Monday - 2018 Dec 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187675
Published : 5/6/2017 13:47

امام زمانہ(عج) کی نظرمیں خواتین کے صفات:آیت اللہ جوادی آملی

خواتین، اسلامی معاشرے کا ایک اہم حصہ ہیں اوریہ معاشرے کے آرام وسکون اوراس کی روحانی سلامتی میں بےمثال کردارادا کرتی ہیں اورنیزموجودہ نسل کی اصلاح اورآئندہ نسل کی مضبوطی ان کی اصلاح اورمضبوطی کےمرہون منت ہے۔


ولایت پورٹل:عالم تشیع کے عظیم مرجع تقلید اورمفسرقرآن کریم آیت اللہ جوادی آملی نے اپنی گرانقدرکتاب ( امام مہدی علیہ السلام موجود موعود) میں عصرغیبت میں معاشرے کےمختلف طبقوں کی ذمہ داریوں کی وضاحت کرتے ہوئےامام زمانہ علیہ السلام کی دعا («اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا تَوْفِيقَ الطَّاعَةِ وَ بُعْدَ الْمَعْصِيَةِ» کے پیش نظرلکھا ہےکہ خواتین، اسلامی معاشرے کا ایک اہم حصہ ہیں اور یہ معاشرے کے آرام وسکون اوراس کی روحانی سلامتی میں بےمثال کردار ادا کرتی ہیں اورنیزموجودہ نسل کی اصلاح اورآئندہ نسل کی مضبوطی ان کی اصلاح اورمضبوطی کے مرہون منت ہے۔
ایک ایسی آفت کہ جو معاشرے کےاس اہم حصےکی مفید اوربنیادی کارکردگی میں رکاوٹ بن سکتی ہے اور اس کی پستی اوراس کےانحطاط کا ذریعہ بن سکتی ہے وہ ان صفات کا فقدان ہےکہ امام زمانہ علیہ السلام نے جنہیں مہدوی معاشرے کی خواتین کے شایان شان  قراردیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان صفات سے آراستہ ہونے کی دعا کی ہے: (وَعَلَى النِّسَاءِ بِالْحَيَاءِ وَالْعِفَّةِ)
الف۔ (حیاء): حیا کا مطلب ہرقسم کی آلودگی، برائی اورعیب کےمقابلے میں نفس کی حفاظت کرنا ہے،منتظرخواتین، اللہ تعالیٰ کےاسمائے جمال کی مظہریت کی امانتدارہیں،انہیں اس الہی امانت کی حفاظت کرنی چاہیئےاور انہیں ظاہری اور باطنی شیاطین کے وسوسوں سےاپنی حفاظت کرنی چاہیئےکہ جو شریعت، عقل اور اخلاق کی حریم کو توڑکراس عظیم الہی امانت کو ضائع کرنے کی کوشش کرتے ہیں،تاکہ وہ شیطان کے جال میں گرفتار نہ  ہوں کیونکہ قرآن کریم اوراہل بیت علیہم السلام کی خالص تعلیمات کے خلاف ہربات اور ہرعمل انسان کی روح کے تاریک اور آلودہ ہونےکا باعث بنتا ہے اور یہ شیطان کا جال شمارہوتا ہے: (وَعَلَى النِّسَاءِ بِالْحَيَاءِ)۔
ب۔ (عفت وپاکدامنی):اللہ کی آخری حجت کی منتظرخواتین، عفت وپاکدامنی کی حریم کی محافظ ہیں،منتظرخواتین کی ایک بالاترین فضیلت خواہشات نفسانی سے اپنے نفس کی حفاظت کرنا ہے،ہمارے دور کی ماڈرن جاہلیت خواہشات نفسانی کی ترویج کرتی ہے اور انسان کے لیے شہوت کو زینت بنا کر پیش کرتی ہیں، لیکن منتظرخواتین کے لیے بہترہےکہ وہ اپنی پاکدامنی کی حفاظت کرکے اپنی روح کی بلندی کی راہ ہموارکریں اورنفسانی اورشیطانی وسوسوں کی پیروی سےاجتناب کریں اوراپنی روح اور جان سے زیادہ کسی زینت اوراپنے وجود کے الہی گوہرکی حفاظت سے زیادہ کسی اور عزت اورافتخارکونہ پہچانیں:(وَالْعِفَّةِ)۔
البتہ ان دوصفات کو منتظرخواتین کی ذمہ داریوں میں سےشمارکرنےکا یہ مطلب نہیں ہےکہ یہ فضائل فقط خواتین سےمختص ہیں بلکہ ہرشخص کے لیے بہترہے کہ وہ حیاء اورپاکدامنی سے مزین ہو اگرچہ خواتین کے لیے ان صفات سے آراستہ ہونا زیادہ ضروری ہیں۔
شبستان


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Dec 17