Tuesday - 2018 Oct. 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187681
Published : 5/6/2017 15:8

وفات ام المؤمنین خدیجہ(س) پر خصوصی پیش کش:

حضرت خدیجہ(س)، پہلی مسلمان خاتون

جناب خدیجہ {س} نے اس زمانہ میں یہ کلمات زبان پر جاری کئے اور رسول خدا {ص} پر ایمان لائیں، جب معاشرہ میں سحر و جادو اور کہانت جیسے خرافات کا رواج تھا،یہ عظیم خاتون رسول خدا {ص} سے کوئی سوال کئے بغیر اور کسی قسم کے شک و شبہہ کے بغیر، بدون تاخیر خداوند سبحان اور رسول خدا {ص} کی رسالت پر ایمان لائیں اور اپنے لئے پہلی مسلمان خاتون کا لقب حاصل کیا اور اس طرح وہ پہلی ام المؤمنین { مومنین کی ماں} کے عنوان سے پہچانی گئیں-


ولایت پورٹل:رسول خدا{ص} ہرسال ایک مدت تک گھر اور معاشرہ کو ترک کرکے عبادت کرنے کے لئے غار حرا میں چلے جاتے تھے،ان کی عمر مبارک چالیس سال تھی کہ رجب کے مہینہ میں جناب خدیجہ{س} سے وداع ہو کر عبادت کے لئے غار حرا کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں پر کئی دن عبادت میں گزارنے اور اپنے پروردگار سے راز و نیاز کرنے کے بعد گھر لوٹے،جب آپ{ص} گھر میں داخل ہوئے، آپ {ص} کے سر اور چہرے پر پسینہ جاری تھا اور آپ کا رنگ متغیر ہو چکا تھا، آپ {ص} کا بدن کانپ رہا تھا اور شدید تھکاوٹ محسوس کر رہے تھے، اسی حالت میں جناب خدیجہ {س} سے مخاطب ہوکر فرمایا:مجھے ڈھانپ دو-
جناب خدیجہ {س} نے بستر ڈالا اور پیغمبر اکرم {ص} کچھ دیر تک لیٹے اور اس کے بعد اچانک بسترے سے اٹھ کر بیٹھ گئے۔
جناب خدیجہ {س} نے احساس کیا کہ کوئی حادثہ پیش آیا ہے پیغمبر اکرم {ص} نے جب سکون کا سانس لیا، تو جناب خدیجہ {س} نے پوچھا:کیا بات ہے؟
پیغمبر اکرم {ص} نے جواب میں فرمایا:جب میں غار سے باہر نکلا تاکہ گھر کی طرف روانہ ہو جاؤں، ابھی پہاڑ سے نیچے نہیں اترا تھا کہ اچانک میں نے ایک آواز سنی جس نے مجھے خطاب کرکے کہا:«یا محمد؛ انت رسول اللہ و انا جبرئیل»
ترجمہ:یا محمد {ص} آپ رسول خدا ہیں اور میں جبرئیل ہوں۔
میں نے اپنے بائیں جانب نظر ڈالی، کوئی بھی نہیں تھا، پھر دائیں جانب دیکھا، لیکن کوئی نظر نہیں آیا اپنے پیچھے کی طرف نظر ڈالی کسی کو نہیں دیکھا،میں نے جب سر کو اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا تو جبرئیل ایک مرد کی شکل میں کھڑے تھے، اور انہوں نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا:«یا محمد؛ انت رسول اللہ و انا جبرئیل»
یہ خبر سننے کے بعد، جناب خدیجہ پہولے نہ سمائیں، اور ان کے تن بدن میں خوشی و شادمانی کی لہر دوڑ گئی، جیسے کہ انھیں نئی جان مل گئی، ایسا لگتا تھا کہ وہ برسوں سے اس خوشخبری کو سننے کے لئے منتظر تھیں،بدون تاخیر کہا:«یابن عم! انت رسول الله، بابی انت و امی، انت یا رسول الله انی اصدقک اؤمن بالله و بک رسولا»
ترجمہ:بیشک، آپ اللہ کے رسول ہیں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، میں آپ {ص} کی تصدیق کرتی ہوں، میں خدا اور آپ {ص} کو اللہ کا رسول مان کر ایمان لاتی ہوں-
جناب خدیجہ {س} نے اس زمانہ میں یہ کلمات زبان پر جاری کئے اور رسول خدا {ص} پر ایمان لائیں، جب معاشرہ میں سحر و جادو اور کہانت جیسے خرافات کا رواج تھا،یہ عظیم خاتون رسول خدا {ص} سے کوئی سوال کئے بغیر اور کسی قسم کے شک و شبہہ کے بغیر، بدون تاخیر خداوند سبحان اور رسول خدا {ص} کی رسالت پر ایمان لائیں اور اپنے لئے پہلی مسلمان خاتون کا لقب حاصل کیا اور اس طرح وہ پہلی ام المؤمنین { مومنین کی ماں} کے عنوان سے پہچانی گئیں-
ایک عرب مصنف، بنت الشاملی کا کہنا ہے کہ:کیا آپ خدیجہ {س} کے علاوہ کسی دوسری عورت کو پہچانتے ہیں جس نے عشق و محبت اور پائیدار ایمان سے، کسی شک و شبہہ کے بغیر اور خدا اور پیغمبر خدا {ص} کے بارے میں اپنے دائمی اعتقاد میں ذرہ برابر کمی واقع نہ ہوتے ہوئے، غار حرا سے شروع ہونے والی الہی دعوت کو قبول کیا ہو؟
چند لمحات کے بعد حضرت علی {ع} گھر میں داخل ہوئے،رسول خدا {ص} کی نظر مبارک جوں ہی علی {ع} پر پڑی، آپ {ص} نے انھیں اسلام قبول کرنے اور خدائے وحدہ لاشریک پر ایمان لانے کی دعوت دی، علی {ع} نے بلا تاخیر رسول خدا {ص} کی دعوت قبول کی اور ایمان لائے،اس طرح تاریخ اسلام میں علی {ع} پہلے مسلمان مرد کے عنوان سے مشہور ہوئے،تاریخ کی بعض کتابوں میں آیا ہے کہ، جب علی {ع} ایمان لائے، اس وقت رسول خدا {ص} مسرت و شادمانی میں اس قدر ہنسے کہ ان کے دندان مبارک صاف دکھائی دیتے تھے۔
اس کے بعد زید بن حارثہ تاریخ اسلام کے تیسرے مسلمان کے عنوان سے ایمان لائے، اور اس طرح لوگ کچھ کچھ وقفہ کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہوتے گئے۔

ترتیب و پیشکش: عبداللہ علی بخشی



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Oct. 23