد ہوتا ہے، جس پہلی آیت کی میں نے تلاوت کی، اس میں ارشاد فرماتا ہے:نماز اور زکات کی مانند روزہ بھی ان احکام میں سے ہے جو کہ صرف امت اسلامیہ سے مخصوص نہیں ہے، بلکہ سابقہ امتیں اور انبیائے ماسبق بھی روزہ رکھنے پر مأمور تھے۔
اس سے اس حقیقت کی نشاندہی ہوتی ہے کہ سبھی زمانوں میں انسانوں کی معنوی زندگی کی بنیاد میں جس طرح سے نماز لازمی ہے اور جس طرح سے یہ نماز انسانوں اور خدا کے  درمیان معنوی رابطہ کی حیثیت رکھتی ہے اور جس طرح سے زکات بھی لازمی ہے جس سے کہ انسانوں کی مالی تطہیر کے پہلو کا پتہ چلتا ہے، اسی طرح روزہ بھی لازم اور ضروری ہے اور یہ انسانوں کی معنوی ترقی و کمال کے ایک اصلی رکن کی حیثیت رکھتا ہے ورنہ ادوار کے گذرنے اور مختلف ادیان میں تبدیلی کے باعث، یہ اصول ثابت اور جاری نہیں رہ سکتے تھے۔
البتہ مختلف زمانوں اور ادوار سابقہ میں کسی نہ کسی شکل میں دیگر ادیان میں روزہ کا وجود پایاجاتا تھا، لیکن بھوک برداشت کرنا، پیٹ کو خالی رکھنا اور معینہ اوقات میں ہونٹ اور زبان کو کھانے پینے سے محفوظ رکھنا نیز جسمانی لذتوں سے کنارہ کشی اختیار کرنا وغیرہ ایسی خصوصیتیں ہیں جو مختلف ادیان میں موجود تھیں، اس بنا پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ روزہ انسان کی معنوی ترقی وروحانی کمال اور اس کی ہدایت و تربیت میں بنیادی رکن کی حیثیت رکھتا ہے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 22