Wed - 2018 Dec 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 187708
Published : 6/6/2017 15:40

توریت و انجیل میں حضرت خدیجہ(س) کی صفات کا بیان

صوفیہ نے تفسیرنورالمنصورمیں ذکرکیا ہےکہ انجیل میں حضرت عیسی علیہ السلام کو حضرت خدیجہ کی صفات کی وحی کی گئی تھی کی آخرالزمان میں ایک نبی آئے گا کہ جس کی نسل ایک بابرکت خاتون سے چلے گی اور اس کی ایک بیٹی ہوگی جس کا نام فاطمہ ہوگا اورفاطمہ کے حسن اورحسین دو بیٹے ہوں گے،توریت میں بھی حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی صفات بیان کی گئی ہیں۔

ولایت پورٹل:کتاب ملیکہ بطحاء کےمؤلف مقداد تابش ۱۰ماہ رمضان کو حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی وفات کی مناسبت سےاسلام کی اس عظیم خاتون کی شخصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئےکہا ہےکہ تاریخ کےمطابق حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا عالمہ خواتین میں سے شمارہوتی تھیں اوروہ سابقہ ادیان اورآخری پیغمبرکی خبروں سےمکمل آگاہ تھیں اورآپ کا شجرہ نسب چوتھی نسل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملتا ہے،آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں سےشمارہوتی ہیں۔
انہوں نےمزید کہا ہےکہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے والدین قریش کے بزرگوں میں سے تھے اور وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت کے پیروکارتھے اورجس طرح آج ہم آخرالزمان اورامام زمانہ علیہ السلام کے ظہورکے بارے میں معلومات رکھتے ہیں اور اس دورکی  خصوصیات اور علامات کے بارے میں جانتے ہیں حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے دورکے یہود ونصاریٰ بھی پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ظہورکےمنتظر تھے یہی وجہ ہے کہ یہودیوں کی کچھ تعداد مدینہ میں جمع ہوگئی تھی۔
تابش نےکہا ہےکہ علامہ مجلسی نقل کرتے ہیں کہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا ایک محفل میں تشریف فرما تھیں کہ ایک یہودی عالم کا وہاں سےگزرہوا تو اس نےان سےکہا کہ عنقریب اس شہر میں آخری پیغمبرظہورکریں گے اورحضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی طرف اشارہ کرکےکہتا ہے کہ خوش قسمت ہے وہ عورت کہ جو اس پیغمبرکی زوجہ بنےگی،لہذا حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا پیغمبرخاتم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے ظہورکی منتظرتھیں،یہاں تک کہ ایک مرتبہ جب آپ اور ایک یہودی ایک مقام پرموجود تھے تو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہاں سےگزرہوا تو اس یہودی نے حضرت خدیجہ سےکہا کہ اس مرد کو آوازدیں تاکہ میں اس کے کندھوں کے درمیان میں دیکھوں شاید وہ آخری نبی کی علامات رکھتا ہو تو حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے کہا کہ یہ ایک شریف اور عظیم مرد ہے اور اگر اس کے چچاؤں نےدیکھ لیا کہ ایک یہودی اس کے قریب ہوا ہے تو وہ سختی سے پیش آئیں گے۔
اس مؤلف نےمزید کہا ہےکہ آخرکار یہ یہودی پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک جاتا ہے اور آپ میں نبوت کی علامات کا مشاہدہ کرتا ہے اورحضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا سے کہتا ہے کہ یہ شخص آخری نبی ہے اورپیشین گوئی کرتا ہےکہ آپ اس کی بیوی بنیں گی۔
انہوں نےکہا ہےکہ صوفیہ نے تفسیرنورالمنصورمیں ذکرکیا ہےکہ انجیل میں حضرت عیسی علیہ السلام کو حضرت خدیجہ کی صفات کی وحی کی گئی تھی کی آخرالزمان میں ایک نبی آئے گا کہ جس کی نسل ایک بابرکت خاتون سے چلے گی  اور اس کی ایک بیٹی ہوگی جس کا نام فاطمہ ہوگا اورفاطمہ کے حسن اورحسین دو بیٹے ہوں گے،توریت میں بھی حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی صفات بیان کی گئی ہیں،ان مطالب سےمعلوم ہوتا ہےکہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نےاس وجہ سے پیغمبراکرم  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی نہیں کی تھی کہ آنحضرت نے جوانی میں ان کے لیے تجارت کی تھی اور تجارت میں انہوں نے امانتداری کا ثبوت دیا تھا کیونکہ قریش اور مکہ کے تمام بزرگوں منجملہ ابوجہل اور ابوسفیان وغیرہ ان سے شادی کے خواہشمند تھے لیکن حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے ان تمام افراد کو منفی جواب دیا تھا۔
تابش نےمزید کہا ہے کہ انتہائی تعجب کی بات یہ ہےکہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے بارے میں نقل ہوا ہےکہ آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلےعرب کے دو افراد سے شادی کی ہوئی تھی کہ جن کا تعلق بنی تمیم کے قبیلے سے تھا کہ جو معاشرے کے نچلے طبقے کے افراد تھے،جب کہ آپ نے قریش کے معروف اور اونچے طبقےکے افراد کو منفی جواب دیا ہوا تھا، لہذا یہ محض جھوٹ ہے اورحقیقت یہ ہے کہ آپ ایک عالمہ کے عنوان سے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منتظرتھیں۔
شبستان
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 19